کتاب “فراموش شدہ فلسطینی” کا تعارف




ایلان پاپے کتاب “فراموش شدہ فلسطینی” میں غاصب صہیونی حکومت کے ماتحت زندگی گزارنے والے فلسطینیوں کے حالات پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اس کتاب میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں کو متقن دلائل و دستاویزات کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کتاب “فراموش شدہ فلسطینی” (The Forgotten Palestinians: A History of the Palestinians in Israel) اسرائیلی مورخ ”ایلان پاپے” کے قلم سے ۲۰۱۱ میں منظر عام پر آئی۔ ایلان پاپے سنہ ۱۹۴۵ میں مقبوضہ فلسطین کے شہر حیفا میں پیدا ہوئے۔ پاپے عہد حاضر میں برطانیہ کی ایگزیٹرم یونیورسٹی (University of Exeterm) میں شعبہ بین الاقوامی مطالعات کے پروفیسر ہیں۔
ایلان پاپے کے بعض دیگر آثار
• The Idea of Israel: A History of Power and Knowledge
• The Boycott Will Work: An Israeli Perspective
• A History of Modern Palestine: One Land, Two Peoples
ایلان پاپے کتاب “فراموش شدہ فلسطینی” میں غاصب صہیونی حکومت کے ماتحت زندگی گزارنے والے فلسطینیوں کے حالات پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اس کتاب میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں کو متقن دلائل و دستاویزات کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاپے نے اس کتاب میں واضح طور پر لکھا ہے کہ مقبوضہ فلسطین، کوئی مستقل یہودی ملک نہیں تھا اور صرف فلسطینی اس علاقے میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ انہوں نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ کیسے فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا گیا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا۔ آج بھی ان کے ساتھ ہر طرح کا امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔
اسرائیل میں جمہوریت
پاپے نے اس کتاب میں اسرائیل میں جمہوریت کے مسئلے کو بھی مورد بحث قرار دیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ اسرائیلی نظام حکومت کے مدافعین اس ریاست میں جمہوریت کے مکمل نفاذ کا دفاع کرتے ہیں اور فلسطینیوں کو حق رائے دئے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ فلسطینیوں کو بہت سارے امور میں کوئی اختیار نہیں دیا گیا ہے۔
صہیونی حکومت کے ماتحت فلسطینی عوام کے زندگی گزارنے کا بدترین پہلو یہ ہے کہ فلسطینی عوام کی سرنوشت صہیونی نظام حکومت کے ہاتھ میں رقم ہوتی ہے۔
پروفیسر ایلان پاپے اس کتاب کے ایک حصے میں ان فلسطینیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں جنہیں اپنے وطن سے نکال تو دیا گیا لیکن ابھی بھی انہوں نے اپنا ملک نہیں چھوڑا اور مسلسل اس کی بازیابی کے لیے جد وجہد کر رہےہیں۔ ایلان پاپے اس کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ سنہ ۱۹۴۹ میں صہیونیوں نے فلسطینیوں کے شہر اور دیہات اجاڑ دئیے۔ وہ قائل ہیں کہ ہزاروں افراد اس ظلم و تشدد کا نشانہ بنے اور اپنی زندگیوں سے منہ ہاتھ دھو بیٹھے۔ آج وہ شہر جن میں یہودی زندگی بسر کر رہے ہیں اور وہ پارکیں جو یہودیوں کی تفریح کا سامان ہیں در اصل وہی دیہات ہیں جن میں فلسطینیوں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں اور انہیں قتل عام کر کے ان سے زمینیں چھین لی گئیں۔

…………..

ختم شد؍۱۰۳