بھارت میں مذہبی آزادی کا بکھرتا ہوا شیرازہ




آج بھارت کے باشعور افراد یہ سمجھتے ہیں کہ کامن سول کوڈ پورے بھارت کے لوگوں پر ظلم ہوگا اور اس قانون سے ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اب اگر بھارت کے نام نہاد وطن دوست بھارتی حکومت کو کامن سول کوڈ کے نفاظ سے نہیں روکتے ہیں تو یہ ان کی وطن دوستی نہیں بلکہ یہ بھارت پر ایک بڑا ظلم ہوگا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بھارتی عوام کو تیار ہو جانا چاہیئے کہ اب ان سے بھی ان کے مذہبی حقوق سلب کئے جانے والے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء اور دوسرے پرسنل قوانین ختم ہونگے اور کامن سول کوڈ کا نفاذ ہوگا۔ یہ روز اول سے ہی سنگھ پریوار کے ایجنڈے کا اہم ترین حصہ تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے تمام انتخابی منشور میں شامل رکھتی آئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا ملک ہے۔ یہاں بہت سے مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں، تمام مذاہب کے ماننے والوں کے اپنے روایتی اصول و ضابطے ہیں۔ یہاں اگر ایک طرف مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے تو دوسری طرف ہندو کوڈ بِل بھی ہے۔ بھارت میں اگر عیسائیوں کے اپنے مذہبی دستور ہیں تو سکھوں اور بدھسٹوں کے بھی اپنے کچھ طریقے ہیں۔ یہاں کی عوام پرانے زمانے سے کچھ قبائلی ضابطوں کی پیروی کرتے آئے ہیں تو پارسیوں کے بھی کچھ الگ طریقے آج کے ماڈرن دور میں جاری ہیں۔ یہیں تک محدود نہیں بلکہ خود ہندوؤں کا بھی اپنا ایک الگ دستور موجود ہے۔ یہ تمام حقائق اپنی جگہ مگر بھارتی آئین میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ حکومت جب مناسب سمجھے تو پورے ملک کے لئے ایسا قانون لاسکتی ہے، جو تمام پرسنل قوانین کو ختم کرکے ایک ہی قانون نافذ کرے گی، اسی کا نام کامن سول کوڈ رکھا گیا ہے۔

مودی حکومت کے کہنے پر بھارت کا لاء کمیشن گذشتہ چند برسوں سے کامن سول کوڈ کے امکان پر غور کر رہا تھا، مگر اس بار عدالت عظمٰی نے ہی حکومت کے ہاتھ میں تلوار تھما دی ہے۔ جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ کے ایک تبصرے کے بعد مودی حکومت حرکت میں آگئی ہے اور ایسے وقت میں جبکہ اس سے ملک کی اقتصادی بدحالی پر سوالات پوچھے جا رہے ہیں، مودی حکومت کو کامن سول کوڈ کی بحث چھیڑ کر اصل سوالات سے بچنے کا بہانہ مل گیا ہے۔ امکان ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ سشن میں اس پر بحث بھی ہو جبکہ میڈیا میں پہلے سی ہی اس موضوع پر اچھی خاصی بحث ہوچکی ہے اور حسب توقع اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کو قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ بھارت کے مسلمانوں کے پاس کوئی چارہ کار نہیں۔ ان بے چارے مسلمانوں سے کون پوچھتا ہے کہ قانون لائیں یا نہ لائیں۔ طلاق ثالثہ کے قانون پر کس نے مسلمانوں سے ان کی رائے لی یا ان کی مرضی جانی۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اب ملک میں تمام مذاہب کے لئے ایک ہی قانون نافذ ہوگا۔ کیا اب تمام پرسنل قوانین ختم کر دیئے جائیں گے۔ کیا اب ہر فرد کو اس کی مرضی، اس کے مذہبی، سماجی اور روایتی قانون کے ساتھ جینے کا حق نہیں دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سکھ، عیسائی، پارسی، بدھسٹ بلکہ خود ہندو بھی اس کی زد میں آجائیں گے۔

کیا مودی حکومت چاہے گی کہ ریاست کیرل کے اعتدال پسند ہندوؤں کو ریاست اترپردیشن کے انتہا پسند ہندوؤں کے طریقے سے جینے پر مجبور کیا جائے گا۔ کیا یہ مناسب ہوگا کہ جنوب کے لوگوں کو شمال اور شمال کے عوام کو جنوب کے لوگوں کے طریقے پر زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے گا اور انہیں اپنے ان تمام سماجی اور روایتی یا عائلی اصول و ضوابط کو ترک کرنے پر مجبور کیا جائے گا، جن پر وہ صدیوں سے عمل کرتے آرہے ہیں۔ کیا بھارتی عوام کو مودی حکومت بندوق کے زور پر مجبور کرے گی کہ وہ اپنے طور طریقے کو چھوڑ کر آر ایس ایس کے بنائے ہوئے ضابطے پر عمل کریں۔ آج بھارت کے باشعور افراد یہ سمجھتے ہیں کہ کامن سول کوڈ پورے بھارت کے لوگوں پر ظلم ہوگا اور اس قانون سے ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اب اگر بھارت کے نام نہاد وطن دوست بھارتی حکومت کو کامن سول کوڈ کے نفاظ سے نہیں روکتے ہیں تو یہ ان کی وطن دوستی نہیں بلکہ یہ بھارت پر ایک بڑا ظلم ہوگا۔ بعض لوگوں کا سوال ہے کہ جب بھارت میں مختلف مذاہب اور طریقے کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں تو اس قسم کی دفعہ بھارتی آئین میں کیوں رکھی گئی ہے۔

آج اگر بھارتیہ جنتا پارٹی اس دفعہ کو بہانہ بنا کر عوام کے ایک بڑے طبقے کو ذہنی طور پر دہشت زدہ کر رہی ہے تو کیا اس کے لئے خود کانگریس ذمہ دار نہیں ہے۔؟ کانگریس کے اعلٰی لیڈروں اور ذمہ داروں کی طرف سے یہ بات بار بار کہی گئی ہے کہ ہندو کوڈ بِل کو ہی وسیع کرکے اسے پورے ملک کے عوام پر لاگو کیا جائے گا۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بھارت کے اقلیتی طبقات حکومت کی نظر میں کس طرح کھٹکتے رہے ہیں کہ انہیں اپنے مذہبی حقوق سے محروم کرکے ہندو کوڈ بل نافذ کرنے کی منصوبہ بندہ ہو رہی ہے۔ بھارت میں جس طرح سے مسلم پرسنل لاء بورڈ موجود ہے، اس طرح یہاں ہندو کوڈ بل بھی ہے، مگر انتہاء پسند عناصر کی آنکھ میں صرف مسلم پرسنل لاء بورڈ ہی کھٹکتا رہا ہے۔ کبھی یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ ہندو کوڈ بل کو ختم کیا جائے گا بلکہ ہر بار حملہ مسلم پرسنل لاء بورڈ پر ہی کیا جاتا ہے۔ ہمیشہ مسلمانوں کو ان کے مذہبی حقوق سے محروم کرنی کی باتیں کی جاتی ہیں۔ اس سازش سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دراصل یہاں مسلمانوں کو پریشان کیا جاتا ہے اور انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ یہاں دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ اگرچہ بھارتی آئین بھارت میں رہنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب و دستور کے مطابق جینے کی آزادی کا دعویدار ہے۔

بقلم جے اے رضوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳