سعودی عرب میں قید فلسطینیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کا انکشاف




انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم نے سعودی عرب میں نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر حراست میں لینے کے بعد غائب کیے گئے فلسطینیوں کو سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یورو مڈل ایسٹ آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے جمعہ کے روز سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان درجنوں فلسطینیوں کے بارے میں معلومات کو فوری طور پر منظرعام پر لائے جنہیں مملکت کے اندر سے اٹھا کر غائب کردیا گیا ہے۔ ان فلسطینیوں پر کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔ اگران پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیاجانا چاہیے ورنہ انہیں رہا کیا جائے۔

جنیوا میں قائم آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے پاس سعودی عرب میں لاپتا کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد کےقطعی اعدادو شمار نہیں لیکن اس نے قریبا ۶۰ افراد کے نام موصول کیے ہیں ، جبکہ سعودی عرب میں فلسطینی برادری کے اندر تخمینے کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

میں وضاحت کی گئی ہے  تنظیم کو ۱۱ فلسطینی کنبوں کی شہادتیں اور  دستاویزات ملی ہیں جن کے بچوں کو حالیہ مہینوں میں سعودی عرب میں  گرفتار کیا گیا یا جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا۔ ان میں طلباء، رہائشی ، ماہرین تعلیم اور تاجر شامل ہیں۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق فلسطینی خاندانوں کا کہنا ہے سعودی حکام نے انہیں بغیر کسی الزام کے بیرونی دنیا سے الگ تھلگ کردیا یا مجاز اتھارٹی (پبلک پراسیکیوشن) کے سامنے نہیں لایا گیا  جبکہ ان کے لواحقین سے رابطہ کرنے یا اپنے وکیلوں سے بات چیت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

آبزرویٹری میں مواصلات اور انفارمیشن آفیسر سیلیان یشارنے کہا کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینویں کی جبری گم شدگی بھی ایک ایسا ہی غیرانسانی اور سنگین معاملہ جس نے سعودی عرب کی سیاہ کاریوں میں اضافہ کیا ہے۔

الجزائر کے ایک شہری نے سعودی قید سے رہائی کے بعد بتایا کہ دوران حراست ‘ذھبان’ نامی حراستی مرکز میں فلسطینی قیدیوں کو غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سابقہ زیر حراست  جو گذشتہ ہفتے سعودی عرب سے رخصت ہوئے تھےنے بتایا کہ  “جیلر نظربندوں کو نیند سے روک رہے تھے۔ بیماروں کو کسی قسم کی طبی معاونت یا علاج کی سہولت نہیں دی جا رہی۔ حراست میں لیے گئے کئی فلسطینی بوڑھے ہیں۔

یہاں تک کہ جیل کے اندر فلسطینی قیدیوں کو گندا اور بدبودار کھانا دیا جاتا ہے۔ انہیں گندے تھیلوں میں کھانا دے کر ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔

ساحلی شہر جدہ کی حدود سے ۲۰ کلومیٹر دور ساحل پر ایک چھوٹے اور ویران گاؤں میں قائم جیل “ذھبان” میں سرکاری حکام ہزاروں قیدیوں کو سیاسی اور انسانی حقوق اور “دہشت گردی” اور تشدد کے معاملات میں قید رکھے ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی آبزرویٹری نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں محکمہ پاسپورٹ کے جائزہ کے دوران گذشتہ ماہ کے اوائل میں مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک شہری  انجینیئر جس کے خاندان کی فرضی شناخت’ اے ۵′ سے کی گئی ہے کے خاندانوں میں سے ایک  بیٹے سے رابطہ ختم کرچکے ہیں۔

اہل خانہ کے بیان کے مطابق ، اس پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور اس کے بیٹے کے دوست  جو ایک سعودی کمپنی میں کام کرتے ہیں کو اس  کے بارے میں سوال جواب کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

‘اے ۵’  خاندان کی اہلیہ نے کہا میری سب سے بڑی تکلیف میرے شوہر ہیں۔ ہمیں نہیں پتا کہ وہ سعودی عرب میں زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ اس کی گم شدگی سے میرے بچوں کے ساتھ ساتھ اس کے والدین ، بھائیوں اور بہنوں کے درد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یوروومیڈ آبزرویٹری نے بتایا کہ فلسطینی ‘بی ۷’  کا کنبہ سعودی عرب میں لاپتہ ہونے کی ایک اور مثال ہے۔ جولائی میں اس نے اپنے بیٹے سے رابطہ ختم کردیا تھا ، اور اس کے بعد سے حکام سے اس کے بارے میں انکشاف کرنے کی بار بار اپیلوں کے باوجود اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

اہل خانہ کے بیان کے مطابق اس کا بیٹا اسرائیلی قبضے کی جیلوں سے رہائی کے بعد سعودی عرب چلا گیا تھا۔ اس نے سعودی عرب میں یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی اور وہاں شادی کرلی  اور پھر وہ سعودی عرب میں ایک کمپنی میں ملازمت کرنے چلا گیا۔

سعودی حکام نے جولائی میں ایک ۶۰ سالہ فلسطینی تاجر ، جو کئی دہائیوں سے جدہ میں مقیم تھا کو گرفتار کیا۔

انٹرنیشنل آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے ان کے ایک بیٹے کے حوالے سے بتایا حکام نے اس کی رقم ضبط کرلی اور کنبہ کے افراد کو خاموشی کی دھمکی دی اور ان کے والد کی گرفتاری کو بے نقاب کرنے کے خوف سے سعودی عرب چھوڑنے سے روک دیا۔

ان معاملات میں سے ایک فلسطینی نژاد اردن کی قومیت والا خاندان ہے جس جو کچھ دیگر افراد کے ساتھ حج کرنے نکلا تھا۔ اردنی نژاد فلسطینی کو سعودی عرب میں گرفتارکرلیا گیا۔ خاتون نے بتایا کہ سعودی حکام نے اس کے شوہر کو حراست میں لینے کے بعد ۹ اگست کو اسے ملایا تھا اور اس کے بعد اس کے بارے میں کوئی اتا پتا نہیں۔

یوروومیڈ آبزرویٹری نے سعودی عرب کی حکومت کو انصاف کے تقاضوں کی صریح خلاف ورزی کا الزام عاید کیا۔

یورومیڈ آبزرویٹری نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت جب تک ریاست سے متعلقہ شخص کے بارے میں میں انکشاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک لاپتہ ہونے کا جرم برقرار رہتا ہے۔ “لہذا ، سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کو ملک  میں ایگزیکٹو حکام کو فوری طور پر ان درجنوں فلسطینیوں کے بارے میں آگاہی کا حکم دینا چاہیے جو غائب کردیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی انسانی حقوق آبزرویٹری نے سعودی بادشاہ سے سیکیورٹی فورسز کے ذریعے لاپتہ ہونے اور بد سلوکی کی دیگر اقسام کے خلاف استعمال کیے جانے والے سفاکانہ طریقوں پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ، جبکہ عالمی برادری اور سعودی عرب کے مغربی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی سعودی عرب میں بےگناہ قید کیے گئے تمام افراد کی رہائی کے لیے ریاض پردبائو ڈالیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳