صہیونی معاشرے میں فقر و تنگدستی




اس رپورٹ کے مطابق یہودی گھرانوں میں بچوں کی صورتحال تشویشناک ہے اس لیے کہ ہر تین اسرائیلی بچوں میں ایک بچہ غریب ہے۔



بقلم سعید ابوالقاضی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل میں فقر و تنگدستی کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیلی اعلی عہدیداروں نے بارہا نیتن یاہو سے ملک میں غربت کے گراف کو کم کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسرائیلی بچے کوڑے دانوں میں کھانے پینے کی چیزیں تلاش کرتے ہیں
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے ایک تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کو شائع کر کے مقبوضہ فلسطین میں غربت کے حیران کن اعداد و شمار پیش کئے ہیں۔
اس ادارے کی رپورٹ میں آیا ہے کہ لاکھوں بچے اس علاقے میں غربت اور مفلسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
لیٹٹ ادارے کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطین کی آبادی میں سے ۲ ملین سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں ایک ملین تین لاکھ ادھیڑ عمر کے افراد ہیں اور بقیہ بچے ہیں۔ بطور کلی ایک چہارم صہیونی یہودی معیشتی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ایک چوتھائی صہیونی بچے رفاہی فلاح و بھبود کے محتاج ہیں۔ اور ان میں سے ایک تہائی سے زیادہ کو ایک وقت کا کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۵/۷ فیصد بچے کوڑے دانوں اور سڑکوں کے کناروں پر کھانے پینے کی چیزیں تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
اسرائیلی بچوں کی حالت زار
لیٹٹ ادارہ جو دس سال سے زیادہ عرصے سے اسرائیل کی معیشت اور اس ریاست میں پائی جانے والی غربت پر تحقیقات انجام دے رہا ہے، اس نے ۲۰۱۵ میں ایک رپورٹ میں شائع کیا کہ اسرائیل کی کل آبادی میں سے ایک ملین ۷۰۹ ہزار ۳۰۰ افراد جو تقریبا ۲۲ فیصد کا گراف ہے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق یہودی گھرانوں میں بچوں کی صورتحال تشویشناک ہے اس لیے کہ ہر تین اسرائیلی بچوں میں ایک بچہ غریب ہے۔ اور یہاں تک کہ ۴ / ۳۴ فیصد بچے بغیر ناشتہ کئے اسکولوں میں جاتے ہیں۔ جبکہ ۱ / ۱۱ فیصد بچوں کے والدین انہیں تین وقت کا کھانا کھلانے کی توانائی نہیں رکھتے۔ نیز ۱ / ۱۱ فیصد والدین اپنے بچوں کے لیے طبی سہولیات فراہم کرنے کی توانائی بھی نہیں رکھتے۔
سیاسی پارٹیوں کا حکومت سے غربت کے خاتمے کا مطالبہ
پچھلے کچھ سالوں میں بہت سارے اسرائیلی جرمنی اور امریکہ جا چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی معاشی پریشانیوں کی وجہ سے مقبوضہ فلسطین چھوڑ رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں زیادہ ٹیکسوں اور کم اجرت کی وجہ سے اسرائیلیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
لیبر پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار اسحاق ہرٹزک نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو کا غربت کے مسئلے سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غربت اسرائیل کے لئے اسٹریٹجک خطرہ ہے۔
لیبر پارٹی کے ایک اور سینئر عہدیدار ، ایسٹک شمولی نے بھی اقتصادی مسائل کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا۔ شمولی نے کہا ، “اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ غریبوں کی اکثریت محنت کش لوگ ہیں ، اور ۵٪ غریب بچے ہیں جو باہر جا کر کام کرتے ہیں۔” غربت کے خاتمے اور عدم مساوات کو کم کرنے کے لئے حکومت کو چاہیے کہ معاشرتی اہداف کو قانون میں شامل کرے۔ ہمارے پاس حکومت کے کافی کھوکھلے بیانات ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳