صہیونی حکام کا مسجد ابراہیمی پر دھاوا؛ مقاصد کیا تھے؟




الخلیل میں موجود مسجد ابراہیمی پر یہودی آباد کاروں کے دھاوے اور اسرائیلی ریاستی لیڈر کی طرف سے مسجد کی بے حرمتی یہودیوں کے غلبے اور بالا دستی کو مستحکم کرنے کی مذموم کوشش ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور صدر رئوف ریفلین نے فلسطین کی تاریخی مسجد ابراہیمی میں دھاوا بولا۔ صہیونی ریاست کے نام نہاد لیڈروں کی طرف سے اس اشتعال انگیز اور اسلام دُشمن اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اور فلسطین، عرب دنیا اور عالم اسلام کی طرف سے بھی مسجد ابراہیمی کی بے حرمتی کی شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ نیتن یاھو اور روئف ریلفین کے مسجد ابراہیمی پر دھاوے کے موقع پر قابض صہیونی فوج اور پولیس نے الخلیل شہر اور مسجد ابراہیمی کو فوجی چھائونی میں تبدیل کردیا تھا۔ یہ کھلم کھلا اشتعال انگیزی ہے۔

فلسطینی وزارت تعلیم کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاھو کے دورے کی وجہ سے الخلیل میں ۱۲ اسکولوں کو بند کیا گیا۔ فلسطینیوں نے اسے شرمناک اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ مسجد ابراہیمی سنہ ۱۹۹۴ء سے صہیونی ریاست کے زیرتسلط ہے جب کہ پرانے الخلیل شہر میں ۴۰۰ یہودی آباد کار آباد ہیں۔ ان کی سیکیورٹی کے لیے ۱۵۰۰ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جب کہ پورے غرب اردن میں مجموعی طور پر سات لاکھ یہودی آباد بسائے گئے ہیں۔

حدود سے صریح تجاوز

اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ نے مسجد ابراہیمی پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور صدر رئوف ریفلین کے دھاوے حدود سے کھلا تجاوز، عالم اسلام کے مشاعر اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی منظم کوشش اور مسلمانوں کے ایک تاریخی دینی مقام کی فاش بے حرمتی ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ شکست خوردہ نیتن یاھو دراصل صہیونی انتہا پسندوں سے ووٹ کے حصول کے لیے فلسطین میں مسلمانوں کے مقدس مقام کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ الخلیل شہر میں  مسلمانوں کی تاریخی مسجد میں گھس کر نام نہاد مذہبی رسومات کی ادائی مقدس مقام کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ الخلیل اور القدس شہر فلسطین کے انتہائی معتبر، مقدس اور تاریخی اہمیت کے حامل شہر ہیں اور اسرائیل ان دونوں تاریخی اسلامی شہروں کا اسلامی تشخص پامال کرنا چاہتا ہے مگر فلسطینی قوم صہیونی دشمن کو اس کی اجازت ہرگز نہیں دے گی۔

یہودی غلبے کو مضبوط کرنے کی مذموم کوشش

دوسری جانب فلسطین میں اسلامی مسیحی سپریم کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حنا عیسیٰ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم اور صدر کے مسجد ابراہیمی پر دھاوے مقدس مقام کی کے کھلی بے حرمتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الخلیل میں موجود مسجد ابراہیمی پر یہودی آباد کاروں کے دھاوے اور اسرائیلی ریاستی لیڈر کی طرف سے مسجد کی بے حرمتی یہودیوں کے غلبے اور بالا دستی کو مستحکم کرنے کی مذموم کوشش ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین پر اپنی مذہبی بالا دستی قائم کرنے کے لیے مسجد ابراہیمی پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونی تحریک ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطین کے اسلامی اور مسیحی مقامات پر اپنا قبضہ قائم کرنا اور اسے وسعت دینا چاہتی ہے۔

مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر حفظی ابو اسنینہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور اسرائیلی صدر روئف ریفلین کیا مسجد ابراہیمی پر دھاوا کھلی اشتعال انگیزی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳