ٹرمپ جنگ کا رسیا؛

ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں




جو لوگ ٹرمپ کی پالیسیوں کا نشانہ بنتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ نہ تو ان کا نقطۂ نظر غیر فوج گردانہ اور غیر جنگ پرستانہ ہے اور نہ ہی ہی بات چیت کے شیدائی ہیں چنانچہ ان کی خارجہ پالیسی کو غیر فوج گردانہ قرار دینا، مہمل سی بات ہے۔



بقلم: ڈینیل لارسن (DANIEL LARISON) اخبار نویس اور امریکن کانزرویٹو ویب گاہ کے چیف ایڈیٹر۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اگرچہ بولٹن کو وائٹ ہاؤس سے نکال پھینکنے کا استقبال ہونا چاہئے لیکن یہ واقعہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور ان کے سابق مشیر بولٹن کے درمیان اختلاف رائے کے سلسلے میں کچھ ہرزہ سرائیوں اور مبالغہ آرائیوں کی ایک نئی لہر اٹھنے کا سبب بنا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے:
“مسٹر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ‘اجماع کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں اور اپنے اعلی مشیروں کے درمیان آراء و افکار کے تضادات کا ایک سرمائے کے طور پر استقبال کرتے ہیں؛ مسٹر بولٹن حکومت کی خارجہ پالیسی میں آخری آزاد صداؤں میں سے ایک تھے جو دیدہ دلیر اور انتہائی جنگ پسند مگر تجربہ کار تھے جو کئی مرتبہ ٹرمپ کے شورشرابے سے بھرپور مگر جنگ مخالف پالیسیوں کے ساتھ تصادم میں الجھ جاتے تھے۔ مسٹر بولٹن اپریل ۲۰۱۸ع‍ میں ٹرمپ سے آ ملے یہ وہ زمانہ تھا جب انتظامیہ کے معتدل تر اراکین اس سے علیحدہ ہوچکے تھے۔ مسٹر بولٹن اور ان ہی جیسے انتہاپسند وزیر خارجہ مائک پامپیو کے ہوتے ہوئے توقع کی جاتی تھی کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی شدید تبدیلیوں سے دوچار ہوجائے لیکن مسٹر ٹرمپ نے بات چیت (ڈائیلاگ) کو کشمکش پر ترجیح دی ہے”۔
مگر حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ جو توصیفات مسٹر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے سلسلے میں پیش کی جارہی ہیں ناقص اور گمراہ کن ہیں۔ بےشک امر مسلّم ہے کہ یہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں یہ کہنا کہ “وہ خارجہ پالیسی میں غیر فوج گردانہ نقطہ نظر رکھتے ہیں” اور یہ کہ “وہ بات چیت کو کشمکش پر ترجیح دیتے ہیں” بالکل غلط اور گمراہ کن ہے۔ صاحب صدر تسلسل کے ساتھ امریکی سفارتکاری اور ترقیاتی کاموں کی انتڑیاں نکال دی ہیں اور فوجی بجٹ میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں اور انہین جو جنگیں وراثت میں ملی ہیں انہیں جاری رکھے ہوئے ہیں یا ان میں مزید شدت پیدا کی ہے۔ امریکہ کے ڈرون حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں کی تعداد اور وسعت جارج بش اور اوباما کے دونوں ادوار سے تجاوز کررہی ہے۔ تصادم کے قواعد کو نرم کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں داعش کے خلاف جنگ اور افغانستان کی جنگ میں امریکی بمباریوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی اتحاد یمن کو باقاعدگی سے کھنڈر میں تبدیل کررہا ہے اور یمنی عوام کو بھوکا رکھ رہا ہے اور امریکہ اس کو مختلف ہتھیاروں سے لیس کررہا ہے اور اس کی حمایت کررہا ہے اور انھوں نے کانگریس کی طرف سے یمن کی جنگ میں امریکی مداخلت ختم کرنے کے لئے قرارداد منظور کی ہے تو حال اور مستقبل میں امریکی ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے اس قرارداد کو انھوں نے ویٹو کردیا ہے۔ جہاں تک ادراک کے قابل ہے اس طرح کا رویہ خارجہ پالیسی میں “غیر فوج گردانہ نقطۂ نظر” کے ساتھ مکمل طور پر متصادم ہے۔
ہمیں مسلسل سنی جانے والی داستان کر برعکس، مسٹر پریزیڈنٹ ہرگز ہرگز طاقت کے استعمال کے خلاف نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے مختصر سے دور میں دو مرتبہ شام پر غیر قانونی حملوں کا حکم جاری کیا ہے۔ اور پھر ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک بار انھوں نے رات کے گیارہ بجے فیصلہ کیا کہ ایران کے خلاف طاقت استعمال نہ کریں لیکن دوسری طرف سے کچھ زیادہ شواہد ہماری دسترس میں نہیں ہیں جن سے ثابت ہوسکے کہ انھوں نے “بات چیت کو ترجیح دی ہو”۔
کئی ممالک کے خلاف تجارتی جنگ کا آغاز ـ جن کا ایک اعلانیہ مقصد وینزویلا میں نظام حکومت کی تبدیلی ہے ـ اس بات کا ثبوت نہیں ہیں کہ یہ شخص “ڈائیلاگ کو کشمکش پر ترجیح دے رہا ہے”۔ بلکہ اس کے برعکس، ٹرمپ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی شکل میں بھی اور حکومتوں کی تبدیلی کی کوشش کی شکل میں بھی، کشمکش اور تناؤ کے درپے ہیں۔
ٹرمپ کی حکومت کو چارہ کار یہی نظر آتا ہے کہ ایک حکومت کے بعد دوسری حکومت کے خلاف معاشی پابندیاں لگاتی رہے۔ یہ معاشی جنگیں گوکہ شاید عسکری اقدام پر مشتمل نہ ہوں، لیکن بہت زيادہ تباہ کن ہیں اور معاندانہ تمہیدات ہیں جو کئی ممالک کے لوگوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور بہت سوں کی موت کا سبب بنتی ہیں۔
ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں کی بھینٹ چڑھنے والے انسان عام طور پر امریکی عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان لوگوں کا کوئی وجود نہیں ہے جو مسٹر پریزیڈنٹ کے فیصلوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ جو لوگ ان پالیسیوں کا نشانہ بن رہے ہیں جانتے ہیں کہ ٹرمپ نہ تو غیر فوج گردانہ نقطۂ نظر کے مالک ہیں اور نہ ہی بات چیت کے شیدائی ہیں چنانچہ ان کی خارجہ پالیسی کو اس وصف سے موصوف کرنا بےمعنی ہے۔

منبع: http://yon.ir/OgH4u

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۱