جنرل قاسم سلیمانی کا 20 سال میں پہلا خصوصی انٹرویو - 2

۳۳ روزہ جنگ میں حزب اللہ کی کامیابی اور اسرائیل کی ناکامی، قاسم سلیمانی کی زبانی




نہ صرف یہ کہ فتح حاصل ہوئی بلکہ اسرائیلی حملوں کے لیے وہی ایک نقطہ پایان شمار ہوا، جس کے بعد سے ابھی تک اسرائیل نے کوئی جنگ نہیں کی۔ نہ صرف یہ کہ حزب اللہ نے صہیونیوں کے لبنان پر ہر قسم کے حملے کو روکا بلکہ صہیونیوں کے کسی پر بھی حملے کو روکا ہوا ہے۔ میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ بن گورین کے حملہ کرنے کی پالیسی کو چھوڑ کر، اب اسرائیل فقط دفاعی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گذشتہ سے پیوستہ

سوال: آپ نے جنگ کے دوران سید حسن نصراللہ اور حزب اللہ کے دیگر کمانڈروں کو اسکے علاوہ کوئی دوسرا پیغام نہیں پہنچایا۔؟
الحاج قاسم سلیمانی: میں اُس کے بعد جنگ کے تنتیسویں دن تک واپس نہیں آیا اور وہیں لبنان میں رہا۔ جب جنگ ختم ہوگئی، میں ایران آگیا اور اُسی مشہد والی میٹنگ کی طرح، اِس بار تہران میں رہبر معظم کی خدمت میں حاضر ہوا، جس میں دیگر اہم حکام اور عہدیدار بھی تھے۔ جنگ کے حالات کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی، جس کا ایک حصہ تب نشر بھی ہوا تھا۔ علاوہ بر ایں میں جب لبنان میں تھا، سکیور لائن کے ذریعے ضروری انفارمیشن تہران پہنچایا کرتا تھا، اس لیے ہمارے حکام پہلے سے ہی تمام حالات سے واقف تھے۔

سوال: اسلامی جمہوریہ ایران کے ردعمل کے بارے میں، ایران کے اندر کیا رائے پائی جاتی تھی؟ کیا ہمارے ردعمل کے بارے میں حکام میں سب کی رائے ایک جیسی تھی یا کسی نے مخالفت بھی کی تھی۔؟
الحاج قاسم سلیمانی: اُس دور میں کوئی اختلافِ رائے پایا ہی نہیں جاتا تھا، یعنی سب حزب اللہ کی حمایت کے حوالے سے متفق تھے، خواہ معنوی حمایت ہو یا مادی حمایت، جیسے کہ اسلحہ، جنگی سازوسامان اور میڈیا کوریج سمیت وہ سب جو ایران کے کرسکتا تھا، لہذا ہمارے نظام میں، کم سے کم اُس دور میں کوئی مخالف نہیں تھا۔ میں جب تک وہاں پر تھا، تب بھی ایران کے اندر کی رائے سے واقف رہتا تھا اور اِس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں تھی اور حزب اللہ کی حمایت اور اُس کی فتح کی کوشش کے حوالے سے صحیح معنوں میں ایک مکمل وحدت پائی جاتی تھی۔ کیونکہ اِس حمایت کے مرکزی کردار، رہبر معظم تھے، لہذا لوگوں کو اِس موضوع کی جانب متوجہ کرنے اور اسلامی جمہوریہ ایران، اسلام اور عالمِ اسلام کی بھلائی کی جانب توجہ دلانے کے بعد ایرانیوں کے دل میں کوئی شک و شبہہ نہیں بچا تھا۔ البتہ اب بھی ہوسکتا ہے بعض مسائل میں اختلافِ رائے پایا جائے، لیکن حزب اللہ کے حوالے سے آج بھی ہم اتفاقِ رائے رکھتے ہیں۔

سوال: اِس ۳۳ روزہ جنگ کے آپریشنز کے حوالے سے کوئی خاص باتیں بیان نہیں ہوئی ہیں اور شاید اس جنگ میں صرف اسرائیلیوں کے حالات کے بارے میں ہی بات ہوئی ہے، اچھا ہوگا اگر آپکی زبان سے اس جنگ کے آپریشنز کی تفصیل سن لیں، کیونکہ آپ اس جنگ کے میدان میں خود حاضر تھے۔؟
الحاج قاسم سلیمانی: دیکھیئے، ۳۳ روزہ جنگ کے حوالے سے اب بھی کچھ ایسی باتیں ہیں، جنہیں بتانا مناسب نہیں۔ اس جنگ کے تقریباً تیرہ سال ہوچکے ہیں اور اب بھی بہت سالوں تک حزب اللہ کے آپریشنز کی تفصیل کی کچھ باتیں راز ہی رہیں گی۔ لیکن جو کچھ بتایا جاسکتا ہے اور فائدہ مند ہے بتانا، آپ کو کچھ اہم نکات اور کچھ آپ بیتیاں سناؤں گا۔ حزب اللہ کا ضاحیہ کے مرکز میں ایک آپریشن روم تھا، جس کے آس پاس کی عمارتیں مسلسل طور پر بمباری کا نشانہ بنتی تھیں اور مسمار ہو جاتی تھیں۔ یعنی ہر رات، دو تین اونچی عمارتیں، جو کہ شاید بارہ تیرہ منزلیں تھیں، خاک سے یکساں ہو جاتی تھیں۔ یہ آپریشن روم کوئی بیسمینٹ روم نہیں تھا، بلکہ ایک معمولی سا آپریشن روم تھا، لیکن بعض جنگی سازوسامان، کنیکشنز اور مواصلات وہاں سے منیج ہوا کرتے تھے۔ ایک رات جب ہم اِس آپریشن روم میں تھے، اور جنگ کے تقریباً سب اہم عہدیدار اور کمانڈر وہاں موجود تھے، تقریباً رات کے گیارہ بجے جب ہمارے آس پاس کی عمارتوں کو مار کر گرا چکے تھے، ہمیں خبر ملی کہ سید حسن کی جان کو نہایت خطرہ ہے، ہم نے فیصلہ کیا کہ سید کو وہاں سے کسی دوسری جگہ لے جائیں، میں اور عماد مغنیہ نے مشورہ کیا، لیکن سید آپریشن روم سے باہر نکلنے کو تیار نہ تھے۔

اُن کا نکلنا اتنا آسان بھی نہیں تھا کہ بس ضاحیہ سے بآسانی نکل سکیں گے، بلکہ ایک ایسی عمارت سے انہیں نکالنا تھا، جو ہمیں لگ رہا تھا کہ دشمن کو اُس پر شک ہوگیا ہے۔ اسرائیلیوں کے ایم کے ڈرون طیارے، مسلسل ضاحیہ کی فضا میں پرواز کر رہے تھے، ایک نہیں، تین تین ڈرون ایک ساتھ۔ اور تمام آتے جاتے کی پوری خبر رکھتے تھے، یہان تک کہ کسی موٹر سائکل والے کو بھی نظر میں رکھ رہے تھے۔ رات کے بارہ بجے، ضاحیہ پوری طرح سنسان ہوگیا، وہ جو حزب اللہ کا اصل مرکز تھا، جیسے کہ وہاں کوئی انسان ہے ہی نہیں۔ ہم نے وہاں سے دوسری عمارت جانے کا فیصلہ کیا اور چلے بھی گئے۔ البتہ پہلی عمارت اور دوسری عمارت میں فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ جیسے ہی عمارت کے اندر چلے گئے، ایک اور بمباری ہماری عمارت کے ساتھ ہوئی۔ ہم اُسی بلڈنگ میں رک گئے، کیونکہ اُس میں ہماری سکیور لائن تھی اور سید اور عماد مغنیہ کا رابطہ کٹنا نہیں چاہیئے تھا۔ پھر سے ایک اور بمباری ہوئی اور ہماری عمارت کے پاس واقع ایک پل کو مار گرایا۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ اِن دو بمباریوں کے بعد تیسری بمباری شاید ہماری عمارت پر ہو۔ اُس عمارت میں صرف تین افراد تھے، میں اور سید اور عماد۔ لہذا ہم نے وہاں سے جانے کا ارادہ کیا اور تیسری عمارت کی جانب گئے۔

ہم تینوں باہر آگئے، ہمارے پاس کوئی گاڑی نہیں تھی، ضاحیہ پر اندھیرا چھایا ہوا تھا اور پورا شہر سنسان تھا اور صرف صہیونیوں کے ڈرون طیاروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔ عماد نے مجھے اور سید کو کہا کہ آپ اِس درخت کے نیچے بیٹھیں، تاکہ ڈرون کی نظر میں نہ آئیں۔ اگرچہ ہم ڈرون سے محفوظ نہیں تھے، کیونکہ ایم کے ڈرون کا کیمرہ، انسانی جسم کی حرارت کو محسوس کرتا ہے، لہذا وہاں پوری طرح محفوظ رہنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ جب ہم وہاں پہنچے تو مجھے حضرت مسلم کی کہانی یاد آئی، اپنے لیے نہیں، بلکہ سید کے لیے کیونکہ سید وہاں کے مالک تھے۔ عماد جا کر کچھ ہی منٹوں میں ایک گاڑی لے آیا۔ عماد بے مثال تھا۔ خاص طور پر آپریشن ڈیزائننگ میں۔ گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی ڈرون کی آنکھ نے ہمیں دیکھ لیا تھا۔ جیسے ہی گاڑی پہنچی، ایم کے ڈرون نے گاڑی پر فوکس کیا۔ ایم کے ڈرون کی انفارمیشن سیدھا تل ابیب جاتی تھی اور وہ لوگ یہ سب اپنے آپریشن روم میں دیکھ رہے تھے۔ بیسمینٹ جانے میں، پھر دوسری بیسمینٹ اور وہاں سے اس گاڑی تک پہنچنے اور اُس کے بعد اگلی چیز پر جس کا نام ذکر نہیں کرسکتا، اُس تک پہنچنے میں اور دشمن کو دھوکہ دینے میں ہمیں کافی وقت لگ گیا۔ تقریباً اڑھائی بجے کے قریب ہم پھر سے آپریشن روم تک پہنچ آئے۔

جو اہم بات تھی، وہ یہ تھی کہ عام طور پر جنگوں میں تیز رفتاری سے کام لینا چاہیئے۔ مجھے تقریباً چالیس سال ہوچکے ہیں کہ فوجی اور عسکری امور انجام دیتا ہوں اور مجھے یہ بات پتہ ہے۔ جنگ میں بہت تیز رفتاری ہوتی ہے، تاکہ جو وسائل اُن کے پاس ہیں، وہ سب ابتدائی لمحوں میں ظاہر کرسکیں۔ حزب اللہ نے اس جنگ کے ہر مرحلے پر ایک نئے جنگیاوزار اور ایک نئے اقدام کے ذریعے ہیبت زدہ اور حیران کیا تھا۔ یعنی حزب اللہ ہر بار آگے کی طرف بڑھتی تھی۔ حیفا کا مرحلہ، حیفا کے بعد کا مرحلہ، حیفا کے بعد کے بعد والا مرحلہ۔ اِن مراحل کو رفتہ رفتہ آگے بڑھاتے گئے، تاکہ دشمن کو غفلت کی نیند سے جگا سکیں اور ہر مرحلے میں ایک نئے اسلحے کی نمائش کرتے تھے، تاکہ دشمن کو یہ بتا سکیں کہ وہ دشمن تک بہت دور سے بھی رسائی رکھتے ہیں، لہذا دشمن کو یقین ہوگیا کہ حزب اللہ اُس وقت، ایسے ایک مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے، جو سب سے خطرناک مرحلہ ہے، ایسا مرحلہ جس سے زیادہ خوفناک کچھ ہو ہی نہیں سکتا، یعنی حزب اللہ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ تل ابیب کے اندر تک جنگ کو پھیلا سکے۔ لہذا حزب اللہ کے یہ اقدامات، اگرچہ عسکری پہلو کے حامل بھی تھے۔

لیکن نفسیاتی لحاظ سے بھی شدید تھے، یعنی عسکری آپریشن بھی کرتی تھی اور ہر مرحلے میں دشمن کو مقبوضہ فلسطین کے کسی جغرافیہ پر چیلنج دیتی تھی اور ساتھ ہی، نفسیاتی لحاظ سے بھی دشمن کو شدید دباؤ میں بھی رکھتی تھی۔ دوسری بات، جنگی سازوسامان کو استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔ دشمن کا خیال یہ تھا کہ اُس کے آپریشن کی شدت کے نتیجے میں حزب اللہ کی طاقت صفر ہوچکی ہوگی، لیکن ہر مرحلے میں جب دشمن کو لگتا تھا کہ مثلاً حزب اللہ کی میزائل طاقت ختم ہو رہی ہے۔ حزب اللہ اس دن اور اس کے اگلے دن، پچھلے دن سے کئی گنا زیادہ میزائل برساتی تھی۔ میزائل مارنا کوئی معمولی بات نہیں۔ وہ بھی ایسی سرزمین پر جہاں فضا میں اُس کا سامنا ایک سنگین اور متحرک توپ خانے سے ہو، کیونکہ میزائل کے لیے ضروری ہے کہ پناہ گاہ سے باہر آکر اپنے نشانے پر آئم کرسکے، پھر اُس نشانے پر فائر ہو۔ فائر کرنے والے کو نقصان نہ ہو اور کسی امن کے مقام پر واپس پہنچے۔ یہ نہایت مشکل کام ہے۔

سوال: اِس وسیع پیمانے پر تیاری کتنے عرصے میں اور کن مراحل کے بعد ہو پائی۔؟
الیعنی تب جب صہیونی جنوبی لبنان میں شکست سے دوچار ہو کر وہاں سے بھاگے تھے۔ یہ ٹریننگ اور تیاری مسلسل طور پر سال ۲۰۰۶ء تک جاری رہی، جو کہ حزب اللہ کی پیشنگوئی کے تحت تھی، جس کا نام سیدالشہداء تھا۔ اِس ڈیزائن کا منیجر اور ڈیزائنر بھی خود عماد مغنیہ تھا، لہذا اس نے بخوبی منیجمنٹ کی تھی کہ دشمن کے مقابلے میں کیسے عمل کیا جائے۔ تیسرا نکتہ حزب اللہ کی حکمت عملی کا ہے۔ دوسری جنگوں کے برعکس جن میں ایک فرنٹ لائن ہوتی ہے، اس جنگ کی کوئی فرنٹ لائن نہیں تھی، بلکہ ہر مقام ایک مورچہ تھا، اس معنی میں کہ لبنان کے ساتھ مقبوضہ فلسطینی سرحد سے لے کر، کم سے کم لیطانی نامی نہر تک، وہاں ہر مقام، جیسے کہ پہاڑیاں، گاؤں، مکانات ایک مورچہ اور ایک فرنٹ لائن تھا۔ ایک عام مورچہ نہیں جو جنگوں میں عام ہوتا ہے اور ہم اسے اپنی جنگ میں استعمال کرتے تھے، بلکہ ایک خاص مورچہ جس میں خصوصی تدبیریں تھیں۔ حزب اللہ کا یہ حربہ ایک وسیع سمارٹ بارودی سرنگ کی طرح تھا، جس میں کوئی خالی اور محفوظ مقام نہیں تھا۔

اگر آپ دشمن کے چلنے کے راستے پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ سرحد کے ساتھ منسلک کچھ دیہات، جن میں دشمن ان گاؤں میں داخل ہونے میں ناکام رہا تھا اور وہ اندر داخل نہیں ہوسکے تھے اور شہروں میں داخل ہونے میں بھی ناکام رہے تھے اور بالآخر وادی الحجیر جانے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد لیطانی نہر کی جانب چلے گئے اور یہی وہ مقام تھا، جہاں دشمن کمزور ہوا اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ۳۳ روزہ جنگ میں ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ بعض اوقات حزب اللہ کی ایک ضرب، خندق کی جنگ میں مولا امیر المومنین (ع) کی ضرب کی طرح فائدہ مند ثابت ہوتی تھی، جیسے وہاں عمر ابن عبدود کو زمین پر دے مارا تھا۔ جس کے بارے میں پیغمبر نے فرمایا تھا کہ علی کی یہ ضرب تمام جن و انس کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔ ایسا کیوں؟ کیونکہ وہ ضرب اسلام کی نجات کا باعث بنی۔ حزب اللہ حملے کے لیے جو منصوبے بناتے تھے، ان میں بعض ضربات ایسے تھے کہ صہیونیوں کے بنیادی ڈھانچوں کو ایک ہی جھٹکے میں نیست و نابود کر دے۔ ان ڈھانچوں میں سے ایک حکومت کی بحریہ تھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ جنوبی لبنان تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ تھا، جو بحیرہ روم کے پار ہو کر سائڈن، صیدا پھر صور اور بالآخر جنوبی سرحدی علاقے تک پہنچتا تھا۔

تمام جنگوں میں، صہیونی حکومت کے فریگٹ بحری جہاز سمندر پر کھڑے تھے اور اپنی دقیق توپوں سے اس سڑک کو بند کرچکے تھے، انہوں نے پہلے ہفتے میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔ جو بات دشمن کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھی، وہ تھی حزب اللہ کے سمندری میزائل۔ وہ دن پہلا دن تھا، جس میں سمندری میزائلوں کا تجربہ کیا جانا تھا۔ اس سے پہلے، تمام میزائل خفیہ رکھے گئے تھے اور اُن کا کوئی تجربہ نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک مشکل آپریشن تھا۔ راکٹ کو ایک پناہ گاہ اور خفیہ جگہ سے باہر نکالنا تھا، میزائل لے جانے والی گاڑی کو ایسی جگہ پر جانا تھا، جو نمایاں جگہ تھی حالانکہ اس کے سامنے تین چار اسرائیلی بیڑے بھی کھڑے تھے۔ یہ اس وقت کیا جانا تھا، جب سید نے بیان دینا تھا، کیونکہ یہ افواہ پھیل چکی تھی کہ سید حسن زخمی حالت میں ہے اور یہ افواہ لبنانیوں میں عوامی تشویش کا باعث بنی تھی۔ سید کا عماد کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا تھا کہ جب سید بیان دینگے، تب یہ آپریشن ہونا ہے۔ اس ہفتے دشمن کو ایک برتری حاصل تھی اور ہم نے میزائل والے ردعمل کے علاوہ کوئی اور اہم کام نہیں کیا تھا، لیکن ہر صورت میں یہ کارروائی کرنی تھی۔ راکٹ نے کئی بار پلیٹ فارم کو نشانہ بنایا اور گولی مارنے کی کوشش کی، لیکن فائر نہ پو پائی۔ سید چاہتے تھے کہ اس آپریشن کو اپنے الفاظ میں ایک اہم حیرت قرار دیں۔

سید حسن کے بیان کو ریکارڈ کرکے بعد میں چلانے کا پروگرام تھا۔ جہاں پر سید بیان دے رہے تھے، اُس کے ساتھ ہی ایک کمرہ تھا، جہاں میں اور عماد اور دوسرے بھائی ساتھ بیٹھے تھے۔ سید کی گفتگو اختتام کو پہنچ چکی تھی، لیکن میزائل فائر نہیں ہو رہا تھا۔ سید اختتام پر جیسے ہی یہ کہنا چاہتے تھے کہ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ، جیسے ہی اس مقام پر پہنچے، ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میزائل فائر ہوا۔ میزائل کی رفتار سُپر سونک تھی اور تیزی سے بحری جہاز سے ٹکرا گیا، چنانچہ اپنی تقریر کے اختتام پر، سید نے کسی غیبی بیان کی طرح جیسے اُنہیں باہر کا منظر دکھائی دے رہا ہو، کہا کہ اب آپ دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیلی جنگی جہاز جل رہا ہے۔ سید کا یہ کہنا میزائل حملے کے ساتھ بیک وقت ادا ہوا۔ اب اس میں ایک ایسا فلسفہ ہے، جو عام لوگوں کی نظر میں شاید قابل قبول نہیں، لیکن اس لحاظ سے قابل غور ہے کہ خدا نے اِس بیان اور میزائل حملے کو بیک وقت قرار دیا اور میزائل بھی ٹھیک نشانے پر جا لگا، جبکہ ان بحری جہازوں میں کافی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں اور وہ میزائل کو راستے سے ہٹا سکتے ہیں۔ اُن میں اینٹی میزائل سسٹم ہوتا ہے، جو میزائل کو ناکارہ بنا سکتے ہیں، لیکن میزائل آیا اور مارا اور جہاز کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔

یہ واقعہ درحقیقت صہیونی بحریہ سے نجات کا واقعہ تھا، وہ بحریہ جو اس کے بعد جنگ کے خاتمے تک نظر نہیں آئی اور ایک راکٹ کے ذریعے، صیہونی حکومت کی پوری بحریہ منظر غائب ہوگئی۔ یقیناً، اس حقیقت کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے کہ کسی حکومت کی بحریہ کتنی کمزور ہوسکتی ہے کہ ایک میزائل سے، اس کی پوری بحریہ کو غائب کر دیتی ہے۔ یہاں ہمارا موضوع صہیونی حکومت کی فوجی طاقت ہے۔ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس حکومت کے پاس جتنے بھی بحری جہاز ہوں گے، اس بار ایک میزائل کے ساتھ، دو میزائل یا تین میزائل کے ساتھ مکمل طور پر میدان سے باہر ہوں گے۔ اُس وقت، بحریہ ۱۰۰ کلومیٹر کی رینج والے میزائل سے بھاگی تھی اور شاید اگلی بار ۳۰۰ کلومیٹر رینج سے ہی دور دور بھاگیں گے۔ پس یہ ایک معجزہ اور ایک بڑی فتح تھی۔ وہ لوگ جو اس وقت بے گھر ہوئے تھے یا بمباری کے تحت تھے، اُسی بمباری کے وقت خوشی سے اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ ایک اور حیرت انگیز بات تھی، جو حزب اللہ نے رقم کی اور تقدیر کو تبدیل کر دیا، جس کے بعد صہیونی حکومت اس وقت تک اس کا مقابلہ نہیں کرسکی تھی، جب تک کہ وہ آخرکار خیام کے میدانی علاقے اور لیطانی کی جانب منتقل ہوگئی، لیکن وہاں بھی شکست کھائی۔

بیسویں دن سے ستائیسویں دن تک بہت مشکل دن تھے، میں اور عماد نے علیحدگی اختیار کی اور سید کسی اور مقام پر تھے، ہم رات کے وقت میٹنگ کرتے تھے اور کچھ خاص ضوابط کے تحت، سید تک رسائی حاصل کرکے اُن سے ملاقات کرتے تھے اور عماد میدان کی مکمل رپورٹ پیش کرکے سید کی تدابیر حاصل کر لیتا تھا۔ وہ دن بہت دشوار دن تھے، بہت سنگین اور سخت دن۔ کہا جاسکتا ہے کہ ۳۳ روزہ جنگ کے سب سے کٹھن دن تھے۔ میں اب تمام وہ باتیں یہاں پر نہیں بتا سکتا۔ عماد نے ایک اہم حکمت عملی سے کام لیا، جو کہ نہایت موثر ثابت ہوا۔ میں اگر اس کی تاثیر بتانا چاہوں تو مجھے اُسے امام خامنہ ای کے اُس پیغام کی رو سے بیان کرنا ہوگا، جو امام خامنہ ای نے سید کے لیے بھیجا تھا۔وہ حکمت عملی جو کہ نہایت اہم تھی، فرنٹ لائن میں موجود مجاہدین کا سید حسن کے نام خط تھا، وہ مجاہدینجو دشمن کے بالکل روبرو تھے۔ بہت عجیب خط تھا، جب وہ خط سید حسن کے سامنے پڑھا جا رہا تھا، عماد مغنیہ جو کہ اِس حکمت عملی کا ڈیزائر بھی تھا، خود بلند آواز سے رو رہا تھا، میں نے ایسا کسی کو نہیں دیکھا، جو وہ خط سنے اور نہ روئے، لیکن اُس سے بھی اہم، سید کا جواب تھا۔ یعنی ہم اگر تشبیہ کرنا چاہیں تو مجاہدین کا خط، کربلا میں امام حسین (ع) کے ساتھیوں کے اشعار جیسا تھا، جو انہوں نے امام حسین (ع) کے دفاع کے لیے پڑھے تھے اور سید کا جواب بھی شبِ عاشور امام حسین (ع) کے جواب جیسا تھا، جنہوں نے اپنے ساتھیوں کے عزم کو سراہا تھا۔

یہ دو مکالمے، یعنی مجاہدین کا سید کو خط، اور سید کا جوابیہ بیان، ہر ایک کا عظیم اثر تھا اور حقیقت میں الہیٰ بیانات تھے۔ واقعی اُس خط اور بیان کا اثر بہت زیادہ تھا اور سب کی قوتِ قلب کا باعث بنا۔ اٹھائیسویں دن کے بعد سے جنگ نے اپنا رخ تبدیل کر دیا۔ اب میں یہاں ایک اور نکتہ بتانا چاہتا ہوں۔ ایسے بہت سے مناظر ہم نے دفاعِ مقدس میں بھی دیکھے تھے اور میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ جنگ میں ہمارے حق پر ہونے کی ایک وجہ، ہمارے مجاہدین کی نفسیات رہی ہیں، جو کہ زیادہ تر سیر و سلوک اور حجابوں کے ہٹ جانے کی کیفیت کے ساتھ شباہت رکھتی تھی۔ وہ حجاب اور حائل کے ماورا ہوکر بات کرتے تھے۔ کربلائے پنج نامی آپریشن سے ڈیڑھ سال پہلے، ہم شلمچہ میں تھے اور وہاں پر ایک آپریشن کرنے کا ارادہ تھا اور دشمن کو ہم پر شک نہ ہو، اس لیے ہم نے اپنے انٹیلی جینس کے افراد وہیں مقیم کر دیئے تھے۔ ہمارے سامنے پانی تھا اور اُس دن ہمارے دو سپاہی، انفارمیشن حاصل کرنے کے لیے چلے گئے، لیکن واپس نہیں آئے، ایک کا نام حسین صادقی اور دوسرے کا اکبر موسایی پور تھا۔ ہمارا ایک ساتھی جو کہ بہت عارف اور ولی قسم کا تھا، اسکول کی عمر کا نوجوان تھا، طالب علم تھا لیکن بہت معرفت رکھتا تھا۔

اس حد تک کہ شاید عملی عرفان میں اُس جیسے بہت کم ملیں گے۔ ایسے مقام پر فائز تھا کہ بعض اولیاء اور بزرگ شاید ستر اسی سالوں میں وہاں پہنچتے ہیں۔ میں اہواز میں تھا، جب اُس نوجوان نے وائرلیس سیٹ کے ذریعے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے کہا کہ یہاں آو۔ میں وہاں گیا۔ ہمارے اُس برادر نے کہا کہ اکبر موسایی پور اور صادقی واپس نہیں آئے۔ میں بہت اداس ہوگیا اور کہا کہ ابھی تو ہم نے شروع بھی نہیں کیا اور دشمن نے ہمارے فوجی پکڑ لئے اور آپریشن لیک ہوگیا۔ میں نے یہ باتیں غصے میں کہیں۔ میں ایک دن وہیں رہا اور پھر واپس آگیا۔ کیونکہ بہت سے محاذوں پر جنگ جاری تھی۔ دو دن بعد اُس برادر نے پھر سے مجھ سے رابطہ کرکے کہا کہ آجاو۔ میں چلا گیا۔ اُس برادر کا نام بھی حسین تھا، مجھ سے کہنے لگا کہ کل اکبر موسایی پور واپس آجائے گا۔ میں نے کہا کہ کیا بات کر رہے ہو حسین؟ حسین نے مسکرا کر کہا: غلام حسین کا بیٹا، حسین یہ زبان دے رہا ہے۔ اُس کے والد کا نام غلام حسین تھا، وہ ٹیچر تھے، اس کی والدہ بھی ٹیچر تھی۔ حسین ماں باپ دونوں کی طرف سے معلم زادہ تھا۔ وہ نوجوانی کی عمر میں ہی معلم تھا۔ جب کوئی حسین آغا کا نام لیتا تھا، حسین آغا ایک ہی تھا وہاں پر۔ اگرچہ سینکڑوں حسین تھے، وہاں ہماری لشکر میں۔ لیکن حسین آغا ایک ہی تھا۔

میں نے پوچھا کہ حسین! کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ کل اکبر موسایی پور واپس آجائے گا اور اس کے بعد صادقی۔ میں نے پوچھا کہ تمہیں کیسے پتہ؟ کہنے لگا کہ آپ بس یہیں پر موجود رہیں۔ میں وہیں رکا۔ ہمارے پاس ایک جنگی کیمرہ تھا، جسے چھپانے کے لیے اس کے ارد گرد ہم نے بوریاں رکھی تھی اور قلعہ سا بنایا تھا۔ انٹیلی جینس کے برادران جو کیمرے میں دیکھ رہے تھے، تقریباً دوپہر کے ایک بجے کے قریب آئے اور کہنے لگے کہ پانی کے اوپر کوئی چیز تیرتی ہوئی آرہی ہے۔ میں نے جاکر دیکھا، تو حقیقت میں ایسا ہی تھا۔ ہمارے ساتھی پانی میں گئے اور دیکھا کہ اکبر موسایی پور ہے۔ اگلے دن حسین صادقی کا جنازہ آیا۔ یہ بات عجیب تھی کہ پانی کے اُس تلاطم کے باوجود، اُن کے جنازے ٹھیک وہیں پر واپس کیسے آئے، جہاں سے وہ آپریشن کے لیے نکلے تھے۔ وہ دونوں پانی کے اندر ہی شہید کر دیئے گئے تھے۔ حسین آغا کچھ عرصے بعد شہید ہوگیا۔ میں یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ اُن سخت حالات میں، حزب اللہ کے ایک برادر جو کہ بہت دیندار اور مہذب تھے اور جنوبی علاقہ جات میں انہیں پوسٹ ملی تھی۔

اُس نے کہا میں نے خواب دیکھا کہ ایک خاتون آئی ہیں، جن کے ساتھ دو خواتین اور بھی تھیں، مجھے لگا سیدہ زہراء (س) ہیں۔ اُن کے قدموں کی جانب گیا۔ اُن سے کہا: دیکھیں ہماری حالت، دیکھیں ہم کس پریشانی میں ہیں۔ بی بی نے فرمایا کہ ٹھیک ہو جائے گا۔ میں مصر تھا کہ اُن کے قدموں میں جا گروں اور اُن سے کچھ لینا چاہ رہا تھا۔ میرے بہت اصرار کے بعد، انہوں نے پھر سے فرمایا کہ ٹھیک ہو جائے گا اور اپنے لباس کے اندر سے ایک رومال نکال کر اسے ہلایا اور فرمایا کہ ختم ہوگیا۔ اُس کے بعد اسرائیل کا ایک ہیلی کاپٹر مارا گیا، جس کے بعد ٹینکوں کو مارنا شروع کیا گیا۔ ٹینکوں کو مارنا ہی صہیونیوں کی شکست کا نقطہ آغاز تھا۔ یہ وہ مقام تھا، جہاں تقدیر بدلی اور کورنیٹ میزائل میدان میں نمایاں ہوگئے۔ اور پہلی بار ایسا ہوا کہ اسرائیل کے میرکاوا ٹینک جو اب تک اس کیفیت کے ساتھ نہیں مارے گئے تھے، اب نابود ہوگئے اور ایک ہی دن میں تقریباً سات ٹینک تباہ کر دیئے گئے۔

سوال: یہ جنگ کیسے ختم ہوئی۔؟
الحاج قاسم سلیمانی: حمد آل خلیفہ جو کہ قطر کے وزیراعظم رہ چکے ہیں، تب وزیر خارجہ تھے۔ وہ اقوام متحدہ میں ثالثی کرنے کے لیے لبنان آتے جاتے تھے۔ انہوں نے بعد میں بھی کہا کہ اُن دنوں میں امریکی کسی صورت میں جنگ روکنے کی بات نہیں کرنے دیتے تھے، میں نا امید ہوگیا اور اپنے مکان پر آرام کرنے چلا گیا، لیکن اچانک سے اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر کو دیکھا کہ مجھے لینے آیا تھا۔ جلدی جلدی میں پریشان حال میں مجھے کہا کہ تم آخر ہو کہاں؟ میں نے کہا: خیریت؟ ہوا کیا ہے؟ کہنے لگا: چلو اقوام متحدہ چلتے ہیں۔ آکر جان بولٹن خبیث کو دیکھا کہ بہت پریشان اور مضطر ہو کر چل رہا ہے۔ دونوں نے مجھ سے کہا کہ اب جنگ کو روکنا ہوگا۔ میں نے پوچھا کہ کیوں؟ کہنے لگے کہ اگر جنگ رکے گی نہیں تو پوری اسرائیلی فوج نیست و نابود ہو جائے گی، لہذا اسرائیلیوں نے اپنی تمام شرطیں واپس لے لی اور انہیں نظر انداز کرکے حزب اللہ کی شرطیں ماننے اور جنگ بندی کے اعلان کے لیے تیار ہوگئے اور حزب اللہ کو یہ عظیم فتح نصیب ہوئی۔

نہ صرف یہ کہ فتح حاصل ہوئی بلکہ اسرائیلی حملوں کے لیے وہی ایک نقطہ پایان شمار ہوا، جس کے بعد سے ابھی تک اسرائیل نے کوئی جنگ نہیں کی۔ نہ صرف یہ کہ حزب اللہ نے صہیونیوں کے لبنان پر ہر قسم کے حملے کو روکا بلکہ صہیونیوں کے کسی پر بھی حملے کو روکا ہوا ہے۔ میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ بن گورین کے حملہ کرنے کی پالیسی کو چھوڑ کر، اب اسرائیل فقط دفاعی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ یہ واقعہ، جو کچھ عرصہ پہلے واقع ہوا، جس میں حزب اللہ نے اپنے دو شہیدوں کی شہادت پر انتقام لینے کی دھمکی دی کہ اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے اور مارینگے۔ اسرائیلی یہ سن کر سرحدی علاقوں سے تین سے پانج کلومیٹر تک اندر کی طرف بھاگ گئے۔ یہاں تک کہ لبنانی چینل المیادین کا رپورٹر کانٹے دار تاروں کے اس پار جا کر کہنا لگا کہ میں مقبوضہ فلسطین (یعنی اسرائیل) سے آپ کو رپورٹ دے رہا ہوں۔ اسرائیلیوں کا یہ خوف، اسی ۳۳ روزہ جنگ کا اثر ہے۔

سوال: دفاع مقدس کے ایام قریب ہیں، کس طرح ہے کہ دفاع مقدس کی تہذیب و ثقافت محاذِ مقاومت کیساتھ جڑ چکی اور ابھی تک زندہ ہے۔؟
الحاج قاسم سلیمانی: آپ اگر تاریخ اسلام میں مختلف واقعات کی طرف دیکھین گے تو سمجھ جائینگے کہ امیرالمؤمنین نے رسول اللہ کے بعد انہی کی اقتدا کی۔ جب امیرالمومنین نصیحت کرتے تھے، جب خط لکھتے تھے، جب خطاب کرتے تھے، اُن کی بنیاد اور نمونہ عمل، پیغمبر کا دور، پیغمبر کا عمل اور اُن کی سیرت ہوتی ہے۔ امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) جب کسی کی اقتدا کرنا چاہتے تھے، خود امیرالمومنین کو زندہ مثال کے طور پر اور سیرہ رسول کو عملی کرنے والے کے طور پر، اپنا نمونہ عمل قرار دیتے تھے۔ ہمارا دفاعِ مقدس بھی اسی جنس کا ہے۔ یعنی اُن تمام مقدس دفاعوں کی نسبت، ماں کی طرح ہے۔ محور اور مرکز ہے۔ ہمارے دفاعِ مقدس میں روحانی امور، اعلیٰ ترین شکل میں سامنے آئے۔ دینی تبلیغ، بہترین صورت میں انجام پائی۔ ایمانی اور عبادی امور اعلیٰ ترین صورت میں کسی ذرہ برابر کج روی کے بغیر پیش کئے گئے۔ جانثاری اور شہادت بہترین شکل میں پیش کی گئی۔ بڑے عہدیداروں کے اپنے اندر افراد کے ساتھ برتاؤ اور سلوک کو فقط اسلام کے ابتدائی دور کے ساتھ مقایسہ کیا جاسکتا ہے، لہذا اِن تمام باتوں میں دفاعِ مقدس ایک چوٹی کی طرح ہے۔ آپ البرز کی بلندیوں کو دیکھیں، اُس کی لمبائی ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے، لیکن پھر بھی سب سے بلند چوٹی دماوند ہی کہلاتا ہے۔ البرز پہاڑی سلسلے میں سب سے اونچی چوٹی دماوند ہے۔ دفاع مقدس کی مثال اِن دیگر مقدس دفاعوں کی نسبت، البرز کے اس طویل پہاڑی سلسلے میں دماوند کی طرح ہے۔ دفاع مقدس کی اپنی ایک اونچائی ہے، جو اِن سب سے بلند ہے اور یہ سب اُس کی نسبت دامنِ کوہ اور اس پہاڑی سلسلے کے پہاڑ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳