لبنان یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ سے خیبر کی خصوصی گفتگو;

مزاحمتی محاذ پہلے سے کہیں زیادہ ہے منظم اور طاقتور/ مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کی ملی شکست




مزاحمت نے دشمن کے مقابلے میں استقامت اور پائیداری کے ذریعے میدان نبرد میں بہت ساری کامیابیاں بھی حاصل کر لی ہیں۔ یمن میں جارحین اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے، شام میں بھی دشمن کا منصوبہ شکست سے دوچار ہوا، عراق میں حشد الشعبی ایک طاقتور محاذ بن کر سامنے آئی ہے۔ لبنان میں بھی حزب اللہ کی طاقت اسرائیل کے مقابلے میں واضح ہے۔ اس بنا پر یہ بات طے شدہ ہے کہ مزاحمتی محاذ پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور طاقتور ہو چکا ہے اور یہ دشمن کے لیے بہت بڑا پیغام ہے بلکہ علاقے میں اس کی مکمل شکست کی دلیل ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ مہینوں مزاحمتی محاذ جیسے شام کے صدر جمہوریہ بشار الاسد، فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے رہنماوں، یمن کی اسلامی تنظیم انصار اللہ کے ترجمان اور پھر شب عاشور کو عراق سے مقتدیٰ صدر نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای سے ملاقات کی اور ادھر شب عاشور کو سید حسن نصر اللہ نے بھی یہ اعلان کر دیا کہ ہم حسین وقت کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت مزاحمتی محاذ اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ ایک مرکز پر متحد ہو چکا ہے۔
اسی موضوع کے پیش نظر خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے نامہ نگار نے لبنان یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ “ڈاکٹر طلال عتریسی” سے گفتگو کی ہے جو قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں؛
۔ آپ کی نگاہ میں مزاحمتی محاذ کی موجودہ صورتحال کیا ہے اور اس کے رہنما کس قدر آپس میں متحد اور منظم ہیں اور دشمنوں کے لیے ان کا کیا پیغام ہے؟
مزاحمتی محاذ میں حالیہ مہینوں کافی زیادہ ہم آہنگی اور یکجہتی محسوس ہوئی ہے خاص طور پر جب فلسطین کی اسلامی عسکری تنظیم حماس بھی اس محاذ کی طرف پلٹ آئی ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ مزاحمتی محاذ کی پالیسوں کی پابندی کرے گی اور اگر مزاحمتی محاذ کے کسی ایک عضو پر حملہ ہوتا ہے تو دیگر اعضا اس کا ساتھ دیں گے۔ دوسری جانب سے یمن نے بھی اشکارا طور پر خود کو مزاحمتی محاذ سے جوڑ دیا ہے۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مزاحمتی محاذ اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور منسجم ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ مزاحمت نے دشمن کے مقابلے میں استقامت اور پائیداری کے ذریعے میدان نبرد میں بہت ساری کامیابیاں بھی حاصل کر لی ہیں۔ یمن میں جارحین اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے، شام میں بھی دشمن کا منصوبہ شکست سے دوچار ہوا، عراق میں حشد الشعبی ایک طاقتور محاذ بن کر سامنے آئی ہے۔ لبنان میں بھی حزب اللہ کی طاقت اسرائیل کے مقابلے میں واضح ہے۔ اس بنا پر یہ بات طے شدہ ہے کہ مزاحمتی محاذ پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور طاقتور ہو چکا ہے اور یہ دشمن کے لیے بہت بڑا پیغام ہے بلکہ علاقے میں اس کی مکمل شکست کی دلیل ہے۔
۔ امریکی صہیونی اور عربی شیطانی پالیسیوں کے محور کا ایک اصلی رکن “جان بولٹن” تھا جسے حالیہ دنوں ٹرمپ نے بے دخل کر دیا۔ کیا اس اقدام کا اس شیطانی محاذ پر کوئی اثر پڑے گا جبکہ ابھی اسرائیل میں انتخابات بھی ہو رہے ہیں؟
یہ شیطانی محاذ پسپائی اور زوال کا شکار ہو چکا ہے خاص طور پر صہیونی ریاست اور امریکہ کی پالیسیوں میں پسپائی واضح نظر آتی ہے، صہیونیوں کو زیادہ تر پسپائی عسکری میدان میں ہوئی ہے، اسرائیل آج اپنے اطراف و اکناف سے شدید خوفزدہ ہے۔ اسرائیل جنگ سے ڈر رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ بھڑنا نہیں چاہتا۔ یہ اسرائیل کے لیے بڑی شکست ہے۔
امریکی سیاست افراتفری، بوکھلاہٹ اور تذبذب کا شکار ہے ٹرمپ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سب سے زیادہ استعفیٰ امریکہ کی خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور دفاعی سسٹم کے شعبہ جات میں دیکھے گئے کہ جس کی اس ملک کی جمہوریت کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، امریکہ نے داعش کو جنم دے کر اور مذہبی جنگیں چھیڑ کر عراق و شام کی تقسیم کے منصوبے میں بری طرح شکست کھائی دوسری طرف اسرائیل بھی حماس اور لبنان میں حزب اللہ کو کمزور کرنے میں ناکام رہا۔ لہذا شیطانی محاذ بہت کمزور ہو چکا ہے اور یہ مزاحمتی محاذ کی ترقی اور پیشرفت کی علامت ہے۔
۔ آپ کی نظر میں مزاحمتی محاذ نے مکتب عاشورا اور امام حسین علیہ السلام کو صہیونیت اور سامراجیت سے مقابلے میں کس حد تک اپنا مشعل راہ بنایا ہے؟
امام حسین علیہ السلام کا عاشورائی انقلاب مزاحمتی محاذ کے لیے ایک واضح مثال اور مشعل راہ ہے اور ایران و لبنان کے مزاحمتی رہنما امام علیہ السلام کے انقلاب کی بدولت ہی اپنے راستے اور مقاصد کو پیش کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں ہے بلکہ امام کا یزید کے مقابلے میں قیام ہمیں آج یزید وقت یعنی ٹرامپ اور نیتن یاہو کے مقابلے میں قیام کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ عہد حاضر میں امریکہ اور اسرائیل مزاحمتی محاذ کے مقابلے میں یزیدی خیمہ گاہ ہیں۔ لہذا یہ چیز موجودہ دور میں امام حسین علیہ السلام کے قیام کے ساتھ ایک گہرا رابطہ برقرار کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ٹھیک ایسے ہی جیسے امام علیہ السلام نے اپنے زمانے میں باطل کا مقابلہ کیا۔
بہت بہت شکریہ

………….

ختم شد/۱۰۳