خیر و تقوی کی طرف دعوت اور کردار امام سجاد علیہ السلام




جو کچھ ہم نے بیان کیا اگر ہم چاہیں کہ کسی  ایک شخص کے وجود میں ان تمام صفات کو یکجا تلاش کریں  تو امام سجاد علیہ السلام  کا وجود مقدس ان تمام صفات کا آئینہ دار نظر آتا ہے جنکی دوستی و دشمنی کا معیار خدا کی ذات تھی  جنکا اٹھنا بیٹھنا خدا کے لئے تھا ، اگر انہوں نے کسی کو بخشا تو خدا  کے لئے کسی پر غضباک ہوئے تو خدا کے لئے۔



بقلم سید نجیب الحسن زیدی

خیبر تجزیاتی ویبگاہ: اچھا ئیوں اور نیکیوں سے محبت اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھی ہے، فطری طور پر انسان برائیوں سے نفرت کرتا ہے اور اچھائیوں سے اسے محبت ہوتی ہے کوئی جھوٹ سے محبت نہیں کرتا ہر ایک کو جھوٹ سے نفرت اور سچ سے محبت ہوتی ہے کوئی خیانت سے لگاو نہیں رکھتا ہر ایک کو خیانت سے نفرت اور دیانت داری و امانت سے محبت ہوتی ہے کسی کو  نجاست و گندگی پسند نہیں ہر ایک پاکیزگی کو پسند کرتا ہے  یہ اور بات ہے کہ یہ مفاہیم  مفاد کی خاطر بدل جائیں اور انسان کسی بڑے فائدے کے لئے سچ کو نظر انداز کرتے ہوئے جھوٹ بول دے یا  ممکن ہے کسی بڑے لالچ کی خاطر امانت میں خیانت کر دے  اور کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پلید و ناپاک ماحول میں بود و باش اختیار کر لے لیکن یہ سب کچھ خواہشات نفسانی کے تحت ہوگا اور فطرت کے برعکس ہوگا  جہاں انسان کی فطرت پر گناہوں کی گرد نہ ہووہاں محال ہے کہ انسان  اچھائیوں کو ترک کر کے برائیوں کی طرف چلا جائے ، جس طرح فطری طور پر انسان کو اچھائیوں سے لگاو ہے اسی طرح انسان کے وجود میں یہ بات بھی ہے کہ وہ اچھائیوں کا رواج چاہتا ہے اور برائیوں کا سدباب چاہتا ہے اسے پسند نہیں کہ برائیاں پھیلیں بلکہ اس کی فطرت یہ کہتی ہے کہ برائیوں سے لڑو اور اچھائیوں کو رواج دو اسی فطری تقاضے کو دین کی زبان میں کہیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر تو کہیں نیکی و خیر کی طرف دعوت سے تعبیر کیا گیا ہے.
نیکی و خیر کی طرف دعوت ایک عقلی حکم
نیکی اور خیر کی طرف دعوت دینا  جہاں ایک دینی فریضہ ہے وہیں عقل بھی اس  بات کو   تسلیم کرتی ہے کہ معاشرہ میں برائیوں کے چلن کو ختم کرنے اور اچھائیوں کے رواج کے لئے ضروری ہے کہ  خیر و نیکی کی طرف دعوت دی جائے  اسی کو قرآن کی زبان میں تعاون  علی البر والتقوی کہا گیا ہے ۔
تعاون دو طرفہ ہے اور کسی ایک کام میں محض شمولیت تعاون  نہیں کہلائے گی بلکہ  کسی نیک کام میں حصہ لیتے ہوئے   اچھے کام کو اپنے انجام تک پہچانے میں  مدد کرنا تعاون کہلاتا ہے [۱]

قرآن کریم نے تعاون کے دائرہ کو بر و تقوی میں محدود کرتے ہوئے ہر قسم کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو مسترد کیا ہے اور چاہا ہے کہ اگر ایک دوسرے کی شراکت و مدد سے کوئی کام انجام پائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ خیر و تقوی کی بنیاد پر ہو
بر و نیکی کی معنی
بہت ہی سادہ الفاظ میں ہر وہ کام جو اچھا ہو اور نیک ہو اسے “بر “سے تعبیر کیا جا سکتا ہے  لہذا تعاون کے سلسلہ سے دین کا دستور یہ ہے کہ نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف دعوت دی جائے  لیکن جب ہم قرآن کی نظر سے اس کے اصطلاحی معنی پر غور کریں گے تو یہ بات سامنے آ ئے گی کہ  نیک کام کے دو رکن ہیں  ایک نیک کام کی اپنی خوبی اور اچھائی ہے کہ وہ نیک ہے  جسے اصطلاح میں حسن ذاتی کہا جاتا دوسری چیز  نیک کام  کو کس سلیقہ سے انجام دیا جا رہا ہے  یہ بھی اہم ہے ۔
کبھی کبھی نیک کام کو  بڑی کج سلیقگی کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے جس کی بنا پر اس نیک کام کا ذاتی حسن ختم ہو جاتا ہے ، نیک کام کو سلیقہ اور اچھے ڈھنگ سے انجام دینے کو  حسن فاعلی کہا جاتا ہے ، مثال کے طور پر نماز ہے یہ ایک نیکی ہے ایک اچھا عمل ہے  لیکن یہی نیک عمل اگر کسی کو دکھانے کے لئے کیا جائے تو عمل تو بہت اچھا ہے لیکن انسان دوسرے کو دکھانے کے لئے کر رہا ہے لہذا  حسن فعلی تو ہے لیکن  فاعلی  یہاں پر نہیں ہے   یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی اچھا عمل اگر اس میں ریا شامل ہو  جائے تو اچھا ہونے کے باوجود  حسن فاعلی کے فقدان کی بنا پر    اچھا اور نیک نہیں سمجھا جائے گا ۔  یہی وجہ ہے کہ علماء کہتے ہیں کہ  نیک عمل  ایسا صالح عمل ہے جو اعتقادی و عملی  دونوں ہی پہلووں   کو تسلیم کرنے والے کسی انسان سے صادر ہوتا ہے [۲]  یعنی  اس کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اعتقادی اور ایک عملی   اعتقادی پہلو  کا مطلب ہے  انسان مبدا  کائنات کو تسلیم کرتا ہو  انجام کار کو مانتا ہو یعنی معاد پر عقیدہ رکھتا ہو اور نبوت کو تسلیم کرتا ہو   یہ تین بنیادی ارکان وہ ہیں جنکے ذیل میں عدالت و امامت خود ہی آ جائے گی  اور عملی پہلو یہ ہے کہ  ایک صالح اور نیک عمل کو انجام دے رہا ہو   یہ بات یوں ہی نہیں ہے بلکہ قرآن کی آیت اسے بتاتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :
“نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کود یں و اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں ) اور نماز پڑھیں  اور زکوٰة دیں ۔ اور جب عہد کرلیں  تو اس کو پورا کریں ۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں” [۳]

تقوی کے لغوی  و اصطلاحی معنی
تقوی   و ق ئ سے لغت   میں انتہائی نگہداشت  اور پرہیز  گاری کے معنی میں ہے  [۴]  اسلامی معارف میں اپنے نفس پر کنٹرول کو تقوی کے طور پر  بیان کیا گیا ہے چنانچہ  محرمات و حتی مکروہات سے پرہیز کو بھی  تقوی کہا جاتا ہے [۵]تقوی کے معنی کے سلسلہ سے علماء کی وضاحت کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ  تقوی کا مطلب  خواہشات نفسانی کی مخالفت اور یہاں پر مراد  منکرات سے پرہیز ہے   اور اس مقام پر مراد یہ ہے کہ اگر کسی نے اچھے عمل کا ارادہ کیا ہے اور برائیوں سے بچنے کا قصد کیا ہے تو اس کی مدد کرو [۶]

نیکی  کرنے والوں کی پہچان
حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :
نیکی کرنے والے لوگوں کی ۱۰ علامتیں ہیں  ۱۔ یہ اللہ کی راہ میں دوستی کرتے ہیں ، ۲۔ اسی کی راہ میں دشمنی کرتے  ہیں ،۳  ۔ اسی کی راہ میں بیٹھتے     ۴۔اٹھتے ہیں   ۵۔ اسی کی راہ میں غضبناک ہوتے ہیں  ۶۔ اسی کی راہ میں راضی ہوتے ہیں ۷۔  اللہ کے لئے عمل کرتے ہیں ۸۔ اسی کی راہ کی جستجو میں رہتے ہیں  ۹۔ خشیت  الہی   کی وجہ سے  طہارت ،  خائف   پاکیزہ ، مخلص ، با حیا اور اپنے عمل کے نگراں رہتے ہیں  ۱۰۔ اللہ کی راہ میں  نیک عمل کرنے والے ہیں  [۷]۔
اب  اس حدیث کے معیار پر ہم خود کو بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ہم  کتنے نیک کام کرنے والے ہیں اور کس قدر نیک خو ہیں وہیں ہمیں  معاشرہ اور سماج میں بھی ایسے افراد کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی جو کار خیر میں حصہ لیتے ہیں اور دنیا انہیں بھلائی اور نیک کام کرنے والوں کے طور پر پہچانتی ہیں یہ دس صفات وہ ہیں جو نیک لوگوں کی صفتیں ہیں جنہیں حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان کیا ہے    اب ہمیں یہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا ہے کہ فلاں نے مسجد تعمیر کرا دی  اسکول بنا دیا ؟کالج بنا دیا یا فلاں  چریٹی کا کام کر دیا بلکہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کام کے کرنے میں قصد کیا تھا اگر کام خدا کے لئے تھا تو چاہے مسجد نہ بنوا کر ایک اینٹ کا ہی انتظام کیا ہو یہ کار خیر ہے لیکن لوگوں کو دکھانے کے لئے کام ہو اہے تو چاہے جتنی بڑی مسجد بن جائے اسے کارخیر نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ  جو چیز اہم ہے وہ نیت ہے وہ جذبہ ہے جو کسی بھی کام   کی بنیاد ہوا کرتا ہے  ، دوسری منزل دوستی اور دشمنی ہے ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کار خیر انجام دینے والا اپنی دوستی و دشمنی کا محور خدا کو بنا رہا ہے یا پارٹی  و ادارہ اسکی دوستی و دشمنی کی بنیاد ہے ؟ اگر دوستی و دشمنی کی بنیاد خدا ہے تو یقینا یہ وہ چیز ہے جو مطلوب ہے اور انسان کو نیک کام کرنے والا کہا جا سکتا ہے وہ   ابرار میں شامل ہے ۔
امام سجاد علیہ السلام کی ذات  گرامی  صفات مذکورہ کی مجسم تصویر :
جو کچھ ہم نے بیان کیا اگر ہم چاہیں کہ کسی  ایک شخص کے وجود میں ان تمام صفات کو یکجا تلاش کریں  تو امام سجاد علیہ السلام  کا وجود مقدس ان تمام صفات کا آئینہ دار نظر آتا ہے جنکی دوستی و دشمنی کا معیار خدا کی ذات تھی  جنکا اٹھنا بیٹھنا خدا کے لئے تھا ، اگر انہوں نے کسی کو بخشا تو خدا  کے لئے کسی پر غضباک ہوئے تو خدا کے لئے ، اسی کی راہ میں راضی ہوئے اسی کی راہ میں ناراض ، انکا عمل محض خدا کے لئے تھا ، مالک کی راہ کی جستجو میں رہے ،  خشیت و طہارت و مالک سے حیا  کا یہ عالم کے اس کے سامنے کھڑا ہونے کا سوچ کر بدن پر کپکپی آ جاتی  عبادت کا یہ عالم کہ  پیشانی  پر کثرت سجدہ سے   ایسا ابھار پیدا ہو گیا کہ واضح طور  پر نظر آتا اور اسی وجہ سے    ذوالثفنات[۸]  کا لقب دیا گیا ، جو وضو کرتے تھے تو چہرہ کا رنگ زرد ہو جاتا جب آپ سے اس قدر خشیت و خوف کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا تمہیں پتہ ہے کس کے حضور کھڑے ہونے جا رہا ہوں [۹]آپ کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ مالک ابن انس سے روایت ہے :” علی ابن الحسین محرم ہوئے ، تلبیہ کہا اور بیہوش ہو گئے  ” مجھ تک یہ خبر پہنچی کہ آپ روز وشب میں ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے او ر عبادت ہی کی وجہ سے آپکا لقب زین العابدین پڑا [۱۰]

خشیت الہی پروردگار کے سامنے حیا کا عالم یہ تھا کہ  درباری عالم زہری تک  جب آپکا ذکر آتا  رو دیتے اور گریہ کرتے ہوے آپکو زین العابدین کے لقب سے یاد کرتے [۱۱]

خوف و خشیت الہی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ  نیکی کا عالم یہ تھا کہ ضرورت مندوں اور بے سہاروں کے لئے اگر کوئی پناہ گاہ تھی تو آپکی ذات تھی کبھی آپکو مریضوں کے ساتھ بیٹھے دیکھا جا تا تو کبھی  غریبوں کے ساتھ دسترخوان پر  روایت میں ہے کہ جب  کبھی آپ صدقہ دیتے اسے چومتے  کہ یہ خدا کے ہاتھ جا رہا ہے [۱۲]  ایک دن کچھ برص کے مرض میں مبتلا افراد نے  آپ سے اپنے دسترخوان پر بیٹھنے کی گزارش کی آپ نے فرمایا اگر روزہ نہ ہوتا تو ضرور تمہارے ساتھ کھانا کھاتا  پھر آپ گھر تشریف لے گئے اس کے بعد انکے لئے کھانا بنوایا اور انہیں بھیجا  اور جب بظاہر وقت افطار ہوا تو انکے ساتھ ہم سفرہ ہوئے [۱۳]

لوگوں کے ساتھ اس قدر تعاون کرتے کہ  آپکی شہادت کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ  مدینہ میں سو ایسے گھرانے تھے  جنکی پوری زندگی ہی آپ کے اوپر منحصر تھی [۱۴] آپکے بارے میں مشہور تھا آپ جو بھی نیکی کرتے بالکل خاموشی کے ساتھ ایسے کرتے کہ کسی کو کان و کان خبر  نہ ہو اسی لئے آپکی شہادت کے بعد یہ ملتا ہے کہ لوگ کہتے نظر آئے کہ ہم نے  پنہاں و مخفی ہاتھ  کو اس وقت کھو دیا جب ہمارے درمیان سے سید سجاد علیہ السلام رخصت ہو گئے [۱۵] آپ فرمایا کرتے اللہ کی راہ میں خاموشی سے دیا جانے والا صدقہ آتش  غضب  الہی کو خاموش کر دیتا ہے   یہ صرف قول نہیں تھا عملی طور پر بھی آپ خاموشی کے ساتھ غریبوں اور ناداروں تک رات کی تاریکی میں آذوقہ پہنچایا کرتے تھے  جسکی وجہ سے بعد شہادت جب آپکو غسل دینے کے لئے لٹایا گیا تو لوگوں نے دیکھا کہ پشت پر  بوجھ کو لادنے کی وجہ سے نشانات موجود تھے [۱۶] آپ لوگوں تک اتنی خاموشی سے جاتے کے کان و کان کسی کو خبر نہ ہوتی حتی رات کی تاریکی میں بھی لوگ کہیں پہچان نہ لیں اس لئے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیتے [۱۷] سفیان بن عیینہ نے زہری سے نقل کیا ہے کہ ایک  بارش کی ٹھنڈی رات  میں میں نے علی ابن الحسین علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ  آٹا اور لکڑیاں اپنی کمر پر لادے جا رہے ہیں  میں نے کہا فرزند رسول کہاں کا ارادہ ہے ؟
جواب دیا مجھے سفر درپیش ہے اور توشہ سفرمیں نے آمادہ کیا ہے جسے کسی محفوظ جگہ پر رکھنے  جا رہا ہوں ،
۔اجازت دیں کہ میں خادموں کو لے آوں اور انکی مدد سے یہ کام ہو جائے  لیکن امام علیہ السلام سے قبول نہیں کیا
۔ مجھے اجازت دیں کہ میں خود اس بوجھ کو اٹھا لوں  کہ آپ کی شان و منزلت اس سے بڑھ کر ہے کہ یہ بوجھ اٹھائیں
۔ لیکن میں اپنی شان کو اس سے بڑھ کر نہیں سمجھتا کہ ایک بوجھ اٹھانا اس بات کا سبب بنے کہ میں ہلاکت سے بچ جاوں او ر نجات پا جاوں  اور اپنا نیک مقصد حاصل کر لوں اور تم سے بھی میرا یہی تقاضا ہے کہ  مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور یہاں سے چلے جاو
چند دنوں کے بعد زہری نے امام علیہ السلام کو دیکھا تو پوچھا  آپ جس سفر کے لئے نکلے تھے اسکا کیا ہوا میں ہرگز آثار سفر کو نہیں دیکھ رہا رہوں
۔  زہری یہ سفر وہ نہیں جو تم سوچ رہے ہو یہ سفر سفرآخرت ہے اور میں اس سفر کی لئے توشہ راہ کا اہتمام کر رہا تھا اس سفر کی تیار صرف حرام کے ارتکاب سے بچنے اور نیکی و خیر کی راہ میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہ کرنے میں ہے [۱۸] آپ جب بھی کسی ضرورت مند کی حاجت روائی کرتے فرماتے : مرحبا اس پر جو میرے توشہ آخرت کو حمل کرنے کا سبب بنا [۱۹] آپ نے دو بار اپنا تمام مال ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا: خدا  ایسے گناہکار بندہ مومن کو پسند کرتا ہے جو اسکی بارگاہ میں توبہ کر لے [۲۰]

لوگوں کے ساتھ تعاون اور انکی مدد کا ایک طریقہ یہ تھا کہ آپ ان لوگوں کے قرض کو ادا کرتے جو اپنے قرض کو ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے  چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے آپ ایک بار محمد بن اسامہ کو دیکھنے گئے جو کہ حالت احتضار میں تھے اور گریہ کر رہے تھے آپ نے پوچھا محمد کیوں رو رہے ہو کہا  پندرہ ہزار دینار میری گردن پر قرض ہے جو ادا نہیں کر سکا ہوں اور ادا کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے آپ نے فرمایا: گریہ نہ کرو تمہارا قرض میں ادا کرونگا اور تم پر کچھ ذمہ داری نہیں ہے [۲۱] اسی طرح آپ نے اپنے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن حسن بن حسن کے قرض کو بھی ادا کیا [۲۲]

آپ  سماج و معاشرہ میں جہاں بھی کسی ضرورت مند کی مشکل کو دیکھتے اسے حل کرتے  آپکا اٹھنا بیٹھنا ہی فقیروں اور ناداروں کے ساتھ رہتا  فقیروں سے آپ کی محبت و شفقت کا عالم یہ ہے کہ صحیفہ سجادیہ کی تیسویں دعا ء میں خاص کر آپ خدا سے یہ التماس کرتے ہیں کہ مالک :” فقراء کی مجالست و ہمنشینی کو میرے لئے محبوب بنا دے اور انکے ساتھ بیٹھنے میں مجھے صبر و تحمل عنایت فرما[۲۳] آپ کی زندگی میں جا بجا ایسے نمونے مل جائیں گے جہاں آپ کو کبھی کسی کا بوجھ ڈھوتے دیتا جا سکتا ہے تو کہیں کسی مریض کی عیادت کرتے ، کہیں آپ کسی بیمار کے لئے دعاء کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں یتیموں اور ناداروں کی سرپرستی اور غلاموں کی تربیت اور ان سارے کاموں کو اتنی خوبصورتی کے ساتھ آپ نے انجام دیا کہ بہت سوں کو تب پتہ چلا کہ ہمارے ساتھ یہ نیکیاں کرنے والا اور کوئی نہیں وقت کا امام تھا جب آپ شہید کر دئیے  گئے  ۔ اگر ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم جو نیکی کر رہے ہیں جو کس قدر نیکی ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ کار خیر کے اس اسلوب کو دیکھیں جو امام سجاد علیہ السلام نے اختیار کیا تھا  چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ تعاون علی البر  والتقوی کو اگر ایک مجسم پیکر میں دیکھنا ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے امام سجاد علیہ السلام کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں  اور اپنے سماج کی صورت حال کا جائزہ لیں کہ خیر ونیکی کی طرف انکی دعوت کا اور انکے تعاون کا انداز کیا تھا اور ہمارا انداز کیا ہے ؟

حواشی :

[۱]  ۔ سلوک عاشورایی  ص ۱۵

[۲]  ایضا

[۳]  ۔لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ  أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ بقرہ ۱۷۷

[۴]  ۔ لسان العرب ج۱۵، ص۴۰۲.   المصباح، ص۶۶۹، واژه وقی.

[۵]  ۔  دائرة المعارف قرآن کریم ج۸، ص۴۴۶.مفردات، ص۵۳۰-۵۳۱، واژه وقی.

[۶]  ۔ سلوک عاشورایی  ص ۱۵

[۷]  أمّا علَامةُ البارِّ فعَشرَةٌ؛ یُحِبُّ فی اللَّهِ، ویُبْغِضُ فی اللَّهِ، و یُصاحِبُ فی اللَّهِ، و یُفارِقُ فی اللَّهِ، و یَغْضَبُ فی اللَّهِ، و یَرْضى فی اللَّهِ، و یَعملُ للَّهِ، و یَطلُبُ إلَیهِ، و یَخْشَعُ للَّهِ خائفاً مَخُوفاً طاهِراً مُخْلِصاً مُسْتَحْیِیاً مُراقِباً، و یُحْسِنُ فی اللَّهِ؛ ۔ بحار الانوار جلد ۱ ص ۱۲۱

[۸]  ۔ پیشانی پر سجدوں کے نشان کے سبب آپکو ذوالثفنات کہا جاتا ہے  دیکھیں : تاریخ یعقوبی جلد ۲  ص ۳۰۳

[۹]    اتدرون بین یدی من ارید ان اقوم   ، ابن عساکر ،تاریخ مدینۃ دمشق  جلد ۴۱ ص ۳۷۸

[۱۰]  ۔ ابن عساکر ، ابولقاسم  علی بن حسن  ابن ھبۃ اللہ  بن عبد اللہ الشافعی ، تاریخ مدیںہ دمشق، تحقیق، علی شیری ، جلد ۴۱ ص ۳۷۸

[۱۱]  ۔ کان الزھری اذا ذکر علی بن الحسین یبکی و یقول : زین العابدین اصفہانی ،  ابو نعیم ، احمد بن عبد اللہ ، حلیۃ الاولیاء  وطبقات الاصفیاء جلد ۳ ص ۱۳۵

[۱۲]  ۔ ایضا ۱۳۶

[۱۳]   ابن شہر آشوب  مناقب ، ۱۳۶

[۱۴]  ایضا

[۱۵]  ۔ ایضا ۱۵۳

[۱۶]  ۔ ابو نعیم ، احمد بن عبد اللہ ، حلیۃ الاولیاء  وطبقات الاصفیاء جلد ۳ ص ۱۳۶

[۱۷]  شیخ صدوق ، الخصال ص ۶۱۶

[۱۸]  ۔ شیخ صدوق ، علل الشرائع جلد ۱ ص ۲۷۰ ،  ابن شہر آشوب ، ص ۱۵۳

[۱۹]  ۔ ابن شہر آشوب ایضا ۱۵۴

[۲۰]  طبقات ابن سعد ، جلد ۵ ص ۱۶۹

[۲۱] شیخ مفید ،جلد ۲ ص ۱۴۹

[۲۲]  شیخ کلینی ، الفروع من الکافی ، جلد ۵ ص ۹۷

[۲۳]   اللھم ھبب الی صحبۃ الفقراء و اعنی علی صحبتھم بحسن الصبر ۔ موحد ابطحی، سید محمد باقر ، الصحیفہ السجادیہ الجامعہ ، دعای ۳۰

…………..

ختم شد/۱۰۲