مغربی ایشیا کے خطے میں طاقت کی جنگ- حصہ دوم




اس تحریر کے پہلے حصے میں امریکہ کی جانب سے ایران کو لاحق فوجی خطرہ اور دی جانے والی دھمکی اسکی علت اور جنگ کے امکان پر گفتگو ہوئی، پیش ںظر تحریر میں ہم اس لحاظ سے کہ سعودی عرب مغربی ایشیاء میں امریکہ کا متحد مانا جاتا ہے اور دوسری طرف سے بلا واسطہ اور واسطے کے ذریعہ ایران کو اس نے بھی دھمکی دی ہےاس بات کا تجزیہ کریں گے کہ ان دھمکیوں میں کتنا دم خم ہے اور کتنا وزن ہے ۔



ترجمہ و تحقیق: خیبر تحقیقاتی گروپ

 امریکہ کے ایک معتبر تحقیقاتی تھنک ٹینکرز کے ادارہ واسٹراٹیجک مطالعات کے مرکز(CSIS) [1]  کی جانب سے کئَے گئے ایک سروے میں یہ بات پیش کی گئی ہے کہ موجودہ دھمکیاں سعودی عرب کی ناتوانی وفقدان صلاحیت  کی بنا پر کسی کام کی نہیں ہیں اور ان میں کوئی دم نہیں پایا جاتا ہے ۔

ایران کی طاقت کے عناصر

ایران کی طاقت کا ایک عنصر اسکے میزائل پروگرام کی طاقت ہے اور یہ طاقت میزائلوں کی تعداد اور انکی مار دونوں ہی کے اعتبار سے اہم ہے اسکی مار اور اپنے ہدف تک جا ٹکرانے کا فاصلہ ۲۵۰۰ کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے یعنی یہ ڈھائی ہزار کلو میٹر کے فاصلے کو طے کر کے با آسانی اپنے مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہیں اور یہ سعودی عرب کے لئے ایک سنگین و بڑا خطرہ ہے، سعودی عرب کی جانب سے ایران کے مقابل  ناتوانی کی ایک مثال یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں کئے کئے گئے حملوں کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔

اسلامی جمہوریہ کا ایک اور مضبوط عنصر سعودی رجیم کے مقابل اسکی سائبری طاقت ہے اس لئے کہ سعودی حکومت کی بہت سی داخلی کار کردگیاں خواہ انکا تعلق اقتصادی مسائل سے ہو یا سیاسی و مواصلاتی سسٹم یا پھر تیل سے ہو سب کے سب زیادہ تر الیکٹرانیکی طرز پر انجام پاتی ہیں اور اگر کوئی سائبری حملہ ہوتا ہے تو اس حکومت کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

ایران کی بحریہ کی صلاحتیں  بھی ایران کے مضبوط عناصر میں سے ایک ہے جسے سعودی عرب سے جنگ کے دوران ایک کے مضبوط پوائنٹ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، سمندری مائنز ہوں یا کروز ساحلی میزائل ، ایران کی تیز رفتاربوٹس ہوں یہ سب کے سب سعودی عرب کے مقابل ایران کی واضح بالا دسی کو بیان کرنے کے لئے کافی ہیں علاوہ ازایں ایران خیلج فارس کا واحد ایسا ملک ہے کہ جسکے پاس ایسی آب دوز موجود ہے جس کے ذریعہ سمندری گہرائی میں مائنز فٹ کرنے کے ساتھ اژدر جیسی میزائل کو پانی میں ہی داغا جا سکتا ہے[۲]

سعودی عرب کی ناتوانی و کمزوری کے عناصر

سعودی عرب کے ایران سے تقابل میں جوسب سے بڑا پوائنٹ نظر آتا ہے وہ دونوں ممالک کی آبادی اور دونوں جانب سے لڑائی کے لئے تیار بیٹھی فروسز کی تعداد ہے اور اس لحاظ سے ایران کے مقابل سعودی عرب بہت ہی کمزور پوزیشن میں ہے علاوہ از ایں ایران کی آمادہ ِ جنگ فورسز کے مقابل امریکہ بھی سعودی عرب کی اس خطے میں مدد نہیں کر سکتا ہے اس لئے کہ وہ  گوریلا اور نا منظم جنگوں میں ایران اور اسکے متحدین کے خلاف اپنا امتحان دے چکا ہے اور اسے منھ کی کھانی پڑی ہے، چنانچہ ایران و اسکے  حماس و حزب اللہ جیسے متحدین کے مقابل امریکہ کے عملی اقدام کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔

اسکے علاوہ یہاں پر ایک اور نکتہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے تیل کی تمام تر تنصیبات اور اسکا مکمل انفراسٹریکچر خطرے کی زد پر ہے اور یہ کئی جہتوں سے قابل اہمیت ہے اگر اس پر حملہ ہوتا ہے تو دنیا میں اسکے وسیع پیمانے پر اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں ،سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تیل اس حکومت کے لئے حیاتی شریانوں کی مثل شمار ہوتا ہے دوسری بات یہ ہے کہ سعودی حکومت کا تیل عالمی تیل کی قیمتوں اور دنیا کی انرجی کی فراہمی میں اہم کردار کا حامل مانا جاتا ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ  سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات پر حملہ یورپ اور  ترقی یافتہ ممالک کے اقتصاد کے لئے بھی مشکلات  کھڑی کرنے کا سبب بن سکتا ہے اور یہ سب کے سب مشکلوں میں پڑ سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی یورپی ملک حتی امریکہ اس جنگ سے راضی نظر نہیں آتے ہیں اور یقینا ممکنہ جنگ کے چھڑ جانے کے سامنے و رکاوٹ بنیں گے  کیونکہ انکے اپنے مفادات خطرے میں ہیں ۔

اسکے علاوہ اس سعودی رجیم کی ایک ممکنہ مشکل اس رجیم کی سرحدوں میں قائم تیل کے تنصیبات  سے صرف نظر اس حکومت کے آئل ٹرمینالز ہیں جنکا کام آئیل ٹیکنروں تک تیل کی رسائی کرنا ہے، اور ایران کی بحری طاقت اور اسکی بحریہ کی کثرت کے علاوہ ایران کے پاس ایک ترپ کا پتہ[۳] ہرمز کی آبراہ[۴] ہے جو آئیل ٹینکروں کی نگرانی کرنے کے لئے ایران کے پاس بہترین موقع  کی فراہمی کا سبب ہے ۔

سعودی عرب کا ایک اور کمزوز پوائنٹ اس ملک کے پانی کو میٹھا کرنے والی تنصیبات ہیں در حقیقت ۷۰ فیصد سعودی عرب کے پینے کے پانی کی تنصیبات پانی اور فضا کے ذریعہ نشانے پر ہیں اور ان پر سمندری و فضائی دونوں ہی طرح سے حملہ کیا جا سکتا ہے اور علاوہ اسکے کہ پانی میٹھا کرنے والی تنصیبات  کے مخزن میں ایسا مادہ ڈالا جا سکتا ہے جس کے ذریعہ آسانی سے اسے دوبارہ صاف نہ کیا جا سکتا ہو ان  تنصیبات پر حملہ بھی کیا جا سکتا ہے جسکی بنیاد پر طویل مدت تک کے لئے اس حکومت کا اپنے پیروں پر کھڑے ہونے ممکن نہ ہوگا[۵] اور اگر غور کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ایسی جنگ ہرگز وقوع پذیر نہیں ہو سکے گی ۔

[۱]  ۔ (CSIS) یا (Center for Strategic and International Studies): نامی یہ امریکی رسرچ سینٹر واشنگٹن ڈی سی میں قائم ہے اور اپنے بنیادی دستور العمل کے مطابق یہ کسی بھی  امریکی پارٹی سے وابستہ نہیں ہے ، یہ امریکہ کا ایک ایسا تحقیقاتی ادارہ ہے جس میں مختلف تھنک ٹینکرز کے افکار و مطالعات کی روشنی میں سیاست ، اقتصاد و معیشت اور بین الاقوامی تحفظ و سلامتی جیسے عالمی  موضوعات پر فوکس کرتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات عامہ، تجارت ، ٹیکنالوجی، Technology،اثاثہ جات کا انتظام و انصرام ، یا فائنانس  اور جیواسٹراٹیجی Geostrategy جیسے موضوعات پر اپنے تحقیقی نتائج کو پیش کیا جاتا ۔

[۲]  ۔ http://www.ca-irnews.com/fa-ir/picture-of-the-day-fa/8942- و https://jangaavaran.ir و https://www.yjc.ir/fa/news/

[۳]  تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : https://web.archive.org/web/20180911081557/https://oilprice.com/Geopolitics/International/How-Iran-Plans-To-Bypass-The-Worlds-Main-Oil-Chokepoint.html

[۴]   آبنائے ہرمز جسے انگریزی میں Strait of Hormuz۔ کہا جاتا ہے خلیج اومان اور خلیج فارس کے درمیان واقع ایک اہم آبنائے ہے۔ اس کے شمالی ساحلوں پر ایران اور جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور اومان واقع ہیں۔ یہ آبنائے کم از کم ۲۱ میل چوڑی ہے۔ یہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستوں کے تیل کی برآمدات کا واحد بحری راستہ ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ روزانہ دنیا بھر میں تیل کی کل رسد کا ۲۰ فیصد اس آبنائے سے گذرتا ہے۔

[۵]  ۔-https://www.mashreghnews.ir/news/982789

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۲