صہیونی ریاست کی اجارہ داری کی سہاگ رات کا خاتمہ




فلسطین کی فضائوں میں صہیونی ریاست کی اجارہ داری کی  ‘سہاگ رات’ کا خاتمہ کئی برسوں سے ہوچکا ہے۔ اب نہ صرف صہیونی دشمن کا سرحدی علاقوں میں گھومنا آسان رہا ہے اور نہ دشمن کی فوجی تنصیبات محفوظ ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، معاصر جنگی تاریخ میں جنگی طیاروں میں ایک نیا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ ڈرون ٹیکنالوجی ہے جو بغیر پائلٹ کے ہوائی جہازوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں استعمال کی جاتی ہے۔

یہ ڈرون طیارے کئی دوسرے سول مقاصد کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں مگر جنگی مقاصد میں ان کا استعمال براہ راست بمباری اور جاسوسی دو شعبوں میں کیا جاتا ہے۔

ڈرون طیاروں کی مدد سے دشمن فوج کی بہت سی زمینی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔

دو ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ سے فائر کیے گئے ایک ڈرون نے غزہ کی سرحد کے قریب اسرائیلی فوجی گاڑی پر ایک چھوٹا بم پھینکا تھا۔ یہ نقصان مادی اور محدود تھا ، لیکن جو ہوا اس واقعے نے فلسطینیوں کی ڈرون ٹیکنالوجی کے حصول اور صلاحیت پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

سنہ ۲۰۰۲ء کے بعد سے  اسرائیلی فوج نے جنگوں اور عام حالات میں فلسطینیوں کے خلاف متعدد قسم کے ڈرون استعمال کیے ہیں جو سیکڑوں افراد کو شہید اور زخمی کرچکے ہیں ، جبکہ غزہ اور مغربی کنارے میں مقبوضہ علاقوں کی  فضا ہمیشہ مسلسل اسرائیلی ڈرون سے بھری رہتی ہے۔ یہ سب ڈرون جاسوس ہوتے ہیں جنہیں فلسطینیوں کی نگرانی اور ان کی نقل وحرکت پرنظر رکھنےکے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

غزہ اور جنوبی لبنان اور یہاں تک کہ یمن ، عراق ، شام اور ایران کے محاذوں پر ڈرون کی تاریخ اور مشن کے پیش نظر، ڈرونز ایک ایسے علاقائی توازن کا حصہ بن چکے ہیں۔ جورکاوٹوں کو پار کرتا ہے اور مخالفین کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

فلسطین کی فضائوں میں صہیونی ریاست کی اجارہ داری کی  ‘سہاگ رات’ کا خاتمہ کئی برسوں سے ہوچکا ہے۔ اب نہ صرف صہیونی دشمن کا سرحدی علاقوں میں گھومنا آسان رہا ہے اور نہ دشمن کی فوجی تنصیبات محفوظ ہیں۔

دس سال پہلے مزاحمتی قوتوں نے اپنے تکنیکی سسٹم، فائرنگ اور چھوٹے ڈرون طیاروں کی مدد سے دشمن کے ڈرون کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کرنے کا سلسلہ  کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ وقت کے ساتھ فلسطینیوں کی اس ٹیکنالوجی میں مزید بہتری آئی ہے۔

اسرائیلی امور کے ماہر محمد مصلح کا کہنا ہے کہ ڈرونز قابض دشمن کے ساتھ اگلی جنگ کا عنوان بنیں گے۔یہ کم مہنگے ہیں اور حدود سے آگے فتوحات حاصل کرسکتے ہیں۔

“یہ آنے والی جنگوں کا ہتھیار ہے۔ یہ سیکیورٹی اور فوجی نظریہ کو تبدیل کر سکتا ہے اور سرنگ سازی اور زمینی رکاوٹوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ لیکن اسے موثر طریقے سے استعمال کرنے کے لئے باقاعدہ معلومات اور تجربے کی ضرورت ہے۔”

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل نے ڈرونز میں جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کی ہے ، لیکن ان میں سے کچھ سستے اور غیر پیچیدہ ہیں جو دشمن کو پریشان کرسکتے ہیں۔

اسرائیل کے پاس بہت ساری قسم کے ڈرون ہیں جو انٹیلیجنس اور آپریشنل مشنوں میں استعمال ہونے والی جدید ٹکنالوجی سے لیس ہیں جن میں سے بعض متعدد ممالک کو فروخت کر کے اپنی معاشی طاقت کو مستحکم بنایا گیا۔

فوجی ماہرمیجرجنرل یوسف شرقاوی کے مطابق ڈرون کا حالیہ استعمال غیر روایتی ہتھیاروں کے استعمال کو فعال کیا۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ  صرف نگرانی یا جاسوسی کے اہداف کے لیےاستعمال کیے جاتے تھے۔ قابض اسرائیل نے اسے ٹارگٹ کلنگ کے لیے  استعمال کیا۔ امریکا  عراق ، افغانستان اور شام میں ڈرون طیارے آپریشن مقاصد کے لیے استعمال کرچکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳