لبنان کے بزرگ شیعہ عالم دین کے ساتھ خیبر کی گفتگو؛

عالمی سامراج سے لڑنے والا اصلی حسینی ہے/ اربعین مارچ سے عالمی فوج کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے




عہد حاضر میں اگر کوئی ظالموں اور ستمگروں کہ جن کا اصلی سرغنہ غاصب صہیونی ریاست اور عالمی سامراجیت ہے کے ساتھ مقابلہ اور مبارزہ نہ کرے وہ حسینی مشن کا حمل نہیں ہو سکتا اگر چہ امام حسین علیہ السلام کی طرف پیدل چل کر ہی کیوں نہ جا رہا ہو اور امام حسین (ع) پر گریہ و زاری کیوں نہ کرتا ہو۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ماہ صفر شروع ہوتے ہی دنیا بھر کے شیعہ امام حسین علیہ السلام کے اربعین (چہلم) میں شرکت کے لیے کربلا کا رخ کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے موسم اربعین میں عاشقان کربلا کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر کربلا میں امڈ آتا ہے۔ اور یہ ایسے حال میں ہے کہ علاقے میں مزاحمتی محاذ ایک مضبوط طاقت میں تبدیل ہو چکا ہے اور دشمن کی تمام سازشوں کو دھیرے دھیرے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔
ایسے حال میں لاکھوں کروڑوں پر مشتمل اربعین کا جلوس اگر ایک خاص نہج کو لے کر آگے بڑھے گا تو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دے گا۔ اسی موضوع کے پیش نظر خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے نمائندے نے لبنان کے بزرگ عالم دین شیخ حسین الخشن سے گفتگو کی ہے جو قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں؛
خیبر: اربعین مارچ مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے اور کیا اسے حج بیت اللہ کے مقاصد کی تکمیل سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟
اربعین مارچ ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کے ساتھ امت مسلمہ کے خاص لگاو اور ان کے مشن اور دین کی پیروی کا نام ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ اہل بیت(ع) کے ساتھ رابطہ زندگی کے کسی بھی گوشے میں ختم نہیں ہوتا، جب آپ امام حسین علیہ السلام کی جانب حرکت کی حالت میں ہوتے ہیں تو یہ خیال رکھیں کہ امام کے قدموں پر قدم رکھ رہے ہیں آپ نے امت میں اصلاح کا پرچم اٹھا رکھا ہے اور آپ ظالم کے مقابلے میں سر تسلیم خم نہیں کر سکتے، ظلم و فساد و بربریت کا مقابلہ کرنا آپ پر فرض ہو جاتا ہے۔ لہذا اگر ان مقاصد کو ہم اپنی زندگی میں ہمیشہ مد نظر رکھیں تو کبھی بھی خط حسینی سے منحرف نہیں ہوں گے۔
عہد حاضر میں اگر کوئی ظالموں اور ستمگروں کہ جن کا اصلی سرغنہ غاصب صہیونی ریاست اور عالمی سامراجیت ہے کے ساتھ مقابلہ اور مبارزہ نہ کرے وہ حسینی مشن کا حمل نہیں ہو سکتا اگر چہ امام حسین علیہ السلام کی طرف پیدل چل کر ہی کیوں نہ جا رہا ہو اور امام حسین (ع) پر گریہ و زاری کیوں نہ کرتا ہو۔ امام حسین علیہ السلام کی طرف پیدل مارچ ہمارے لیے ایمانی، عقیدتی اور انقلابی ذمہ داری متعین کرتی ہے لہذا ہمیں مکمل حسین (ع) کو پیش نظر رکھنا چاہیے نہ ناقص حسین(ع) کو یعنی ایسا نہ ہوکہ آپ امام حسین(ع) کے ایک حصے کو اختیار کر لیں اور دوسرے حصے کو چھوڑ دیں، حسینیت کے بعض حصے پر مومن بن جائیں اور بعض کے منکر۔
خیبر: کیا ممکن ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے زائرین سے ایک ایسی رضاکارانہ فوج تیار کی جائے جو فلسطین کی آزادی کے کام آ سکے؟
میرا یہ ماننا ہے کہ علماء، فضلاء اور اہل فکر و نظر افراد کی ایک اہم ترین ذمہ داری یہی ہے کہ اربعین ملین مارچ سے امام حسین (ع) کے نام پر ایک ایسی عالمی فوج تیار کی جائے جو باطل کے خلاف قیام کرے۔ وہ امت جو محرم الحرام کے آغاز سے لے کر ۲۰ صفر تک اپنے تمام اختیارات، احساسات، مادی اور معنوی وسائل ہمارے اختیار میں دیتی ہے، ہمارے دوش پراس کو صحیح سمت ہدایت کرنے کی ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس فضا سے بہترین فائدہ اٹھائیں۔ اس فضا سے ہم پوری دنیا میں امام حسین علیہ السلام کو زندہ کر سکتے ہیں، اور ایک عالمی انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔
امام حسین (ع) اس لیے شہید نہیں ہوئے کہ ہم صرف ان پر گریہ و ماتم کریں یا صرف آپ کی زیارت کر کے چلے جائیں بلکہ آپ نے حق کے قیام اور امت کی اصلاح کے لیے قربانی پیش کی۔ آپ نے فرمایا کہ میں دوسروں سے زیادہ حق پر ہوں، آج کے دور میں وہ حسینی ہے جو ظالموں اور ستمگروں کے خلاف آواز اٹھائے اور انقلابی تحریک چلائے۔
خیبر: عالم اسلام کے موجودہ اختلافات کے حل اور علاقائی بحران کے خاتمے کے لیے ہم کس طرح مکتب عاشورا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
دیکھیے جتنے بھی مذہبی مقدسات ہیں ان کے تئیں ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں ان ذمہ داریوں میں سے ایک معنوی اور روحانی ذمہ داری ہے کہ ایک زائر ان کی طرف سفر کی راہ میں اپنے ایمان کو استحکام بخشے۔ اس لیے کہ یہ تمام مقدسات خدا کا گھر شمار ہوتے ہیں جو مومن کے دل کے دروازے کو خدا کی طرف کھولتے ہیں اور انسان کو خدا سے نزدیک کرتے ہیں۔ دوسری ذمہ داری، عملی ذمہ داری ہے، یعنی زائر کو چاہیے کہ جس کی زیارت کرے اس کی تعلیمات پر بھی عمل پیرا ہو۔ ایک ذمہ داری اس سلسلے میں تبلیغ ہے یعنی زائر جب امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے جا رہا ہے آپ کے مقصد کی تبلیغ کرے، انہی ذمہ داریوں میں سے ایک مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنا اور ظلم و ستم کو مٹانا ہے۔ عصر حاضر میں مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کا اہم ترین عامل اور سبب یہی شعار ہے یعنی وحدت، عدالت کی برقراری اور ظلم کی نابودی کے محور پر قائم ہو۔
اسلامی مذاہب ظالم اور فاسد حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں رنج و فقر و ظلم کا شکار ہیں جبکہ فقر و ظلم خلاف دین ہے اس اعتبار سے شیعہ و سنی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ شیعوں کو جان لینا چاہیے کہ ان کے دشمن سنی نہیں ہیں۔ اور سنیوں کو بھی جان لینا چاہیے کہ شیعہ ان کے دشمن نہیں ہیں۔ ان دونوں کے دشمن ظالم و فاسد حکمران ہیں جو سب کو ظلم و جور کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔ اور وہ بھی در حقیقت امریکی اور صہیونی مستکبروں کے آلہ کار ہیں۔
خیبر: حال ہی میں سید حسن نصر اللہ نے اعلان کیا کہ محاذ مزاحمت در حقیقت خیمہ گاہ امام حسین (ع) ہے۔ کیا عالمی استکبار جیسے امریکہ اور اسرائیل کو یزید وقت شمار کیا جا سکتا ہے؟
حسین (ع) ایک مشن اور مکتب کا نام ہے اور یزید بھی ایک شخص نہیں بلکہ ایک باطل کردار کا نام ہے۔ لہذا جب امام حسین (ع) نے یزید کی بیعت نہیں کی تو یہ نہیں کہا کہ میں یزید کی بیعت نہیں کرتا بلکہ یہ کہا کہ میرے جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ لہذا مظلوم اور مستضعف اقوام کے خلاف ظالموں اور ستمگروں کی کاروائیاں اصل میں یزیدی کردار ہے۔ جو بھی ہمارے دور میں یہ ادراک نہ کرے کہ ہمارے زمانے کے ظالم اسرائیل اور امریکہ ہیں ہمارے زمانے کا یزید سامراجی اور استکباری طاقتیں ہیں تو اسے امام حسین علیہ السلام کی نسبت اپنے زاویہ دید کو بدلنا چاہیے اسے چاہیے کہ وہ آپ کی نہضت اور تحریک کے عوامل کا دوبارہ بغور مطالعہ کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳