سعودی عرب اور اس کے اتحادی میدان جنگ میں تبدیل/ یمنی ہتھیاروں کے مقابلے میں امریکی دفاعی سسٹم ناکارہ




سعودی اور ان کے اتحادی اگر یمن پر جارحیت جاری رکھیں گے اور اپنا محاصرہ ختم نہیں کریں گے تو یمن ایک بین الاقوامی میدان جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس لیے کہ یمن پر حملے جاری رکھنے کا مطلب سعودی تنصیبات کی نابودی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مشرق وسطیٰ کے حالیہ حالات خصوصا یمن کے سعودی آئل ریفائنری کمپنی آرامکو پر حملے کے پیش نظر یمن کی قومی اتھارٹی کے مشیر عبد العزیز البکیر کے ساتھ خیبر تحقیقاتی ویب گاہ نے جو گفتگو کی ہے اسے قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں؛
خیبر: سعودی عرب میں آئل ریفائنریز پر یمنیوں کے حملے کا جارحین کو کیا پیغام جاتا ہے؟
سعودی عرب میں آرامکو کمپنی سے وابستہ دو علاقوں بقیق اور خریص میں آئل ریفائنریز پر ہمارے حملے، در حقیقت پانچ سالہ سعودی اتحاد کے محاصرے کا منہ توڑ جواب ہیں۔ یہ کاروائی اس وقت ہوئی جب جارحین کے اتحاد نے یمن کی ۱۳ کشتیوں پر قبضہ کر لیا جن میں یمنی عوام کے لیے ضروریات اولیہ اور کھانے پینے کی چیزیں موجود تھیں۔ وہ بھی ایسے حال میں کہ ان کشتیوں نے اقوام متحدہ سے بندر الحدیدہ کے لیے پرمیشن لے رکھی تھی۔ اس کاروائی نے یمن کی دفاعی طاقت میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے اور جارحین کو سمجھ میں آ چکا ہے کہ اب ان کو ہر جارحیت کا دندان شکن جواب ملے گا۔
خیبر: اگر سعودی جارحیت جاری رہی تو کیا یمنی سعودی عرب خصوصا ریاض کے اندر گھس کر کاروائی کر سکتے ہیں؟
بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ملک کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے اور ہمیں حق ہے کہ یمن پر جارحیت کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائیں۔ نیز ہمارے پاس ایسے ہتھیار ہیں کہ امریکی دفاعی سسٹم ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے اور آئندہ دنوں مزید خبریں بھی سنائی دیں گی۔
خیبر: یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے سعودی عرب کے اندر شریف خاندان کے یمنیوں کے ساتھ تعاون کی خبر دی تو اگر ممکن ہو اس بارے میں بھی کچھ وضاحت کریں۔
ان افراد کی جانوں کے تحفظ کی بنا پر ہم اس موضوع پر گفتگو کرنے سے معذور ہیں۔ یہ افراد سعودی قوم کے اندر کچھ گم نام سپاہی ہیں جو آل سعود کے ظلم و جور سے تنگ آ چکے ہیں اور اس ڈکٹیٹر شپ کی سرنگونی چاہتے ہیں۔
خیبر: یمن کی عسکری اور میزائیلی توانائی کی ترقی اور پیشرفت کا آپ کیا جائزہ لیتے ہیں؟
یمن میں عسکری میدان میں ترقی جاری رہے گی اور نہ صرف عسکری میدان اور ہتھیاروں کی صنعت میں بلکہ دیگر میدانوں میں بھی یمنی جوانوں کی زحمتیں رنگ لا رہی ہیں۔
خیبر: کیا یمنیوں کے پاس کوئی ایسا منصوبہ ہے جس سے وہ سعودیوں اور اماراتیوں کو صلح قبول کرنے پر مجبور کر سکیں؟
سعودی اور ان کے اتحادی اگر یمن پر جارحیت جاری رکھیں گے اور اپنا محاصرہ ختم نہیں کریں گے تو یمن ایک بین الاقوامی میدان جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس لیے کہ یمن پر حملے جاری رکھنے کا مطلب سعودی تنصیبات کی نابودی ہے۔ اور اس کے اتحادی بھی اگر یمن کے محاصرے کو خاتمہ نہیں دیں گے تو وہ بھی سالم نہیں بچیں گے۔ لہذا ان کے فائدے میں ہے کہ دوبارہ سوچیں اور عادلانہ طریقے سے گفتگو اور مذاکرات کے میز پر آ جائیں۔

………….

ختم شد/۱۰۳