خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کی استاد مہدی طائب کے ساتھ گفتگو؛

شہدائے کربلا اور قاتلین کربلا کا مشترکہ دشمن کون؟




امام حسین علیہ السلام کا بظاہر اشارہ اسی مشترکہ دشمن کی طرف ہے، لیکن اس مشترکہ دشمن کی علامتیں جو امام حسین علیہ السلام بعد میں بیان کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مشترکہ دشمن جو شام میں موجود تھا یا خود یہودی تھا یا یہودی صفت تھا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: حضرت اباعبد اللہ الحسین علیہ السلام نے یوم عاشور لشکر یزید کو مخاطب کر کے فرمایا: میرے اور تمہارے درمیان جنگ ایسے دشمن نے بھڑکائی ہے جو صرف میرا دشمن نہیں بلکہ تمہارا بھی دشمن ہے۔ امام علیہ السلام کے اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کربلا کے پیچھے ایک مشترکہ دشمن تھا جو نہ صرف امام حسین علیہ السلام کا دشمن تھا بلکہ کوفیوں اور یزیدیوں کا بھی دشمن تھا یعنی تمام مسلمانوں کا دشمن تھا اسلام اور قرآن کا دشمن تھا، وہ دشمن کون تھا؟ اس کے بارے میں خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ نے حجۃ الاسلام و المسلمین جناب مہدی طائب سے گفتگو کی ہے جو قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں؛
۔ امام حسین علیہ السلام نے یوم عاشور ایک مشترکہ دشمن کی طرف اشارہ کیا تو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ مشترکہ دشمن کون تھا؟
بظاہر امام علیہ السلام کی گفتگو سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے اس دشمن کی طرف اشارہ کیا ہے جو شام میں بیٹھا ہوا تھا، اس لیے کہ یزید یا بطور کلی بنی امیہ کوفہ کا بھی دشمن تھا، اہل بیت(ع) اور امام حسین (ع) کا بھی دشمن تھا اور قرآن و اسلام کا بھی دشمن تھا، لہذا کوفیوں اور اہل بیت(ع) کا یہ مشترکہ دشمن واقعہ کربلا کا باعث بنا۔
بنابرایں، امام حسین علیہ السلام کا بظاہر اشارہ اسی مشترکہ دشمن کی طرف ہے، لیکن اس مشترکہ دشمن کی علامتیں جو امام حسین علیہ السلام بعد میں بیان کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مشترکہ دشمن جو شام میں موجود تھا یا خود یہودی تھا یا یہودی صفت تھا۔ آپ نے مشترکہ دشمن کے لیے یہ خصلتیں بیان کی ہیں: ’’گناہگار‘‘، ’’کتاب و سنت میں تحریف کرنے والے‘‘، ’’انبیاء و اوصیاء کو قتل کرنے والے‘‘۔ یہ وہ خصلتیں جو امام نے مشترکہ دشمن کے لیے بیان کی ہیں قرآن کریم نے ان خصلتوں کو بنی اسرائیل اور یہودیوں کے لیے بیان کیا ہے۔
تحریف
خداوند متعال نے سورہ مبارکہ نساء کی ۴۶ ویں آیت میں فرمایا: «يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ» (کلمات الہیہ کو ان کی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں)، قرآن کریم میں تنہا وہ گروہ جو تحریف کرنے والے کی خصلت سے پہچنوایا گیا ہے یہود ہے۔ شائد کچھ دوسرے گروہوں نے بھی تحریف کی ہو لیکن جب قرآن کریم یہودیوں کو کلمات الہیہ میں تحریف کرنے والے گروہ کے عنوان سے متعارف کرواتا ہے تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہو گی کہ اگر دیگر مکاتب میں بھی تحریف انجام پاتی ہے تو اس کا منشا بھی یہودی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اگر دنیائے مسیحیت میں تحریف ہوئی ہے تو اس کا منشا عیسائی علما نہیں بلکہ یہودی تھے جو عیسائی علما کے لباس میں آگئے تھے اور انہوں نے مسیحیت کا نقشہ بدل دیا۔
انبیاء کا قتل اور سنتوں میں تبدیلی
طول تاریخ میں انبیاء کے قتل کی قرآن کریم نے صرف یہودیوں کی طرف نسبت دی ہے۔ یہودیوں کو قرآن کریم قاتلین انبیاء کے عنوان سے پہچنواتا ہے۔اگر چہ دوسرے افراد کو بھی جھٹلانے والا کہا ہے لیکن قاتل نہیں کہا۔ لیکن جہاں کہیں بھی یہودیوں کا تذکرہ کیا ہے اس کے ساتھ انبیاء کے قتل کی نسبت بھی ان کی طرف دی ہے۔ جیسے سورہ بقرہ کی آیت ۸۷ میں اللہ فرماتا ہے: «أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُون» (کیا تمہارا مستقل طریقہ کار یہی ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہش کے خلاف کوئی پیغام لے کر آتا ہے تو اکڑ جاتے ہو اور ایک جماعت کو جھٹلا دیتے ہو اور ایک کو قتل کر دیتے ہو)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی طرف سے انبیاء کو جھٹلانا ان کے قتل کے ہمراہ ہوتا تھا۔ یہ خصلت صرف یہودیوں کی تھی۔
سنتوں میں تبدیلی بھی ایسی خصلت ہے جسے خداوند عالم نے یہودیوں کی طرف نسبت دی ہے۔ «وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ» آیت نمبر ۱۶۰ اور ۱۶۱ کا ترجمہ: ’’پس ان یہودیوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے جن پاکیزہ چیزوں کو حلال کر رکھا تھا ان کو حرام کر دیا اور ان کے بہت سے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کی بنا پر اور سود لینے کی بنا پر جس سے انہیں روکا گیا تھا اور ناجائز طریقے سے لوگوں کا مال کھانے کی بنا پر اور ہم نے کافروں کے لیے بڑا دردناک عذاب مہیا کیا ہے‘‘۔
لہذا یہ خصلتیں جو امام حسین علیہ السلام نے مشترکہ دشمن کے لیے بیان فرمائیں ان سے یہ جانا جا سکتا ہے کہ وہ مشترکہ دشمن یہودی تھے اور یہی واقعہ کربلا کو وجود میں لانے کا باعث بنے۔

جاری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳