ڈاکٹر سعد اللہ زارعی کے ساتھ خیبر کی خصوصی گفتگو؛

صدی کی ڈیل اور امریکی صہیونی لابی کی ناکامی




اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان تعلقات صرف ایک اجلاس میں خلاصہ نہیں ہوتے اور تعلقات کی بحالی کا مطلب در حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کے سفارتخانے کھل جائیں، سیاسی اور معیشتی تعلقات برقرار ہو جائیں، کیا یہ امور موجودہ صورت حال کے پیش نظر ممکن ہیں؟



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، مسئلہ فلسطین کے ہمیشہ کے لیے خاتمے اور حالات کو بطور کلی اسرائیل کی حق میں تبدیل کرنے کی غرض سے امریکی صہیونی لابی نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ متعارف کروایا ہے۔ امریکی صدر نے برسراقتدار آنے کے ابتدائی دنوں سے آج تک اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا لیکن تاحال ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ نے اسی حوالے سے بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر سعد اللہ زارعی سے گفتگو کی ہے جو حسب ذیل ہے:
خیبر: صدی کی ڈیل کے حوالے سے منامہ کانفرنس کے بعد تقریبا تمام فلسطینی گروہوں میں ایک قسم کا اتحاد دیکھنے کو ملا اور تمام مزاحمتی گروہوں نے اس اجلاس کے خلاف موقف اختیار کیا، آپ کی نگاہ میں صدی کی ڈیل کا منصوبہ اور منامہ کانفرنس امریکہ اور صہیونی ریاست کے لیے کس حد تک کامیاب ثابت ہوئی ہے؟
۔ دیکھئے اس منصوبہ کا مرکزی پوئینٹ کیا ہے، اگر یہ مانتے ہیں کہ مرکزی پوئینٹ اور بنیادی مسئلہ صدی کی ڈیل اور عرب و فلسطین کے ساتھ تعلقات ہیں تو کہنا پڑے گا کہ صہیونیوں اور اس کے اتحادیوں نے اس مسئلے میں اگر چہ کم لیکن کامیابی حاصل کی ہے۔ منامہ کانفرنس میں اسرائیل کو ایک اہم کامیابی یہ حاصل ہوئی کہ عربوں نے مسئلہ فلسطین کو پیٹھ دکھا دی اور اسرائیلی نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
عربوں نے نیز سرکاری طور پر فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے سے بھی چشم پوشی کر دی، صدی کی ڈیل بنیادی طور پر اس طرح سے تدوین کی گئی ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ اسرائیل کے فائدہ میں حل ہو، یہ ایسے حال میں ہے کہ وہ عربی منصوبہ جو ۲۰۰۲ میں ملک عبد اللہ کے ذریعے بیروت میں عرب یونین کے اجلاس میں پیش کیا گیا، فلسطینی پناہ گزینوں کے سرزمین فلسطین میں واپس پلٹنے پر مبنی تھا، لیکن اس اہم مسئلہ پر منامہ نشست میں عربوں اور منجملہ سعودیوں نے خط بطلان کھینچ دیا اور یہ اہم قدم ہے اسرائیل کے لیے۔
یہ ماننا پڑے گا کہ صدی کی ڈیل اس حد تک صہیونیوں کے لئے سودآور ثابت ہوئی ہے۔ لیکن ایک بنیادی اور کلیدی سوال یہ ہے کہ وہ صدی کی ڈیل جو اسرائیل کے پیش نظر ہے وہ سرانجام کو پہنچی یا نہیں؟
اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان تعلقات صرف ایک اجلاس میں خلاصہ نہیں ہوتے اور تعلقات کی بحالی کا مطلب در حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کے سفارتخانے کھل جائیں، سیاسی اور معیشتی تعلقات برقرار ہو جائیں، کیا یہ امور موجودہ صورت حال کے پیش نظر ممکن ہیں؟
موجودہ صورتحال سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی لابی چاہے وہ عربی ہو، غربی ہو یا یہودی حکمران ہوں، سب کے اوپر بے بسی طاری ہے۔ جس مقصد کو یہ ۷۰ سال کے عرصے میں پورا نہیں کر پائے وہ مقصد چند دنوں یا مہینوں میں پورا نہیں ہو سکتا۔
امریکی حکمران، اسرائیل کے اہم ترین حامی اور پشت پناہ ہیں۔ لیکن خود امریکہ سنگین مشکلات کا شکار ہے آج علاقے سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا مسئلہ گرم چل رہا ہے، البتہ بعض علاقوں سے امریکی فوجی دستے نکل بھی چکے ہیں۔ اور ہمیں یقین ہے کہ آئندہ دس سال کے عرصے میں امریکی فوج کو مشرقی ایشیا ترکی سے لے کر افغانستان تک سب چھوڑنا پڑے گا۔ اس لیے کہ اس سے زیادہ ان کے لیے علاقے میں ٹکنا ممکن نہیں ہے۔ لہذا امریکہ کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے لیے اپنا دفاع کرنا بھی سخت ہو رہا ہے اسرائیل کا دفاع کرنا تو دور کی بات۔
دوسری بات یہ ہے کہ اسرائیل حتیٰ یورپ کے اندر بھی تنہا پڑ رہا ہے وہ یورپ جنہوں نے اسرائیل کو جنم دیا۔ اس لیے کہ بالفور اعلامیہ جو اسرائیل کی تشکیل کا باعث بنا وہ برطانیہ نے ہی تو صادر کیا تھا۔ لیکن آج یورپ اپنے اندرونی مسائل میں اس قدر گرفتار ہے کہ اسے اسرائیل کے تحفظ کی فرصت ہی نہیں، آج مغربی ممالک سوائے مالی امداد کے صہیونی ریاست کی مدد نہیں کر سکتے۔
خیبر: اسرائیل کی اندورنی صورتحال کیا ہے؟ یہ رجیم کیا تن تنہا اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے؟
مقبوضہ فلسطین میں یہودیوں اور صہیونیوں کے حالات بھی مناسب نہیں ہیں، وہ اسرائیل جو ایک زمانے میں دعویدار تھا کہ وہ دنیا کی چوتھی اعلی فضائیہ اور پانچویں بڑی فوج کا مالک ہے آج وہ حماس کا مقابلہ کرنے سے بھی عاجز ہے اور دو دن کی جنگ کے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیتا ہے۔ اور آج اسرائیلی اس کوشش میں ہیں کہ حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی قرارداد پر دستخط کریں تاکہ اسرائیل کے ساتھ اس کا کوئی مطلب نہ ہو، البتہ حماس ایسی قرارداد پر دستخط کبھی بھی نہیں کرے گی۔ لہذا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آج اسرائیل اپنا دفاع کرنے سے بھی قاصر ہے اور انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔
خیبر: عربی حکومتیں کیا اسرائیل کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھیں گی؟
عرب بالخصوص سعودی جو اسرائیل کی حمایت کے علمبردار ہیں نیز صہیونی ریاست کا دفاع کرنے سے عاجز ہیں۔ اصلا ایسا کام عربوں کے بس میں نہیں ہے۔ خاص طور پر اس دور میں جب صہیونیوں اور ان کے اتحادی عربوں کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران نام کا ایک طاقتور بلاک سامنے ہے۔

……….

ختم شد؍۱۰۳