آغاز اسلام میں یہودیوں کے مکارانہ حربے




مورخین کا کہنا ہے: ’’یہودی قوم نے پیغمبر اسلام کے خلاف ایک سازش جو رچائی وہ یہ تھی کہ ان کے ایک گروہ نے منصوبہ بنایا کہ پیغمبر اکرم(ص) کے پاس جائیں اور انہیں مختلف طرح کی لالچ دے کر اسلام کی تبلیغ سے منحرف کریں۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مدینہ کا یہودی معاشرہ اسلام کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کی وجہ سے اپنے اہداف و مقاصد کے حصول میں ناکامی سے دوچار ہوا تو اسی وجہ سے یہودیوں کے دلوں میں اسلام کی نسبت دشمنی اور نفرت جڑیں پکڑ گئی۔ لہذا انہوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے مختلف طرح کے منصوبے اور پروپیگنڈے شروع کر دئے کہ جن میں سے چند ایک کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جا سکتا ہے:
پیغمبر اسلام(ص) کو تبلیغ دین سے منحرف کرنے کی کوشش
اسلام کے خلاف یہودیوں کا ایک منصوبہ یہ تھا کہ پیغمبر اکرم (ص) کو اصلی راستے سے منحرف کریں، انہیں دین کی تبلیغ سے روکیں اور مسلمانوں میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرکے انہیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے سے دور کریں۔ (۱)
مورخین کا کہنا ہے: ’’یہودی قوم نے پیغمبر اسلام کے خلاف ایک سازش جو رچائی وہ یہ تھی کہ ان کے ایک گروہ نے منصوبہ بنایا کہ پیغمبر اکرم(ص) کے پاس جائیں اور انہیں مختلف طرح کی لالچ دے کر اسلام کی تبلیغ سے منحرف کریں اس لیے کہ وہ بھی ایک انسان ہی تو ہیں‘‘۔
جب وہ اپنے منصوبے پر متفق ہو گئے تو پیغمبر اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: ’’اے محمد آپ جانتے ہیں کہ ہم یہودیوں کے سردار ہیں اگر ہم آپ کی پیروی کریں گے تو سب یہودی آپ پر ایمان لے آئیں گے ہمارے درمیان اور دیگر یہودی قوموں کے درمیان کچھ مسائل میں اختلاف ہو گیا ہے۔ اگر آپ ہمارے حق میں حکم کریں تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت کی تصدیق کریں گے‘‘۔ لیکن رسول خدا نے ان کی باتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور ان کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ (۲) یہودیوں کے اس مکارانہ اقدام کے حوالے سے قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی:
وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ (مائدہ ۴۹)
اور اے پیغمبر آپ ان کے درمیان تنزیل خدا کے مطابق فیصلہ کریں اور ان کی خواہشات کا اتباع نہ کریں اور اس بات سے بچتے رہیں کہ یہ بعض احکام الہی سے منحرف کر دیں۔ پھر اگر یہ خود منحرف ہو جائیں تو یاد رکھیں کہ خدا ان کو ان کے بعض گناہوں کی مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتا ہے اور انسانوں کی اکثریت فاسق اور دائرہ اطاعت سے خارج ہے۔
اس آیت میں پروردگار عالم نے پہلے پیغمبر اکرم کو عادلانہ اور الہی قوانین کے مطابق قضاوت اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے دوسرے پیغمبر اکرم کو خبردار کیا ہے کہ یہودیوں نے اکٹھا ہو کر آپ کو صراط حق سے منحرف کرنے کی سازش رچا رکھی ہے کہ آپ حق و عدالت کے راستے سے دور ہو جائیں۔ تیسرے اگر اہل کتاب عادلانہ قضاوت کے مقابلے میں تسلیم نہ ہوں تو جان لیں کہ ان کا دامن گناہوں سے آلودہ ہے اور ان سے توفیق ہدایت سلب ہو چکی ہے لہذا خدا ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ (۳)
حواشی
[۱] عفيف عبدالفتاح طباره، همان، ص ۳۵
[۲] محمد رشيد رضا، تفسير القرآن الحكيم (المنار)، ج ۶، ص ۴۲۱؛ ابن هشام، همان، ج ۲، ص ۲۱۶ و واحدی، اسباب النزول، ص ۲۲۹
[۳] ناصر مکارم، تفسیر نمونه، ج ۴، ص ۵-۴۰۴.

………….

ختم شد؍۱۰۳