تل ابیب سے ریاض جانے والے نجی جیٹ کی پراسرار پرواز




اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اردن کے راستے سے ریاض جانے والے اسرائیل کے نجی جیٹ طیارے کی پرواز کی اطلاع دی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، منگل کی رات اسرائیل کے ایک نجی جیٹ طیارے نے تل ابیب کے بن گورین ایئرپورٹ سے اردن کے دار الحکومت امان کی جانب اڑان بھری اور دو منٹ کے لیے اردن میں وقفے کے بعد یہ طیارہ ریاض کے لیے پرواز کر گیا۔
یہ پرواز ۵۵ منٹ سعودی عرب کے ایئرپورٹ پر رکنے کے بعد دوبارہ تل ابیب واپس لوٹ آئی۔
بین الاقوامی القدس العربی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی نیوز ایجنسی ہاآرتض کے عبرانی زبان کے نامہ نگار “اوی شارو” نے بدھ کے روز ٹویٹ کیا کہ وہ فلائٹ راڈار ویب سائٹ کے ذریعے اس پراسرار طیارے کا سراغ لگاتے رہے ہیں۔
فلائٹ راڈار پروگرام سے پتہ چلتا ہے کہ N556US نجی طیارہ جو امریکہ کی ایک پرائیویٹ کمپنی کا ہے نے حالیہ دنوں بن گورین ایئرپورٹ سے قاہرہ ایئرپورٹ پر بھی کئی مرتبہ اڑانیں بھری ہیں۔
صہیونی نیوز ایجنسی معاریو کے نامہ نگار “یوسی ملمان” نے بھی اپنے ٹویٹر اکاونٹ میں لکھا: “سعودی عرب کے لیے ایک پراسرار اڑان”۔ چیلنجر نے گذشتہ شب بن گورین ایئرپورٹ سے امان کے لیے اڑان بھری اور دو منٹ کے وقفے کے بعد ریاض کے لیے اڑان بھری۔ یہ طیارہ سعودی رن وے پر ۵۵ منٹ کے لیے رکا اور واپس بن گورین ایئرپورٹ آ گیا۔
ملمان کا کہنا ہے کہ چونکہ سعودی حکام تل ابیب سے اپنے ملک کے لیے براہ راست پروازوں کی اجازت نہیں دیتے اس وجہ سے طیارے کو کچھ منٹ کے لیے کسی تیسرے ملک میں رکنا پڑتا ہے اور اس کے بعد سعودی عرب کے لیے اپنا سفر شروع کرتا ہے۔
ملمان کا مزید کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ “مارک اسپر” گذشتہ روز ریاض میں تھے اور احتمال دیا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو یا موساد کے سربراہ “یوسی کوہن” مبینہ طیارے کے ذریعے کسی اہم مسئلے پر گفتگو کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳