جنرل قاسم سلیمانی کا 20 سال میں پہلا خصوصی انٹرویو - 1

اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ ممکن نہیں: قاسم سلیمانی




سپاہ پاسداران کے کمانڈر نے ۳۳ روزہ جنگ کے حوالے سے اپنے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ایک اسپیشل آپریشن کا منصوبہ بنایا گیا، جس کا کمانڈر شہید عماد مغنیہ تھے۔ مجھے نہیں پتہ کہ انہیں کس نام سے پکاروں، کیا انہیں بھی آج کل عام ہونیوالے لقب یعنی “سردار” کا نام دوں؟ آج کل ہمارے ملک میں سردار اور امیر جیسے القاب بہت عام ہوگئے ہیں، لیکن شہید عماد مغنیہ اِس لقب سے ماوراء تھے، وہ صحیح معنوں میں ایک حقیقی سردار تھے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: جنرل قاسم سلیمانی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ دوست و دشمن سبھی انکی عسکری صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ انہیں عصر حاضر میں عالم اسلام کا ناقابل شکست سپہ سالار کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں، کیونکہ حاج قاسم سلیمانی جس میدان جنگ میں بھی وارد ہوئے، کامیابی و کامرانی نے انکے قدم چومے اور عبرتناک شکست دشمن کا مقدر بنی۔

سوال: ہم چاہتے ہیں کہ گفتگو کا آغاز ۳۳ روزہ جنگ کے اسباب سے کریں، یہ جنگ تب چھڑی جب خطے اور بالخصوص افغانستان اور عراق میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے تقریباً پانج سال ہو رہے تھے اور امریکہ کو عراق میں مختلف ناکامیوں کا سامنا تھا۔ اسی لیے “نئے مشرق وسطی” کے امریکی پلان کو بڑے مسائل کا سامنا تھا۔ لیکن اچانک سے کھیل کا رخ بدل گیا اور لبنان کو اس پلان اور کھیل کے میدان کے طور پر چنا گیا اور ۳۳ روزہ جنگ شروع ہوگئی۔ یہ جنگ کیوں پیش آئی۔؟
الحاج قاسم سلیمانی: بسم اللہ الرحمن الرحیم، سید الشہداء مولا حسین علیہ السلام کے ایامِ عزا کی مناسبت سے آپ سب کی خدمت میں تسلیت عرض کرتا ہوں۔ ۳۳ روزہ جنگ کے مسئلے کے پیچھے کچھ خفیہ اسباب تھے، جو جنگ کی وجہ بن گئے، اور کچھ ظاہری اسباب تھے، جو اُن اصل اسباب کے حصول کا بہانہ بن گئے۔ اگرچہ ہمیں پہلے سے ہی صہیونیوں کی تیاری کی خبر تھی، لیکن ہمیں یہ نہیں پتہ تھا کہ دشمن ہمیں جنگ کے ذریعے سرپرائز کرنا چاہتا ہے۔ جنگ کے شروع ہونے کے بعد دو موضوعات کو دیکھ کر ہم اس نتیجے تک پہنچے کہ ایک تیز رفتار اور غیر متوقع جنگ کے ذریعے حزب اللہ کو نیست و نابود کر دیا جائے، لیکن جنگ ایسے حالات میں چھڑ گئی، جس میں دو اہم واقعات تھے، ایک پورے خطے سے مربوط واقعہ اور دوسرا خود صہیونی حکومت سے۔ خطے کا واقعہ یہ تھا کہ امریکہ، نائن الیون کے ذریعے ہمارے خطے میں کافی حد تک اپنی فوجی موجودگی بڑھا چکا تھا، جس کی تعداد کے لحاظ سے مثال شاید دوسری جنگ عظیم میں ملے، لیکن کیفیت کے لحاظ سے دوسری جنگ عظیم سے بھی زیادہ خوفناک۔

۱۹۹۱ء میں کویت پر صدام کے حملے کے بعد، امریکہ کا عراق پر حملہ اور صدام کا تخت الٹنے کے بعد، ہمارے خطے میں ایسی سکیورٹی حالت پیش آئی، جو کہ امریکی فورسز کے یہاں باقی رہنے کی وجہ بن گئی۔ البتہ نائن الیون کے بعد، امریکہ کے افغانستان اور عراق پر حملوں کے بعد سے امریکہ کی فورسز کی ۴۰ فیصد تعداد بلا واسطہ ہمارے خطے میں داخل ہوگئی اور بعد میں رفتہ رفتہ نئی تعینات اور پیش آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے، بات ریزرو فورسز اور نیشنل گارڈز کی موجودگی تک بھی پہنچ گئی، یعنی کہا جا سکتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فورسز پر مشتمل تقریباً ۶۰ فیصد امریکی فوجی، خطے میں داخل ہوئے۔ لہٰذا ایک بہت بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی واقع ہوئی کہ جس میں فقط عراق میں ۱۵۰ ہزار امریکی فوجی حاضر ہوئے۔ اور ۳۰ ہزار سے زائد فورسز، افغانستان میں داخل ہوئیں، یہ تعداد اُس ۱۵ ہزار فوجیوں کی تعداد سے ہٹ کر ہے، جو اقوام متحدہ کی جانب سے وہاں حاضر تھے۔ لہٰذا تقریباً ۲۰۰ ہزار اسپیشل اور تربیت یافتہ فورسز فلسطین کے پاس موجود تھیں۔ ظاہر ہے کہ اِن کی موجودگی نے صہیونیوں کو اچھے مواقع فراہم کر دیئے۔

یعنی امریکیوں کی عراق میں موجودگی، شامیوں کی شام کے اندر سرگرمیاں نہ کر پانا، شامی حکومت سمیت ایرانی حکومت کے لئے بھی ایک خطرہ تھا۔ لہٰذا آپ اگر ۳۳ روزہ جنگ کے وقت آپ عراقی جغرافیہ کو دیکھیں گے تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ عراق، مقاومت کے مرکز (یعنی لبنان) کے ساتھ ہمارے رابطے کا واحد راستہ ہے۔ امریکہ نے ہمارے سامنے تقریباً ۲۰۰ ہزار مسلح افواج، سینکڑوں ہوائی جہاز اور ہیلی کوپٹر سمیت ہزاروں جنگی سازوسامان کی رکاوٹ بنا دی۔ ظاہر ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی سے صہیونی حکومت کو اچھے مواقع فراہم ہو رہے تھے جو اِس سے فائدہ اٹھا سکے۔ اس معنی میں کہ ایران اور شام اِس کی ہیبت سے ڈر جائیں اور نتیجہ یہ ہو کہ یہ دو کچھ نہ کرسکیں۔ صہیونی حکومت کو اچھے مواقع فراہم تھے، کیونکہ امریکہ کی حکومت وقت یعنی بش کی حکومت جو کہ ایک تشدد پسند اور فیصلوں میں جلد بازی کرنے والی حکومت تھی اور دوسری طرف سے وائٹ ہاؤس کی ٹیم بھی صہیونی حکومت کی حمایت میں تھی، لہٰذا صہیونیوں کو عسکری حملے کے لئے اچھا موقع نظر آیا۔ چنانچہ یہ جنگ کے اصل اسباب تھے، جو کہ امریکہ کی خطے میں فوجی موجودگی، صدام کی حکومت کا خاتمہ اور افغانستان حملے میں امریکہ کی ابتدائی کامیابی سمیت خطے پر طاری امریکی فوج کا رعب و دبدبہ تھا۔

امریکہ نے خطے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی پالیسیوں کے مخالف سیاسی گروہوں کو دہشتگرد گروہ ٹہرایا تھا۔ صہیونی حکومت نے ایسے موقع سے فائدہ اٹھانا تھا اور ایک تیز رفتار جنگ کے لئے یہی اچھی فرصت تھی، کیونکہ اس حکومت کو ۲۰۰۰ء میں ایک شکست کا سامنا ہوا تھا اور لبنان سے ایک بار پسپائی اختیار کی تھی، بلکہ بھاگ گئی تھی اور حزب اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کیا تھا۔ وہ اِس بار چاہتے تھے کہ لبنان پر حملہ کریں، لیکن اس پر قبضہ کرنے کے مقصد سے نہیں بلکہ جنوبی لبنان کی سیاسی شکل تباہ کرنے کے لیے۔ یہ بات جنگ شروع ہونے کے بعد ہی برملا ہوگئی کہ اُن کا اصل مقصد لبنان کی ڈیموگریفی پوری طرح بدلنے کا تھا۔ اس معنی میں کہ وہ عوام اور فورسز جو جنوبی لبنان میں ہیں اور حزب اللہ کے ساتھ ایک مسلکی رابطہ قائم کئے ہوئے ہیں، اُن کو وہاں سے بھگا کر لبنان سے باہر نکالا جائے۔ صہیونی چاہتے تھے کہ ۱۹۶۷ء میں جنوبی لبنان میں رہنے والے فلسطینیوں کے خلاف جو منصوبہ اپنایا تھا، وہی منصوبہ اِس بار جنوبی لبنان کے شیعوں کے خلاف نافذ کریں۔ پوری طرح وہی پلان جس کے ذریعے فلسطینیوں کو جنوبی لبنان سے خارج کیا تھا، جو کہ وہاں سے لبنان اور شام اور دیگر عرب ممالک کے کیمپوں میں بسنے لگے تھے، بالکل وہی منصوبہ اُن کی نظر میں تھا۔

وہی منصوبہ جس کے نتیجے میں یاسر عرفات جیسا شخص بھی اِس پر مجبور ہوگیا کہ لبنان کی مرکزیت کو مغربی ممالک کی مرکزیت کے ساتھ تبدیل کرے اور صہیونی، فلسطینی کمانڈنگ کو پوری طرح مفلوج کریں۔ لبنانی شیعوں کے حوالے سے بھی یہی ذہنیت پائی جانے لگی تھی، لہذا میں جنگ سے پہلے کے حالات کی بجائے، دورانِ جنگ کے حالات بیان کرنا چاہتا ہوں، تاکہ ہمارا موضوع گفتگو کامل ہو۔ امریکی اور اسرائیلیوں کے دو قسم کے الفاظ تھے، جنگ شروع ہونے کے ساتھ، بش نے بہت گندے الفاظ استعمال کئے، کیونکہ وہ خود اُن گندے الفاظ کے لائق تھا، لہذا میں وہ دوبارہ ذکر کرنا نہیں چاہتا، لیکن رائس نے اُن سے تھوڑے سے ادب والے الفاظ استعمال کئے۔ جب جنوبی لبنان میں قتل عام اور فریادیں بڑھنے لگیں، چونکہ اُن کی ٹیکنالوجی کی مستی کا عروج تھا، کیونکہ جہاں کا وہ ارادہ کر لیتے تھے، ٹیکنالوجی کی مدد سے بالکل وہی نشانہ مار کر تباہ کاری کرتے تھے۔ جب وہ قتل عام واقع ہوا، جس کے مقابلے میں قانا کا قتل عام کچھ بھی نہیں تھا، تب رائس نے وہ جملہ استعمال کیا۔ اُس نے مسماریوں کے ملبے تلے بے گناہ انسانوں، بچوں اور خواتین کی فریادوں کے بارے میں یہ کہا کہ یہ نئے مشرق وسطی کی ڈلیوری کا درد ہے۔

ایک بڑے واقعے کی ڈلیوری کا درد۔ لہٰذا اِن الفاظ سے واضح ہو رہا تھا کہ ایک بڑا منصوبہ عملی ہونے والا ہے اور صہیونیوں نے جو پہلے سے کیا، وہ یہ تھا کہ فلسطین میں ایک بڑے کیمپ اور کئی کشتیوں کا بندوبست کر رکھا تھا۔ کیمپ اس لیے تاکہ جتنا وہ چاہیں لبنان سے افراد کو گرفتار کرکے ابتدا میں اِسی فلسطینی کیمپ میں لے جائیں، جس میں ۳۰ ہزار افراد تک کی گنجائش تھی، پھر اُسی کیمپ میں گرفتار افراد کی تقسیم بندی کریں، اور جو عام لوگ ہیں، اُن کو دوسرے ممالک میں منتقل کریں اور جو اُن کی نظر میں مجرم ہیں اور جن کے حزب اللہ کے ساتھ لنکس ہیں، اُن کو اپنے پاس رکھیں اور کشتیاں بھی تیار کھڑی تھیں۔ لہذا یہ جنگ ویسی جنگ تھی، جس میں تر و خشک دونوں جلتے ہیں بلکہ اس میں ٹیکنالوجی کی باریک بینی کا سہارا لیا جا رہا تھا۔ انہوں نے پہلے ایک چھوٹے سے گروہ کو نشانہ بنایا یعنی چاہا کہ پہلے حزب اللہ کو اپنا نشانہ بنائیں، لیکن بعد میں اپنے حملے کو وسعت دے کر جنوبی لبنان کے باشندے تمام شیعہ آبادی اپنا نشانہ بنایا، تاکہ یوں جنوبی لبنان میں موجود ڈیموگریفی کو پوری طرح بدل سکیں اور بعد میں اپنے اِس مقصد کا اقرار بھی کرچکے ہیں۔
پہلے اسرائیلی وزیراعظم اولمرت نے اُس کے بعد وزیر جنگ اور پھر چیف آف آرمی نے یہ اقرار کیا کہ اُن کا یہ مقصد تھا کہ وہ ایک غیر متوقعہ جنگ کے ذریعے حزب اللہ کے سیٹ اپ کے اکثر کو ایک وسیع ہوائی حملے کے ذریعے نابود کرنا چاہتے تھے۔ جس کے نتیجے میں پہلےحملے میں ہی حزب اللہ سیٹ اپ کا ۳۰ فیصد بری طرح نابود ہو جاتا اور بعد کے مراحل میں پوری تباہی کے درپے تھے، لہذا یہ جو جنگ تھی، دوسری جنگوں سے مختلف تھی اور صہیونی جس روڈ میپ پر جا رہے تھے، اُس کے مطابق یہ واضح تھا کہ وہ حزب اللہ جیسی ایک فوجی تنظیم کی نابودی ہی نہیں چاہتے بلکہ لبنان میں مقیم پوری شیعہ قوم کو دوسرے ممالک منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دشمن چاہتا تھا کہ اِس جنگ کا نتیجہ یہ ہو کہ حزب اللہ پوری طرح نابود ہو جائے اور حزب اللہ کے خاتمے کی شرط یہ تھی کہ لبنانی عوام کی ایک کثیر تعداد جو کہ نہ صرف جنوبی لبنان بلکہ بقاع اور شمالی لبنان میں رہتے تھے، اُن سب کو وہاں سے منتقل کر دیں۔ دوسری بات جو کہ بہت ضروری اور قابل غور ہے، وہ ہے اس جنگ میں عرب ممالک کی اسرائیل کی حمایت اور جنوبی لبنان سے حزب اللہ سمیت شیعہ قوم کے خاتمے کے لیے اُن عرب ممالک کی رضامندی۔

صہیونی حکومت نے اپنے سب سے بڑے عہدے دار یعنی اولمرت جو کہ اس حکومت کا وزیراعظم تھا، اُس کے ذریعے اعلان کیا کہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ عرب ممالک نے ایک عرب تنظیم یعنی حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا ہے، اگرچہ اُس کی مراد تمام عرب ممالک نہیں بلکہ خلیج فارس کے عرب ممالک اور اُن میں سرِفہرست آل سعود کی حکومت تھی۔ البتہ مصر بھی اُن میں شامل تھا۔ البتہ اُس وقت کچھ ممالک مستثنٰی تھے، عراق میں کوئی حکومت نہیں تھی اور اُس وقت کا عراقی حکمران ایک امریکی فوجی عہدیدار تھا۔ لہذا اُس دور کی عراقی حکومت، امریکیوں کے ہاتھ میں تھی۔ شامی حکومت بھی، مرحوم حافظ اسد کے انتقال کے بعد، ایک تازہ تشکیل پانے والی حکومت تھی۔ بہرحال پہلی بار ایسا ہو رہا تھا کہ ایک عرب تنظیم کے خلاف جنگ میں اکثر عرب ممالک اسرائیل کی حمایت کر رہے تھے۔

یہ ایک ضروری اور اہم حقیقت ہے جس کا اعتراف اولمرت نے کیا تھا۔ لہٰذا ۳۳ روزہ جنگ کے خفیہ اہداف میں ہمیں تین زاویوں کو مدنظر رکھنا ہوگا، پہلا زاویہ، عراق میں امریکی موجودگی اور عراق میں امریکی حکومت کے نتیجے میں خطے میں پائے جانے والا امریکی رعب و دبدبہ۔ دوسرا زاویہ، حزب اللہ کی مکمل تباہی اور جنوبی لبنان کے ڈیموگریفی کی تبدیلی کے لیے عرب ممالک کی پوری تیاری اور اُن کی جانب سے اسرائیل کی خفیہ حمایت۔ اور تیسرا زاویہ تھا صہیونیوں کا اِس موقع سے فائدہ اٹھا کر حزب اللہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پانے کے بعد خطے میں اپنے مقاصد حاصل کرنا۔

سوال: آپ نے اِس جنگ کے خفیہ اسباب بہت اچھی طرح بتا دیئے، اِسکے ظاہری اسباب اور جنگ شروع کرنے کے بہانے کیا تھے۔؟
الحاج قاسم سلیمانی: بات یہ تھی کہ حزب اللہ نے لبنانی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ صہیونی حکومت کے چنگل میں گرفتار لبنانی جوان قیدی اور اسیروں کو رہائی دلائے گی اور حزب اللہ کے علاوہ ایسی کوئی طاقت نہیں تھی، جو اُنہیں نجات دلا سکے۔ سید حسن نے ایک بیان میں وعدہ کیا کہ جیسے کہ پہلے بھی ہوا ہے، اِس بار بھی حزب اللہ ہی لبنانی قیدیوں کو صہیونیوں سے نجات دلائے گی۔ لبنانی عوام جن میں دروزی مسلک، مسلمان اور عیسائی قیدی شامل تھے، حزب اللہ کے علاوہ اُن کا کوئی سہارا نہیں تھا اور آج بھی نہیں۔ درحقیقت صہیونی بربری حکومت کے مقابلے میں لبنانی قوم کی اصل پناہ گاہ حزب اللہ ہی ہے۔ اُس وقت بھی حزب اللہ کے علاوہ کوئی سہارا نہیں تھا اور حزب اللہ کے پاس بھی اور کوئی چارہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ اُن کے خلاف کوئی اقدام کرتی، جس کے نتیجے میں اسیروں کی تبدیلی کی نوبت آتی۔ اگرچہ صہیونیوں کو ڈپلومیسی کی زبان آتی ہی نہیں، اُسے صرف ایک ہی زبان سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے سب کے ساتھ زور اور جبر سے کام لینا۔

اس کے علاوہ اُسے دوسری زبان کوئی خاص سمجھ میں نہیں آتی اور اُسے دوسرے طریقوں کی پروا بھی نہیں، جیسے کہ عربوں کے ساتھ بھی اُس کا برتاؤ یہی رہا ہے۔ چنانچہ لبنانی عوام کی توقع پر پورا اترنے کے لیے اور اپنے وعدے پر عمل کرنے کے علاوہ حزب اللہ کے پاس اور کوئی آپشن ہی نہیں تھا۔ یہ واحد راستہ تھا اور اس کے علاوہ اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ پچھلے تبادلہ میں بھی اسرائیل نے اصل اسیروں کو رہا نہیں کیا تھا، جن میں سے بعض حزب اللہ کے جوان تھے۔ وہ نوجوان جنہوں نے ایک طویل عرصہ جیل میں گزارا تھا اور اب اُن کی جوانی کی عمر گزر رہی تھی۔ حزب اللہ نے یہ وعدہ کیا، لیکن پچھلے تبادلے میں وہ وعدہ پورا نہ ہوسکا اور اسرائیل انہیں آزاد کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا اور حزب اللہ نے اپنے وعدے کی تعبیر کے لیے عملی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا، تاکہ اُس کے ذریعے تبادلہ کر پائے، جس میں حزب اللہ کامیاب بھی ہوئی۔ اِس مشن کے لئے ایک اسپیشل آپریشن کا منصوبہ بنایا گیا، جس کا کمانڈر شہید عماد مغنیہ تھے۔ مجھے نہیں پتہ کہ انہیں کس نام سے پکاروں، کیا انہیں بھی آج کل عام ہونے والے لقب یعنی “سردار” کا نام دوں؟ آج کل ہمارے ملک میں سردار اور امیر جیسے القاب بہت عام ہوگئے ہیں، لیکن شہید عماد مغنیہ اِس لقب سے ماوراء تھے، وہ صحیح معنوں میں ایک حقیقی سردار تھے۔

ایک ایسا سردار جو میدانِ جنگ میں جناب مالکِ اشتر کی صفات جیسی صفات کا حامل تھا۔ میں نے اُس کی شہادت میں محاذِ مقاومت کا حال ویسے ہی دیکھا، جیسے جناب مالک اشتر کی شہادت کے وقت امیرالمؤمنین علیہ السلام کا تھا۔ جناب مالک کی شہادت کے وقت، مولا بے انتہا محزون اور مغموم تھے، یہاں تک کہ منبر پر آنسو بہا کر فرمایا تھا کہ مالک کی کیا ہی بات تھی، مالک اگر ایک پہاڑ تھا تو کیا ہی عظیم اور بڑا پہاڑ تھا اور اگر پتھر تھا تو کیا ہی مضبوط پتھر تھا۔ آگاہ رہو، اے لوگو کہ مالک کی موت نے پوری ایک دنیا کو ویران کر دیا اور دوسری دنیا کو خوش۔ مالک جیسے مرد کی موت پر تمام رونے والے روئیں۔ کیا مالک جیسا کوئی یاور ہے؟ کیا کوئی بھی مالک جیسا ہے؟ کیا کسی دوسری ماں نے مالک جیسے کو جنم دیا ہے؟ امیرالمومنین کا یہ جملہ بہت اہم ہے، فرمایا کہ مالک میرے لئے ویسا ہی تھا، جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے لئے تھا۔ عماد کی مثال بھی یہی تھی۔ یعنی عماد محاذِ مقاومت کے لئے ایسی صفات کا حامل تھا، جو میں نے عرض کی۔ اگر ہمارے ہاں رائج ناموں اور القابات کو نظر انداز کروں تو عماد کو اسی تعبیر سے تشبیہ دینا چاہیئے جو امیرالمؤمنین نے جناب مالک کے بارے میں فرمایا: کہ مالک جیسے کو جنم دینے کے لئے دنیا کی خواتین کو بہت وقت لگے گا۔ عماد بھی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے۔

وہ جیسے کہ کٹھن میدانوں کی منیجمنٹ اچھی طرح انجام دیتے تھے، ویسے ہی اِس اسپیشل آپریشن کے بھی کمانڈر تھے، تاکہ اس کی نگرانی اور منیجمنٹ کر سکے۔ وہ مشن کامیابی کے ساتھ پورا ہوا اور وہ مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فوجی گاڑی پر حملہ کرکے اُس میں سے دو افراد جو کہ زخمی ہو چکے تھے، اُن کو قیدی بنایا۔ میں فی الحال اس آپریشن سے پہلے کے حالات بیان نہیں کر رہا، کیونکہ یہ آپریشن ایک دن والا آپریشن نہیں تھا، بلکہ کئی مہینوں کا تھا، جس میں صہیونی حکومت کو نگرانی میں رکھا گیا اور ایک حکمت عملی کے تحت جو سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے مقاومت کے جنرل سیکرٹری کے طور پر اپنائی، اس آپریشن کے لیے عماد مغنیہ رحمۃ اللہ علیہ کو چنا گیا اور اِس آپریشن کے تیار ہونے سے پہلے کچھ اقدامات کئے گئے، جو کہ نہایت اہم تھے، لیکن کیونکہ ہمارے موضوع سے ہٹ کر ہے، لہذا وہ واضح کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن خلاصہ یہ ہے کہ یہ آپریشن درحقیقت ایک آپریشن نہیں بلکہ چار آپریشن تھے، چار نہایت اسپیشل آپریشنز۔ ایک تھا اِس آپریشن کا ڈیزائن۔ دوسرا تھا اِس آپریشن کے وقت اور جگہ کا تعین۔

تیسرا تھا صہیونی حکومت کے وسیع کانٹے دار تاروں کو پار کرکے آپریشن کی جگہ تک پہنچنا، کیونکہ آپریشن صرف یہ نہیں تھا کہ اُنہیں مار کر واپس آیا جائے بلکہ اُنہیں قیدی بنا کر بارڈر کے اس پار لانا بھی تھا، لہٰذا ہر مشن کو بخوبی انجام دینے کی ضرورت تھی، تاکہ اپنے افراد سمیت اسیروں کو بھی بچایا جا سکے۔ چوتھا یہ تھا کہ آپریشن تیز رفتاری کے ساتھ انجام پائے۔ یہ کوئی سوا گھنٹہ یا آدھے گھنٹے کا آپریشن نہیں تھا بلکہ منٹوں اور سیکنڈوں والا آپریشن تھا۔ ضروری تھا کہ دشمن کے موقع واردات پر پہنچنے سے پہلے ہی اسیروں کو جلدی سے پناہگاہ میں پہنچایا جائے۔ عام طور پر زمینی آپریشن کی جگہ تک دشمن کی رسائی چند منٹوں میں ہی ہو جاتی ہے اور فضائی آپریشن میں تو اِس سے بھی تیز رفتاری میں ہوتی ہے۔ اسی لیے آپریشن کے شروع ہونے سے پہلے، بخوبی جائزہ لیا گیا۔ عماد مغنیہ کی ایک خصلت یہ تھی کہ وہ نزاکت اور ظرافتوں پر غور کرتے تھے، لہٰذا کیونکہ وہ خود قریب سے نگرانی رکھتے تھے، آپریشن کا ڈیزائن اور کمانڈ بھی اُن کو سونپی جاتی تھی اور عماد اُس میں کامیاب ہوئے۔

سوال: اسرائیل کی طرف سے اس بہانے کیساتھ جنگ کا آغاز ہوا اور دشمن نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر سنگین حملے کئے۔ ابتدائی گھنٹوں اور دنوں میں حزب اللہ کا ردعمل کیا تھا؟ بالخصوص جب اسرائیل نے اِن وحشیانہ حملوں کیوجہ یہ بتائی کہ حزب اللہ نے اُنکے افراد پکڑے ہیں، ظاہر ہے کہ عالمی سطح پر اُنکے اوپر پریشر زیادہ ہوتا ہوگا۔؟

الحاج قاسم سلیمانی: دو نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ اسرائیل کے ساتھ حزب اللہ کی ایک ناقابل سمجھوتہ اور مسلسل جنگ رہی ہے، کیونکہ حزب اللہ کی نظر میں اور عقائد اور سیاسی منطق کی رو سے، اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ ممکن نہیں تھا اور حزب اللہ کو برداشت کرنا بھی اسرائیل کے لیے ممکن نہیں تھا، اس خاطر یہ ایک مسلسل دشمنی تھی اور حزب اللہ ہمیشہ سے تیاری میں رہتی تھی۔ یہ ہے پہلا نکتہ۔ حزب اللہ کو شاک نہیں لگا اور ایسا نہیں تھا کہ تیار نہیں تھی۔ وہ تیار تھی اور اُس کی یہ تیاری اِس آپریشن سے پہلے کی تھی۔ البتہ اِس آپریشن نے دوسرے زاویوں سے اُن کی تیاری اور ہوشیاری بڑھا دی۔ لیکن فورسز نفری اور جنگی وسائل کے لحاظ سے وہ پہلے سے ہی تیار تھے۔ اب بھی ویسے ہی تیار ہیں۔ حزب اللہ ہمیشہ سو فیصد الرٹ رہنے والی فورس ہے۔ حزب اللہ کا الرٹ ہونا ایسا نہیں کہ مثلاً پہلے زرد الرٹ جاری کیا جائے اور پھر ریڈ الرٹ کی تیاری کا اعلان ہو۔ یا مثلاً پہلے تیس فیصد کی تیاری ہو، پھر ستر فیصد ہو جائے اور آخرکار سو فیصد۔ ایسا ہرگز نہیں۔ حزب اللہ ہمیشہ سو فیصد تیاری میں رہتی ہے۔ اُس دن بھی سو فیصد تیاری میں تھی، آج بھی سو فیصد تیار ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ ہر دور کی تیاری کی کیفیت پچھلے دور سے مختلف ہوتی ہے۔ حزب اللہ جو بھی آپریشن کرنا چاہتی ہے، اُس سے پہلے سکیورٹی اقدامات انجام دیتی ہے اور اُس کے بعد وہ آپریشن۔ اسی لیے حزب اللہ نے جب اُس اسیروں کے تبادلے کے لیے دو صہیونی فوجیوں کی اسیری کا فیصلہ کیا، اُس سے پہلے خود کو تیار کیا۔ یہ تیاری دو زاویوں سے تھی، دشمن کا مقابلہ کرنے کی تیاری اور کم سے کم نقصان کی تیاری۔ صہیونی حکومت نے جنگ کے آغاز سے ہی، اُس کے ابتدائی گھنٹون سے لے کر ابتدائی دنوں تک فقط اُن ٹھکانوں پر حملہ کیا، جو اُن کے ڈیٹابیس میں پہلے سے موجود تھے۔ صہیونی حکومت نے تمام وہ انفارمیشن جو اُن کے ڈیٹابیس میں پہلے سے موجود تھا، اپنی فضائیہ کے حوالے کی اور اسرائیلی فضائیہ نے اُس ڈیٹا بیس کے مطابق حملہ کیا، جس میں حزب اللہ سے متعلق خاص ٹھکانے پائے جاتے تھے، لیکن حزب اللہ کی تدبیر اور حکمت عملی کی وجہ سے، حزب اللہ کو نفری اور وسائل دونوں لحاظ سے بہت کم نقصان کا سامنا ہوا، یہاں تک کہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ حزب اللہ کو نقصان ہوا ہی نہیں۔ دشمن نے دس دن گزرنے کے بعد اعلان کیا کہ میرا ڈیٹا بیس انفارمیشن ختم ہوگیا ہے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ حزب اللہ سے متعلق اُس کے پاس جتنے ٹھکانوں کی خبر تھی، اُن سب کو ویران کرچکا تھا۔

لیکن بعد میں جاکر معلوم ہوا کہ آپریشن سے پہلے ہی دشمن کے متوقع ردعمل کے مطابق انجام پانے والے حزب اللہ کے اقدامات اور حکمت عملی کی برکت سے، اسرائیل نے جو بھی اقدام کیا تھا، وہ رائیگاں گیا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جنگ کے متوقع ہونے اور ماضی میں دشمن کے ردعمل کے مطابق اِس طرح کے واقعات کے نتیجے میں کبھی کوئی مکمل جنگ واقع نہیں ہوئی تھی۔ عام طور پر ایک دن کا ردعمل ہوا کرتا تھا، جس میں صہیونی مختلف علاقہ جات پر بمباری کرتے تھے اور پھر ختم، لیکن اِس جنگ کے ابتدائی لمحوں میں ہی منصوبہ موجود تھا، جسے نافذ کیا گیا، یعنی وہ منصوبہ جسے وہ خاموشی کے ساتھ عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے، اُسے پوری طرح برملا کرکے نافذ کیا۔ یہ جو ہم خاموشی کا منصوبہ کہہ رہے ہیں، یہ اب کی بات ہے، نہیں تو ہم جنگ کے دو ہفتے گزرنے کے بعد معلومات کی رو سے نہیں بلکہ ایمانی طور پر ہی جان چکے تھے اور تقریباً جنگ کے آخر میں ہمیں معلومات ملی کہ دشمن پری پلینڈ منصوبے کے تحت ہمیں حیرت زدہ کرنا چاہتا تھا، اور ہماری معلومات کی ایک بڑی وجہ خود دشمن کا اعلان تھا اور یوں وہ جنگ تیزی سے ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہوگئی اور جیسے کسی بارود کے ڈھیر میں چنگاری لگے، جنگ ویسے ہی شعلہ ور ہوگئی۔ جیسے کہ ایک ہی آن میں وہ پورا منصوبہ عملی ہوا اور وہ زوردار دھماکہ جسے ہم ۳۳ روزہ جنگ کہتے ہیں، واقع ہوئی۔

سوال: جنگ کے وقت آپ کہاں تھے۔؟
الحاج قاسم سلیمانی: جنگ کے پہلے دن، میں واپس لبنان چلا گیا، کیونکہ اُس سے ایک دن پہلے ہی وہاں سے آیا تھا۔ البتہ پہلے شام گیا، کیونکہ لبنان جانے والے تمام راستوں پر حملے ہو رہے تھے۔ بالخصوص لبنان اور شام کے درمیان سرحدی اور سرکاری راستہ مسلسل طور پر فضائی حملوں کی زد میں تھا اور جنگی طیارے مسلسل موجود تھے۔ میں نے محفوظ لائن کے ذریعے حزب اللہ کے دوستوں سے رابطہ کیا، عماد مغنیہ مجھے لینے کے لیے چلا آیا اور مجھے شام کے ایک اور راستے سے لبنان لے گیا، جس میں ایک حصہ پیدل چلنا تھا اور کچھ گاڑی سے۔ تب جنگ کا اصل نشانہ، حزب اللہ کے دفتری عمارتیں، جنوبی لبنان کے اکثر مقامات اور کچھ مرکزی اور شمالی علاقہ جات تھے۔ جیسے ہی پہلا ہفتہ ختم ہوا، تہران سے مجھے بلایا گیا، تاکہ انہیں جنگ کے حالات کی خبر دوں۔ میں ایک بائی پاس راستے سے ایران واپس آیا۔ تب رہبر معظم مشہد میں تھے اور میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ تینوں قوا اور حکام اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے ارکان اور غالباً انٹیلی جینس سے متعلق افراد کے ساتھ میٹنگ ہو۔ مشہد کی میٹنگ میں، میں نے جنگ کی ایک رپورٹ پیش کی۔ میری رپورٹ بہت دردناک تھی، یعنی یہ کہ میری دی گئی معلومات سے، جیت کی کوئی امید ظاہر نہیں ہو رہی تھی، کیونکہ یہ جنگ ایک الگ قسم کی، ٹکنالوجیک اور نہایت سنجیدہ جنگ تھی۔

نشانے بڑی دقت کے ساتھ چنے جاتے تھے۔ بارہ منزلہ عمارتیں ایک ہی بم سے زمیں بوس ہو جاتی تھی۔ توپ خانوں کے لیے دیہی علاقوں میں نشانہ بازی بہت سخت کام ہے، کیونکہ ایک دیہات سے دوسرے دیہات کا فاصلہ اتنا نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود جنگ کا رخ حزب اللہ کے بعد پوری شیعہ قوم کی طرح مڑ گیا تھا، لیکن پھر بھی ایک شیعہ آباد دیہات کا حال، بغل میں پڑے عیسائی برادری کے دیہات یا اہل سنت برادری کے دیہات سے یکسر علیحدہ اور خراب تھا۔ یعنی ایک دیہات میں ایک شخص آرام سے بیٹھ کر حقہ پی رہا تھا اور دوسرے دیہات میں ہزاروں گولہ باریاں ہو رہی تھی۔ میں نے یہ سب باتیں وہاں میٹنگ میں بتا دیں۔ نماز کا وقت ہو چلا اور امام خامنہ ای تجدیدِ وضو کے لیے چلے گئے۔ میں بھی وضو کرنے چلا گیا۔ آقا نے وضو کر لیا تھا اور اُن کی آستینیں ابھی اوپر ہی تھیں، جب واپس جا رہے تھے، ہاتھ سے مجھے اشارہ کرکے کہا کہ آجاؤ۔ میں چلا گیا۔ آقا نے فرمایا کہ آپ اپنی اِس رپورٹ کے ذریعے مجھے کچھ خاص بتانا چاہ رہے تھے؟ میں نے عرض کی کہ نہیں، صرف حقیقت سے آپ کو باخبر کرنا چاہتا تھا۔ آقا نے فرمایا کہ وہ تو میں سمجھ گیا، اُس کے علاوہ کچھ بتانا چاہ رہے تھے؟ میں نے عرض کی کہ نہیں۔ نماز پڑھ لی اور سب میٹنگ میں واپس آگئے۔ میری رپورٹ ختم ہوچکی تھی۔

آقا نے اپنے بیانات شروع کئے۔ کچھ مطالب کا ذکر فرمایا۔ جیسے کہ سلیمانی صاحب نے جنگ کے بارے میں جو رپورٹ دی، حقیقت میں ایسا ہی ہے۔ یہ ایک دشوار اور سخت جنگ ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ جنگِ خندق کی طرح کی جنگ ہے۔ آقا نے جنگِ احزاب یعنی جنگِ خندق کی آیات تلاوت فرمائی اور مسلمانوں اور پیغمبر کے ساتھیوں کی حالت اور وہ حالت جو لشکرِ اسلام پر طاری تھی، وہ بیان کی۔ پھر فرمانے لگے لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ اِس جنگ کی فتح، جنگِ خندق کی فتح جیسی ہوگی۔ میں حیرت زدہ ہوگیا، کیونکہ فوجی لحاظ سے فتح کا کوئی خیال تک مجھے نہیں آرہا تھا۔ یعنی اپنے دل میں یہ تمنا کی کہ کاش آقا ایسا نہ فرماتے کہ اس جنگ کے نتیجے میں ہماری فتح ہوگی۔ جنگِ احزاب، پیغمبر کی بہت بڑی فتح تھی۔ آگے آقا نے دو اہم نکات بیان فرمائے، جو کہ بہت ہی اہم تھے، آقا نے فرمایا کہ میرا ماننا ہے کہ اسرائیل نے یہ منصوبہ پہلے سے بنایا تھا اور چاہتا تھا کہ اسے پوری طرح لاعلمی اور خاموشی میں عملی جامہ پہنائے اور حزب اللہ کو لاعلمی میں نابود کرے۔ حزب اللہ کے یہ دو فوجی پکڑنے سے اُن کی خاموشی کا منصوبہ خراب ہوگیا۔ ہمیں اِس بات کی خبر نہیں تھی، سید حسن نصراللہ کو بھی نہیں اور عماد مغنیہ کو بھی نہیں۔

ہم میں سے کسی کے پاس یہ انفارمیشن نہیں تھی۔ مجھے ہمیشہ سے اِس بات پر یقین تھا اور اپنے ساتھیوں سے بھی کہتا رہتا تھا کہ اِن بیس سالوں میں جب سے امام خامنہ ای کی خدمت میں ہوں، میں نے واضح طور پر اُن کی زبان، دل اور دماغ پر حکمت کے آثار دیکھے ہیں، جو کہ پرہیزکاری کا نتیجہ ہے، لہذا وہ جس بات کا شبہ ظاہر کرتے ہیں، آخرکار وہ شبہ ہی ہوتا ہے اور جہاں وہ یقین سے بات کرتے ہیں، آخرکار وہ نتیجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ جب آقا نے یہ نکتہ فرمایا مجھ میں امید جاگ اٹھی، کیونکہ اِس بات سے سید حسن نصراللہ کو بہت مدد ملنی تھی اور انہیں تسلی مل جاتی بالخصوص تب جبکہ شہداء کی تعداد بڑھ گئی تھی اور مسمار اور تخریب کاری بھی بڑھ گئی تھی۔ سید حسن نصراللہ ایسی باتیں بیان کرتے تھے، جن سے میں فکرمند ہو جاتا تھا اور میں نہیں چاہتا وہ باتیں یہاں بتا دوں۔ ہمیں آقا کا یہ بیان بہت اچھا لگا اور بالخصوص اُن افراد کے لیے جو اس بیان سے پہلے تک یہ سوچتے تھے کہ حزب اللہ نے دو اسیروں کے لیے پوری شیعہ قوم کو خطرے میں ڈال دیا۔ اب یہ بیان اُن کے لیے بہت امید افزا تھا کہ حزب اللہ نے دو اسیروں کے ذریعے نہ صرف خود کو بلکہ پورے لبنان کو مکمل تباہی سے بچا لیا ہے۔
ایک تیسرا نکتہ بھی بتایا، جو کہ روحانی پہلو کا حامل تھا، فرمایا کہ انہیں کہیئے کہ دعائےجوشن صغیر پڑھیں۔ اہل تشیع میں عام طور پر دعائے جوشن کبیر پڑھی جاتی ہے اور دعائے جوشن صغیر، خواص کے علاوہ عام عوام میں مشہور نہیں۔ پھر آقا نے وضاحت بھی فرمائی کہ ہمیں یہ نہیں لگنا چاہیئے کہ دعائے جوشن صغیر میں کیا پڑا ہے؟ جیسے کہ بعض کہتے ہیں کہ یہ چار قل پڑھو یا مثلاً ایک بار الحمد پڑھو تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ آقا نے فرمایا کہ دعائے جوشن صغیر، ایک پریشان انسان کی کیفیت ہے۔ ایک شخص جو بری طرح پریشانی میں ہے اور خدا سے بات کرنا چاہتا ہے۔ میں اُسی رات تہران چلا گیا اور وہاں سے دوبارہ شام۔ مجھے اچھا محسوس ہو رہا تھا، کیونکہ میرے پاس ایک ایسا پیغام تھا، جو سید حسن کے لیے نہایت قیمتی تھا۔ عماد مغنیہ پھر سے مجھے لینے آگیا اور اسی راستے سے لبنان چلے گئے۔ میں سید حسن کے پاس چلا گیا اور انہیں پوری داستان سنا دی۔ سید کو اُن باتوں سے ایک زوردار روحانی طاقت ملی۔ سید کی ایک خصلت ہے، جو ہم کبھی اُس مقام پر نہیں پہنچ سکتے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ولایت شناسی کا درس اُن کے پاس جا کر پڑھنا چاہیئے۔ اُن کا رہبر معظم کے بیانات پر پورا ایمان ہے اور انہیں الہیٰ اور غیبی بیانات تسلیم کرتا ہے۔ اسی لیے رہبر معظم کی جانب سے کی گئی ہر بات، ہر لفظ کے اوپر لاجواب توجہ دیتا ہے۔ میں نے سید کو سب بتا دیا اور وہ بہت خوش ہوئے۔ اُس کے فوراً بعد رہبر کی یہ فرمائش کہ اِس جنگ کا نتیجہ، جنگِ خندق کی فتح جیسے ہوگا۔

اگرچہ اس میں سختیاں بہت ہونگی، لیکن بڑی فتح حاصل ہونی ہے۔ رہبر کی یہ فرمائش تمام مجاہدین تک پہنچ گئی۔ جو فرنٹ لائن میں تھے، اُن سے لے کر سب کے سب تک اور ساتھ ہی رہبر کا یہ تجزیہ کہ “دشمن کا پہلے سے ہی حملے کا منصوبہ تھا” رائے عامہ کو متوجہ کرنے کے لیے سید حسن کی باتوں کی بنیاد بن گیا، تاکہ لوگوں کو دشمن کے مقصد سے آگاہ کریں اور تیسرا یہ کہ دعائے جوشن صغیر بھی مجاہدین میں عام ہوگئی۔ یہ دعا انتہائی قیمتی مفاہیم کی حامل ہے، عرفانی، روحانی اور عبودی لحاظ سے اور شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ مفاتیح الجنان کی بہترین دعاؤں میں سے ہے۔ اِس دعا کی نشر و اشاعت بڑھتی گئی اور المنار چینل ایک دلنشین اور محزون آواز کے ساتھ یہ دعا مسلسل طور پر چلاتا رہا۔ یہاں تک کہ عیسائی بھی یہی دعا پڑھنے لگے، کیونکہ یہ دعا، الہیٰ اور عرفانی دعا تھی اور کسی خاص مسلک سے مربوط نہیں تھی، یعنی جو کوئی بھی عبودیت رکھتا ہو، خدا کی طاقت اور الہیٰ قوت پر ایمان رکھتا ہو، یہ دعا اس پر اثر انداز ہوگی۔ لہذا رہبر کا یہ پیغام بہت موثر ثابت ہوا اور ایک تحریک کا نقطہ آغاز بنا اور کہا جاسکتا ہے کہ حزب اللہ کی رگوں میں اِس سے ایک تازہ خون دوڑ گیا، یہاں تک کہ حزب اللہ نئی امید اور مزید خود اعتمادی کے ساتھ میدان میں اتری۔

جاری ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰۳