سابق صہیونی وزیرہ: اسرائیل اکیلا پڑ گیا ہے




اسرائیل کی سابق وزیرہ نے مغربی ایشیا سے متعلق امریکی صدر کے حالیہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی اقدامات کی وجہ سے اسرائیل علاقے میں اکیلا پڑ گیا ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، سابق صہیونی وزیرہ ’’لیمور لیفنٹ‘‘ نے لیکوڈ پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عبرانی زبان کے اخبار ’یدیعوت احرانوت‘ کو لکھی اپنی ایک تحریر میں کہا: اسرائیل کو علاقے کے بدلتے حالات کے پیش نظر سخت خطرات کا سامنا ہے اور یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ امریکی فوج کو شام سے انخلاء کرنا ہو گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرامپ ایران کے مقابلے میں کوئی ٹھوس پالیسی نہیں رکھتے اس وجہ سے تل ابیب کو سخت تشویش لاحق ہے۔
سابق اسرائیلی وزیرہ نے مزید کہا کہ امریکی صدر اگر اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے جان بولٹن جو اسرائیل کے وفادار ترین دوست تھے کو برکنار کر سکتے ہیں تو ایسے حال میں اسرائیل کو تشویش کا حق ہے۔
انہوں نے ایران کے خطرے پر مزید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے تحفظ کے لیے کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتا حتیٰ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کہ جنہوں نے اگر چہ اسرائیل کے حق میں بہت خدمات انجام دی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳