جب مسجد اقصیٰ میں نہتے نمازیوں کو شہید کیا گیا




 ۸ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ میں ۲۲ فلسطینی شہید اور دسیوں زخمی ہوئے۔ فلسطینی تاریخ میں اسرائیل اور صہیونی ریاستی دہشت گردی کا یہ ایک بدترین واقعہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ۸ اکتوبر سنہ ۱۹۹۰ء کو قابض صہیونی فوج نے منظم اور منصوبہ بند ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں ایک بار پھر سیاہ تاریخ رقم کرتے ہوئے نہتے فلسطینی نمازیوں پرگولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں کئی فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے۔

یہ واقعہ منظم ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے جسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم کے طور پرپیش کیا جائے گا۔

مسجد اقصیٰ میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف  صہیونی ریاست کی منظم ریاستی دہشت گردی کی نہ صرف فلسطین بلکہ عالمی سطح پر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

یہ واقعہ ۸ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو نماز ظہر سے کچھ ہی دیر قبل پیش آیا جب یہودی آباد کاروں کے ایک گروپ’امنائے ہیکل’ نے مسجد اقصیٰ میں مزعومہ ہیکل سلیمانی کا سنگ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا۔ اس مذموم مقصد کے لیے دسیوں یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو فلسطینی نمازیوں نے اُنہیں روکنے کی کوشش تو مسلح صہیونی نہتے فلسطینی نمازیوں پر پل پڑے جس کے نتیجے میں ۲۲ فلسطینی شہری موقع پر ہی شہید اور ۲۰۰ زخمی ہوگئے جب کہ ۲۷۰ فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

نفرت کی آگ

سنہ ۱۹۶۷ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ کے بعد مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی ریاست کی طرف سے مسجد اقصیٰ کے خلاف انتقامی حربوں کا آغاز ہوگیا۔ سنہ ۱۹۶۹ء میں انتہا پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ سنہ ۱۹۸۲ء کو مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کے نیچے کھدائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سنہ ۱۹۸۶ء اور ۱۹۸۷ء میں اسرائیلی ریاست کی حمایت یافتہ صہیونی گروپوں نے مسجد اقصیٰ میں  مسجد اقصیٰ میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی سازشیں تیز کردیں۔

مگر اس وقت مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے والے آباد کاروں کی تعداد کم تھی اور آج کی طرح سیکڑوں میں نہیں تھی۔ یوں انہوں نے ایک بار پھر مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کے قیام کی سازشیں تیز کردیں۔

انتہا پسند یہودی’جرشون سلمون’ اور اس کی تنظیم امناء جبل ہیکل’ نے مسجد اقصیٰ میں یہودی آباد کاروں نے ہیکل سلیمانی کےسنگ بنیاد کی کوششیں تیز کردیں۔ یہاں تک کہ ۸ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو مقامی وقت کے مطابق دن ۱۱ بجے یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کرمقدس مقام کی بے حرمتی کی کوشش کی۔

شہداء مسجد اقصیٰ

مسجد اقصیٰ میں نہتے فلسطینیوں کا خون خرابہ یہودیوں کے مذہبی تہوار ‘یوم کپور’ کے موقع پر کیا گیا۔مسجد اقصیٰ میں نہتے فلسطینیوں کا قتل عام اسرائیلی فوج اور ریاست کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔

مسجد اقصیٰ میں نہتے فلسطینی نمازیوں کے قتل عام سے آدھ گھنٹا پیشتر قابض فوج نے مسجد اقصیٰ کی طرف آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی۔ اس موقع پر فلسطینیوں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی ممکنہ دراندازی اور دھاووں کے پیش نظر جمع ہوچکی تھی۔

قابض فوج نے نہتے فلسطینی نمازیوں پر زہریلی گولیاں چلائیں اوراشک آور گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ۲۲ فلسطینی موقع پر ہی شہید اور ۲۰۰ زخمی ہوگئے۔ مسجد اقصیٰ کا صحن فلسطینی نمازیوں کے خون سے رنگین ہوگیا۔ قابض فوج نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے ہوئے زخمی ہونے والے فلسطینیوں کو مزید تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہیں زنجیروں  میں باندھا اور گاڑیوں میں ڈال کر حراستی مراکز منتقل کردیا گیا۔

اسرائیلی ریاست کی منظم دہشت گردی کا یہ بدترین واقعہ تھا جس میں نہتے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں گھس کر شہید کیا گیا اور مقدس مقام کے تقدس کو بری طرح پامال کیا گیا۔ مسجد اقصیٰ میں شہید ہونےوالے فلسطینیوں کا تعلق مقبوضہ بیت المقدس، غرب اردن اور اندرون فلسطین سے تھا۔ اس واقعے نے عالم اسلام کو ایک بار پھر سخت غم وغصے کی کیفیت سے دوچار کیا اور فلسطینیوں کے خلاف قابض فوج کے وحشیانہ کریک ڈائون کی شدید مذمت کی گئی۔

عالم اسلام کی طرف سے اس واقعے پرمذمتی بیانات کے سوا کچھ نہ کیا جا سکا اور آخر کار یہ واقعہ بھی عالمی اداروں کے دفاتر میں پڑے فائلوں کے دبستان میں دب گیا۔ اس کا کرب اگر کسی کو یاد ہے تو وہ فلسطینی ہیں جن کے پیاروں کو مسجد میں بے دردی کے ساتھ گولیوں سے بھون دیا گیا یا وہ زخمی ہیں جوآج تک معمول کی زندگی شروع نہیں کرسکے۔

یہودی آباد کار ایک بار پھر عید کپور منا رہے ہیں اور فلسطینیوں کی لاشوں اور قتل عام کا جشن مناتے ہوئے فلسطینی قوم کو اپنی رعونت اور دہشت گردی کا پیغام دے رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳