مغربی ایشیا کے خطے میں طاقت کی جنگ – پہلا حصہ




امریکہ  اکیلا اپنے دم پر  ایران سے جنگ  نہیں کر سکتا  چونکہ اس صورت میں مغربی ایشیاء میں اسکے مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے اور عرب کے مالدار  خریدار اسکے ہاتھوں سے سرک جائیں گے  یہی وجہ ہے کہ میڈیا کے ذریعہ  ایران کو جنگ کی دھمکی دے رہا ہے اور اس طرح  علاقے  میں ایران کے دشمنوں کو یہ پیغام دے رہاہے کہ  وہ جنگ کے لئے تیار ہوں۔



خیبر تحقیقاتی ٹیم

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں  کے جوہری توانائی کے سلسلہ سے جامع  مشترکہ معاہدہ  [۱] کی ناکامی اور امریکہ کی جانب سے معاہدہ کی مخالفت کے بعد امریکہ و ایران کے مابین تناو اس قدر بڑھا کہ دونوں ہی ممالک نے ایک دوسرے کو عسکری اقدامات کی دھمکیاں دیں، اس درمیان ایران کا خطے میں قابل دید اثر و رسوخ اور سعودی عرب اور اسرائیل کی علاقے میں طاقت کا تحت الشعاع میں چلا جانا اور ایران کی طاقت کا بول بالا اس بات کا سبب بنا کہ یہ دو ممالک بھی ایران کے بارے میں امریکی دھمکیوں کا ساتھ دیں اور ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کی پشت پناہی کریں، البتہ یہ ضرور ہے کہ یہاں پر ایران اور صہیونی رجیم کے ساتھ  تناو زیادہ سنگین صورت اختیار کر گیا  اور یہ اس قدر سنگین و سنجیدہ ہو گیا کہ گزشتہ چند دنوں میں یہ دیکھنے کو ملا کہ اسرائیل نے ایران کے متحدہ ممالک شام[۲] ، لبنان، [۳]اور عراق[۴] ان تینوں  ہی ممالک پر محدود پیمانے پر عسکری حملے کئے  اور یہاں پر قابل ملاحظہ بات یہ ہے کہ اسکے برخلاف کہ اس سے پہلے کی کاروائیوں کو اسرائیل کی جانب سے چھپایا جاتا تھا لیکن اس بار اسرائیل نے اپنے پرانے طریقہ کار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی ان کاروائیوں کو  ذرائع ابلاغ  کے سامنے رکھا اور  اپنے اس اقدام کا سبب ایران کی جانب سے لاحق خطرے اور ایران کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے جواب سے عبارت گرادانا ، اسرائیل کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسی اس بات کا سبب بنی کہ ہم ان حملوں کی علت کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ کیا واقعی دو طرفہ جنگ کی بادل منڈلا رہے ہیں اور کیا واقعی اس بات کا امکان ہے کہ مذکورہ طرفین کے درمیان ایک جنگ چھڑ جائے، موجودہ صورت حال میں ایرانی و اسرائیلی دونوں ہی محاذوں سے وابستہ افراد، نیوز ایجنسیوں، اخباری نشستوں، اور اپنی تقریروں میں اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے مد مقابل کی طاقتور اور کمزور پوائنٹس کو چھان پھٹک کر بیان کر رہے ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے کی طاقت و کمزوریوں کے سلسلہ سے اپنے تجزیوں کو پیش کر رہے ہیں ، “اسرائیلی سائٹ  نیشنل نیوز ” اگرچہ اسرائیل کی طاقت کے سلسلہ سے مبالغہ آرائی سے کام لے رہی ہے لیکن و ہ بھی ایران کی  میزائیل کی طاقت کا انکار نہیں کر پا رہی ہے ، اس لئے کہ اس وقت ایران میزائل کے اعتبار سے دنیا کی  پانچ سے لیکر آٹھویں بڑی طاقت ہے [۵]۔

اس سائٹ نے اپنی رپورٹس میں ایران کی عسکری طاقت اور اسلحوں کی مار و انکی توانائی کے بارے میں ایرانی  فوج کے کمانڈروں کی گفتگو کو بھی پیش کیا اور انجام کار ماہرین کی نظر میں انہیں  بعید قرار دیا کہ ایسا بھی ممکن ہے اسکے برعکس  ایرانی کمانڈر، سردار “قاسم تقی زادہ ” نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ  ہمیں امریکہ سے جنگ کے لئے اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم وہاں جاکر لڑیں ، بلکہ آج دسیوں ہزار امریکی ہمارے ہی خطے میں موجود ہیں اور ہم روزانہ ہی ان پر اور انکے اسلحوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہماری آنکھیں ان سے غافل نہیں ہیں  [۶]۔

ان رپورٹس کے مطابق جو ایران و امریکہ کے مابین جنگ کے امکان کے پیش نظر امریکی سربراہوں کو دی گئی ہیں وہ رپوٹ جو کہ علاقے میں طاقت کے توازن،  ہار اور جیت کی مفروضوں کے ساتھ  اقتصادی اور عسکری معیاروں پر محیط عناصر کو بیان کر رہی ہے ایسی رپورٹ ہے جو کہ جنگ کو عقلمندانہ فیصلہ نہیں قرار دے رہی ہے ۔

یہاں پر قابل غور پوائنٹ یہ ہے کہ  امریکہ  اکیلا اپنے دم پر  ایران سے جنگ  نہیں کر سکتا  چونکہ اس صورت میں مغربی ایشیاء میں اسکے مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے اور عرب کے مالدار  خریدار اسکے ہاتھوں سے سرک جائیں گے  یہی وجہ ہے کہ میڈیا کے ذریعہ  ایران کو جنگ کی دھمکی دے رہا ہے اور اس طرح  علاقے  میں ایران کے دشمنوں کو یہ پیغام دے رہاہے کہ  وہ جنگ کے لئے تیار ہوں اور یوں ایران سے جنگ کی ترغیب دلا رہا ہے لیکن اس کام میں اسے چنداں کامیابی حاصل ہوتی نہیں دکھ رہی ہے،  اور حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ چیز جو امریکہ کے لئے  ایران پر حملے میں سب سے زیادہ رکاوٹ بن رہی ہے وہ ایران کی مزاحمتی محاذ سے عسکری و اجتماعی وابستگی ہے ایران کا مزاحمتی محاذ سے گہرا تعلق  امریکہ کے  لئے بڑا خطرہ ہے کیونکہ  علاقے میں امریکی چھاونیاں اور اس کے خطے میں مفادات  یہ سب کے سب خطرے کی زد پر ہیں اور ان سے بڑھ کر امریکہ کی دیرینہ متحدہ ممالک  اسرائیل و سعودی عرب کو بھی جنگ کی صورت میں مزاحمتی محاذ کی جانب سے یلغار کا خطرہ لاحق ہے، امریکی جنکی بیڑے، بین الاقوامی پانی کی گزر گاہیں، اور ان سب سے بڑھ کر سید حسن نصر اللہ کی یہ دھمکی کہ ایران پر حملہ مساوی ہے ریاض و تل ابیب پر حملے کے[۷]،  یعنی اگر ایران پر حملہ ہوا تو نہ تو اسرائیل بچے گا نہ سعودی عرب اور یہ وہ چیز ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے اور یہی بات سبب بن رہی ہے کہ امریکہ ایران کے سلسلہ سے محتاط طریقہ کار اختیار کرے  ۔

جاری ہے …

[۱]  ۔ comprehensive agreement on the Iranian nuclear program

یہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کا جامع و مشترک معاہدہ  ایران،P5+1 ممالک یعنی امریکا،فرانس، برطانیہ، روس، چين، جرمنی  کے درمیان تھا۔ اور ۱۷ جنوری ۲۰۱۶ء پرصدر یورپی اتحاد اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے مشترکہ پریس کانفرس کی جس میں یورپی اتحاد نے ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا تھا لیکن امریکہ صدر ٹرانپ نے معاہدے سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے دوبارہ ایران پر پابندیاں لگا دیں۔

[۲]  ۔ https://www.farsnews.com/news/13980603000028

[۳] ۔ https://www.farsnews.com/news/13980603000055

[۴] ۔ https://www.mehrnews.com/news/4700399

[۵]  ۔ https://www.mashreghnews.ir/news/985595.

[۶]   نائب وجانشین وزیر دفاع

[۷]   ۹۷۹۷۶۰، www.mashrghnews.ir.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۲