اسرائیلی انتخابات اور نیتن یاہو کی چالیں




نتین یاہو کے سامنے اس بار انتخابات میں کامیابی کے لیے شرائط بالکل فراہم نہیں تھے لہذا انہوں نے ووٹ بٹورنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلی ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ ان کی بعض یہ چالیں الٹا ان کے گلے پڑ گئیں اور حتیٰ اس بات کا باعث بنیں کہ مقبوضہ فلسطین میں ان کی گزشتہ مقبولیت بھی خطرے میں پڑ جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی شیطانی چالیں کس قدر موثر واقع ہوتی ہیں اور کیا ایک مرتبہ پھر وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہوتے ہیں یا پھر ان چالوں میں ناکام ہو کر جیل کی سلاخوں کے پییچھے جاتے ہیں؟



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: سال میں دوسری مرتبہ آج اسرائیل میں کینسٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نیتن یاہو اس انتخابات میں اکثریت حاصل کر ایک مرتبہ پھر صہیونی ریاست کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہو پائیں گے یا نہیں؟ اگر انتخابات میں کامیابی کے لیے ان کی جد وجہد اور انتھک کوششوں کی طرف نگاہ دوڑائی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس انتخابات میں کامیابی کے لیے ہر طرف ہاتھ پیر مارے ہیں اس لیے کہ جیسا کہ اکثر تجزیہ نگاروں کا کہنا بھی ہے کہ نیتن یاہو کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں یا انتخابات میں کامیابی یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی۔ اگر نیتن یاہو اس الیکشن میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پاتے تو ان پر سالہا سال سے چل رہے مالی گھوٹالوں کے مقدمے انہیں بآسانی جیل میں دھکیل دیں گے۔ لہذا جیل کی سزا سے بچنے کے لیے انہوں نے گزشتہ عرصے میں انتھک کوشش کی ہے کہ انتخابات میں کامیابی حاصل کریں، ذیل میں غیرسنجیدہ یا سنجیدہ ان اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو انہوں نے اس عرصے میں انجام دیئے ہیں:
عراق، شام اور لبنان پر حملہ
گزشتہ ہفتوں اسرائیل نے عراق میں حشد الشعبی کے ٹھکانوں اور لبنان میں حزب اللہ کے میڈیا سینٹر کو حملوں کا نشانہ بنایا اور پھر شام پر بھی کئی ایک میزائل فائر کئے جس کی وجہ سے حزب اللہ لبنان کے دو افراد نے جام شہادت نوش کیا۔
انتخابات کے دنوں میں تین ممالک کو ایک ساتھ حملوں کا نشانہ بنانا صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک ڈراما رچانا تھا اس لیے کہ ان حملوں کے بعد اسرائیل میں جو نیتن یاہو کے خلاف ایک فضا بن چکی تھی کہ وہ ڈرپوک لیڈر ہیں اور حزب اللہ اور حماس سے سخت ڈرتے ہیں اس مخالف فضا کو کم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن نیتن یاہو کو لینے کے دینے پڑ گئے حزب اللہ نے دندان شکن جواب دینے کی دھمکی دے کر ایک ہفتے تک پورے اسرائیل میں تہلکا مچا دیا اور سب کی نیندیں حرام کر دیں اور آخر کار معمولی جواب دے کر یہ کہہ دیا کہ ہم فی الحال جنگ چھیڑنا نہیں چاہتے۔
مغربی کنارے کا مقبوضہ فلسطین سے الحاق
نیتن یاہو نے اپنی انتخاباتی مہم چلاتے ہوئے اس بات کا وعدہ بھی دے دیا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ مغربی کنارے کو مقبوضہ فلسطین سے ملحق کر دیں گے۔ نیتن یاہو کا یہ نعرہ صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے بھی تصور کیا جا سکتا ہے اس لیے کہ انتہا پسند یہودی مغربی کنارے کو ارض موعود کا حصہ جانتے ہیں اور نیتن یاہو کے اس وعدے کے بعد وہ ان کے قریب آ چکے ہیں۔ لیکن کیا وہ اپنے اس وعدے پر پورا اترتے ہیں یہ وقت کی بتائے گا۔
غزہ میں جنگ کو ہوا دینا
چونکہ ملت فلسطین کے خلاف جنگ کا طبل بجانا تمام صہیونی امیدواروں کے نزدیک ووٹ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے اس لیے نیتن یاہو نے بھی اس آپشن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور انہوں نے گزشتہ دنوں غزہ کی پٹی پر چند ایک راکٹ فائر کر کے جنگی ماحول بنا کر صہیونیوں کو قانع کرنے کی کوشش کی کہ وہ انتخابات میں اکثریت آراء حاصل کرنے کی صورت میں غزہ کو خاک و خوں میں ملا سکتے ہیں لیکن صہیونیوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ غزہ میں مزاحمتی تحریکیں گھی پی کر سو نہیں رہی ہیں بلکہ حماس اور جہاد اسلامی منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
پوٹین کے ساتھ ملاقات
روسی صدر پوٹین دنیا کے ایک طاقتور سیاستدان سمجھے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ قریبی تعلقات ایک ملک کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی علامت ہے۔ نیتن یاہو نے اس حربے کا استعمال بھی کرتے ہوئے گزشتہ دنوں وہائٹ ہاوس میں ایک کانفرنس کے دوران پوٹین سے ملاقات کی اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کی گہرائی کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور اپنے حلیفوں پر یہ جتانے کی کوشش کی کہ وہ امریکہ کے علاوہ دنیا کی دوسری بڑی طاقت روس کے ساتھ بھی گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔
نیتن یاہو نے نہ صرف نیویارک میں پوٹین کے ساتھ ملاقات کو کافی نہیں سمجھا بلکہ چند روز قبل ان سے دوبارہ ملنے کے لیے روس بھی پہنچ گئے اور ان کو اسرائیل کا دورہ کرنے پر راضی کر کے اپنی خارجہ پالیسی کی مضبوطی کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔
ایران کے جوہری معاہدے کی شکست کا ڈھنڈورا پیٹنا
نیتن یاہو نے امریکہ کو ایران کے ایٹمی معاہدے سے نکلوا کر بزعم خود بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی کہ گویا وہ ایران کے ایٹمی طاقت بننے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ قرار پائے اور انہوں نے ایران کو ایٹمی اسلحہ بنانے سے روک دیا جبکہ ایٹمی معاہدے کے شکست پا جانے سے اگر کوئی نقصان ہوا ہے تو وہ امریکہ و اسرائیل کو ہی ہوا ہے اس لیے کہ ایران نے جوہری توانائی کے تمام پلانٹس کو دوبارہ تیزی کے ساتھ فعال کر دیا ہے اور اپنی جوہری سرگرمیاں تیزی کے ساتھ شروع کر دی ہیں اور نتین یاہو کے منصوبے پر پانی پھیر دیا ہے۔
امریکہ کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ
نیتن یاہو کو انتخابات میں کامیاب کرانے کی چھٹی کوشش ان کے یار غار ڈونلڈ ٹرمپ نے کی انتخابات سے ٹھیک دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے خبر دی کہ امریکہ اور صہیونی ریاست کے درمیان ایک نیا فوجی معاہدہ انجام پایا ہے جس کے تحت دونوں ممالک دفاعی میدان میں ایک دوسرے کا تعاون کریں گے۔ نیتن یاہو نے اس حساس موقع پر اپنے رفیق کی طرف سے دئے گئے اس تحفہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ میں اس سلسلے میں ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کو انتخابات کے بعد جاری رکھوں گا۔
خلاصہ
نتین یاہو کے سامنے اس بار انتخابات میں کامیابی کے لیے شرائط بالکل فراہم نہیں تھے لہذا انہوں نے ووٹ بٹورنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلی ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ ان کی بعض یہ چالیں الٹا ان کے گلے پڑ گئیں اور حتیٰ اس بات کا باعث بنیں کہ مقبوضہ فلسطین میں ان کی گزشتہ مقبولیت بھی خطرے میں پڑ جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی شیطانی چالیں کس قدر موثر واقع ہوتی ہیں اور کیا ایک مرتبہ پھر وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہوتے ہیں یا پھر ان چالوں میں ناکام ہو کر جیل کی سلاخوں کے پییچھے جاتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳