عراق کے تخلیقی بحران کے پس پردہ عوامل




واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سماجی رابطوں کی وہ صہیونی ویب سائیٹز جو ایدی کوھین کی سربراہی میں چل رہے ہیں، ان سب میں ان مظاہروں کی حمایت موجود ہے، اور لوگوں کو مزید بڑھکایا جا رہا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عراق میں جو تخلیقی بحران کی سمت صورت حال جا رہی ہے، اس کا مقدمہ آپ کے سامنے ہے، اس کے حوالے سے کچھ حقیقی اسباب ہیں، جس نے ماحول کو مزید گرم کرنے میں مدد دی ہے، جیسے کرپشن اور بے روزگاری۔

لیکن اس وقت عراق جن مظاہروں کی لپیٹ میں ہے، اس کا ہدف نہ تو کرپشن کا خاتمہ ہے، اور نہ ہی روزگار کا حصول، اور نہ ہی بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا، کیونکہ یہ سارے مظاہرے اس وقت ہو رہے ہیں جب خطہ بدامنی اور سیاسی بحران کی لپیٹ میں ہے اور عراق بھی اس محیط سے کٹا ہوا نہیں۔

عراق میں تخلیقی بحران جس کی قیادت خفیہ ہاتھوں میں ہے کو وجود میں لانے کے چند اسباب و عوامل ہیں جن کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جا رہا ہے:

۱ – برطانوی اور اسرائیلی حمایت یافتہ میڈیا جس کی فنڈنگ سعودی عرب کر رہا ہے، نے چہلم کے اجتماعات کے خلاف منظم انداز سے پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے، جس کا ہدف اس عظیم اجتماع، اور مذہب کو کمزور کرنا ہے، اس ضمن میں وہ ڈاکومنٹری ہے جسے بی بی سی اس وقت نشر کرے گا جب اربعین کا کروڑوں کا اجتماع شروع ہوگا، اور انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے، کہ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے، کہ جب عراق کے اسلامی سیاسی جماعتوں کے سربراہ سیاسی حوالے سے اور کرپشن کے خلاف درست اقدام اٹھانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

۲- واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سماجی رابطوں کی وہ صہیونی ویب سائیٹز جو ایدی کوھین کی سربراہی میں چل رہے ہیں، ان سب میں ان مظاہروں کی حمایت موجود ہے، اور لوگوں کو مزید بڑھکایا جا رہا ہے۔

۳ – سعودی میڈیا مکمل طور پر ان مظاہروں کی حمایت کر رہا ہے اور آگ پر تیل ڈالنے کا کام کر رہا ہے۔

۴ – وہ لوگ جنہوں نے عراق کو نقصان پہنچایا، اور جو برطانوی اور امریکی ایجنسیوں کی گود میں پناہ لئے ہوئے ہیں وہ ان مظاہروں کی قیادت کا دعوی کر رہے ہیں۔ جیسے غیث التمیمی جیسے لوگ۔

۵ – دیکھا جا سکتا ہے کہ ان مظاہروں کی اکثریت جوانوں کی ہے، جن کو ان مظاہروں میں لایا گیا ہے اور ان کو گمراہ کیا جا رہا ہے، وہ جوان یہ سمجھتے ہیں کہ ان مظاہروں سے اور جلاو گھیراؤ سے یہ لوگ اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں،
جو کچھ بعض ویڈیو کلپس میں دیکھنے کو ملا کہ جس میں عام لوگوں کے املاک کو، گاڑیوں کو جلایا جا رہا ہے، جن میں سے ایک گاڑی میں بچی بھی موجود ہے، ان سب واقعات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں، کہ یہ جوان جو کچھ کر رہے ان کا کوئی افق نہیں سوائے بحران پیدا کرنے کے، اس طرح کے افسوس ناک دسیوں مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

۶ – اسرائیل کے دسیوں حملے جن کا ہدف حشد شعبی تھا، وہ حشد شعبی جس نے عراقی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر داعش کو ختم کرنے کے لئے تاریخی قربانیاں دیں، لیکن ایک مظاہرہ بھی نہیں ہوا جس میں ان اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی ہو۔

۷ – ایران کے قومی پرچم کو کیوں جلایا گیا، اور (ایران کو عراق سے نکلنا چاہیے) یہ نعرے کیوں لگائے گئے، کیا یہ مظاہرے اس لئے ہو رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ تعلقات ختم کردیے جائیں؟؟!!

۸ – ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ چند ہفتے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہمارے پاس دہشت گرد تنظیم داعش کے ہزاروں قیدی موجود ہیں اور انہیں ہم کسی وقت بھی رہا کر سکتے ہیں، تو کیا ان میں سے بعض قیدیوں کو رہا کر کے ان مظاہروں میں شامل ہونے کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔

۹- کچھ عرصہ پہلے جناب علامہ قیس الخزعلی نے کچھ معلومات بے نقاب کی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ دسویں مہینے میں عراق میں بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اگر ان تمام تاروں کو آپس میں ملایا جائے، تو ایک واضح نتیجہ سامنے آتا ہے، کہ عراق اس وقت ایک خطرناک سازش کا سامنا کر رہا ہے، اور اس سازش میں وہ لوگ شریک ہے جنکی سیاسی بصیرت نہیں ہے۔

آخر میں ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پر امن انداز میں مظاہرہ کرنا ایک قانونی حق ہے، لیکن ہم تخلیقی بحران کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، اور اس کا مقابلہ کیا جائے گا،

تحرير : حسین الدیرانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳