تاریخ میں حق و باطل کی کشمکش




لہذا آج جو معرکہ آرائی ہے حق و باطل کے درمیان اس کے حقیقی مصداق یہی دو طاقتیں ہیں، ایک طرف ولایت فقیہ کی طاقت ہے جو حق کی نمائندگی کر رہی ہے اور دوسری طرف کفر و استکبار اور عالمی صہیونیت کی طاقت ہے جو باطل کی نمائندگی کر رہی ہے، امریکہ و اسرائیل اور ان کے اتحادی ہیں جو شیطان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔



بقلم سعید ابوالقاضی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: تاریخ بشریت کے ابتدائی دور سے ہی حق و باطل کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی تھی، کبھی حق کامیاب ہوا تو کبھی باطل نے غلبہ کیا۔ حق و باطل کی یہ محاذ آرائی شیطان و انسان سے شروع ہوئی پہلے مرحلے میں شیطان انسان پر غالب آیا اور اسے وسوسہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ پھر باطل کے محاذ میں قابیل کو شیطان نے اپنا آلہ کار بنایا اور ہابیل کے قتل کے لیے اس کو استعمال کیا۔ لیکن پھر انبیائے الہی نے حق کی نمائندگی کی اور جگہ جگہ حق کا پرچم لہرایا۔ لہذا یہ دو محاذ یعنی حضرت آدم اور ابلیس، حضرت نوح اور ان کی قوم، ابراہیم اور نمرود، موسیٰ اور فرعون، عیسی اور قیصرروم، پیغمبر اسلام(ص) اور ابوسفیان، امام علی(ع) اور معاویہ، امام حسین(ع) اور یزید وغیرہ وغیرہ حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی کے وہ بارز اور عیاں خطوط ہیں جن میں ایک طرف ہمیشہ حق تھا اور دوسری طرف باطل۔ اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ سلسلہ حق و امامت کی بارہویں کڑی کے غیبت کبریٰ اختیار کر جانے کے بعد محاذ حق کا پرچم بزرگ شیعہ علما کے ہاتھوں میں آیا جبکہ دوسری طرف باطل کی رسی کو یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین نے تھام لیا اور آج یہ سلسلہ عالمی صہیونیت کی شکل میں دنیا میں باطل محاذ کی نمائندگی کر رہا ہے۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ حق کا پرچم جو انبیاء و صلحا کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا آج ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کے ہاتھوں میں پہنچا ہے انشاء اللہ خدا کی آخری حجت کے ظہور کے بعد یہ پرچم اس کے حق وارث یعنی امام زمانہ (عج) کے ہاتھوں میں دیا جائے گا۔ لہذا آج جو معرکہ آرائی ہے حق و باطل کے درمیان اس کے حقیقی مصداق یہی دو طاقتیں ہیں، ایک طرف ولایت فقیہ کی طاقت ہے جو حق کی نمائندگی کر رہی ہے اور دوسری طرف کفر و استکبار اور عالمی صہیونیت کی طاقت ہے جو باطل کی نمائندگی کر رہی ہے، امریکہ و اسرائیل اور ان کے اتحادی ہیں جو شیطان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اب ان کے مقابلے میں جو گروہ ڈٹے ہوئے ہیں اور استقامت اور پائیداری کا ثبوت دے رہے ہیں وہ چاہے حزب اللہ ہو، انصار اللہ ہو یا حماس ہو سب اسلامی انقلاب کے خط پر چلتے ہوئے پرچم حق کے زیر سایہ باطل کا مقابلے میں صف آراء ہیں اور جو امریکہ و اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں یا بڑھا چکے ہیں وہ یقینا حق کی صفوں سے نکل کو باطل کی صفوں میں داخل ہو چکے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ خداوند عالم نے سورہ قصص کی آیت نمبر ۵ میں آخر کار حق کی کامیابی کا وعدہ کیا ہے۔ «وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ» اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دی دیں۔
لہذا امام خمینی (رہ) کے فرمان کے مطابق ہم نے ارادہ کر لیا ہے کہ پرچم ’لا الہ الا اللہ‘ کو عزت و اقتدار کی بلند چوٹوں پر لہرا دیں، ہم اس راہ میں تمام باطل طاقتوں کے خلاف محاذ آرائی کریں گے اور یہ آواز دیں گے کہ جب تک کفر و شرک ہے جنگ ہے اور جب تک جنگ ہے ہم ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳