ایران اور اسرائیل کا تقابل




(Golbal Firepower) کی جانب سے کئے گئے سروے کے تحت ۲۰۱۹ میں ایران عسکری طاقت کے حساب سے  ۱۵ ویں پوزیشن پر ہے جبکہ اسرائیل کا نمبر سولہواں ہے [۹] اس درجہ بندی کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ایران و اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی ممکنہ جنگ کسی بھی طرح اسرائیل اور اسکے متحدین کے حق میں نہ ہوکر انکے نقصان میں رہے گی ۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: صہیونی رجیم کی جانب سے عراق ، لبنان اور شام پر فضائی حملوں کے بعد جب اسرائیل کی جانب سے اس خبر کی تائید کر دی گئی تو اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کیمرے کے سامنے ظاہر ہو کر اسرائیل کی جانب سے اٹھائے گئے  اس قدم  کا مقصد ایران اور اسکے متحدین کے مراکز پر حملہ  کرنا بیان کیا۔

چنانچہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بقول یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا کہ ایران اور اسکے متحدین اسرائیل کو نشانہ بنانے کا قصد رکھتے تھے [۱] اسرائیلی وزیر اعظم نے نامہ نگاروں سے روبرو ہوتے ہوئے صاف طور پر کہا : ایران کسی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے اور ہماری فورسز چو طرفہ ایران کی جانب سے ہونے والی یلغارکے مقابلہ کے لئے سرگرم عمل ومتحرک ہیں۔ [۲]

اسرائیل کی جانب سے ہونے والے ان حملوں میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ان حملوں کو مزاحمتی محاذ نے ناکام بنا دیا لیکن صہیونی حکومت کے لئے یہ کام ایک منفی رد عمل کے سامنے آنے کا سبب بنا جسکے بموجب سید حسن نصر اللہ نے رسمی طور پر اسرائیل کو انتباہ دیا کہ اسرائیل آنے والے چند دنوں میں حزب اللہ کی جانب سے دئیے جانے والے سخت جواب کو جھیلنے کے لئے تیار رہے اور سید حسن نصر اللہ کی جانب سے کی گئی یہ تقریر اس بات کا سبب بنی کہ خطے کے شمالی حصے میں اسرائیل کی فوج مکمل تیار وآمادہ رہے اسرائیلی فوج کی جانب سے  ممکنہ حملے کے پیش نظر یہ تیاری سید حسن نصر اللہ کی باتوں کی اہمیت اور تاثیر کی بیانگر ہے۔ [۳]

اسرائیل کی جانب سے عراق پر کئے گئے حملے کے بارے میں لبنانی الاصل امریکی نامہ نگار و سیاسی میدان میں سرگرم عمل صحافی محترمہ” رانیا خالق”[۴] نے ٹوئیٹر پر لکھا: اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ بیس جو عراق میں عراقی فوج سے متعلق ہے اسکی جانب سے اسرائیل کو کوئی خطرہ لاحق ہو اور عراق میں قائم عراقی فورسز کا یہ فوجی اڈہ  اسرائیل کے لئے کوئی خطرہ پیدا کرنے کا سبب بنے۔[۵]

علاوہ از ایں اسرائیل کی جانب سے  عراق پر ہونے والا حملہ اس بات کا سبب بنا کہ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ زور پکڑ لے حتی کہ عراق کے ایک مرجع آیت اللہ کاظم حائری نے عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو حرام تک قرار دے دیا۔[۶]

اسرائیل کی داخلی صورت حال

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل و ایران کے درمیان جنگ کے وقوع پذیر ہونے کی صورت میں اسرائیل دفاعی حالت میں چلا جائے گا اور حملے کی پوزیشن میں نہیں رہ سکے گا ۔اس لئے کہ ایران کی بہ نسبت یہ رجیم دو نقطوں میں ایران سے ضعیف و کمزور ہے ایک توفورسز کی تعداد و عسکری طاقت کے اعتبار سے اور دوسرے زمین کی محدودیت کے اعتبار سے یہ دو باتیں وہ ہیں جو اسرائیل کے لئے رنج و مشکل کا سبب پہلے بھی تھیں اب بھی ہیں ۔

اسکے علاوہ صہیونیوں کی سیاسی و مذہبی جماعتوں میں سنگین نوعیت کے اختلافات وجود میں آئے ہیں جو اس بات کا سبب بنے ہیں کہ احزاب کی کثرت، کابینہ کی تشکیل میں خلل اورپے در پے ایک کے بعد ایک حکومتوں کا گرنا اور جلدی الیکشن  جیسی مشکلات وجود میں آئیں اور مزید بر آن یہ کہ کابینہ کی تشکیل کی صورت میں اس بات کا کافی احتمال ہے کہ حکمراں محاذ شدید ترین اختلافات کے چلتے ضرر پذیر ہوگا اور اسے چوٹ پہنچنے کا امکان رہے گا۔

صہیونی حکومت فلسطین کے مزاحمتی محاذ و حزب اللہ  کی عسکری اور میزائل و راکٹوں کی پیشرفت و کامیابی کے بعد بہت زیادہ نقصان پذیر ہو گئی ہے اور اس پر ضرب لگائی جا سکتی ہے اسی کے چلتے طولانی مدت جنگ کی توانائی و صلاحیت اس کے اندر نہیں ہے دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ جب اسرائیلی رجیم مزاحمتی محاذ کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے تو ایران سے کیونکر مقابلہ کر سکتی ہے۔ [۷]

 اسرائیل  کے مقابل ایران کی عسکری طاقت

اسرائیل کے ان ذکر شدہ تین ممالک پر حملوں کے بعد جب اسرائیل و ایران اور اسکے متحدین کے ساتھ جنگ کے چھڑ جانے کے پیش نظر صہیونی ذرائع ابلاغ نے دونوں ممالک کی عسکری طاقت کے بارے میں تجزئے اور تبصرے پیش کئے ،اسرائیلی میڈیا نے اپنی پوری توانائی اس بات میں صرف کر دی کہ مبالغہ آرائی کے ذریعہ اسرائیلی فوجی طاقت کو ایران سے بڑھاچڑھا کر پیش کرتے ہوئے اسرائیل کو ایران سے مضبوط بنا کر پیش کر سکے لیکن اسرائیل کی فوجی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے باوجود یہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ سے وابستہ مبصرین و تجزیہ نگار ایران کی فوجی برتری اور ایران کی طاقت کا انکار نہ کر سکے اور انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران خطے میں ایک بڑی فوجی طاقت ہے۔

مثال کے طور پر نیوز ویک نامی سایٹ اس بارے میں لکھتی ہے ” ایران اسرائیل کے مقابل جوہری توانائی تو نہیں رکھتا لیکن وہ اپنی میزائیل کی طاقت کو بڑھا رہا ہے اور یہ میزائل کی بڑھتی طاقت سبب بنی ہے کہ موجودہ دور میں ایران خطے کی بڑی طاقتوں میں ابھر کر سامنے آئے اور بہت آسانی کے ساتھ ایران  اسرائیل پر حملہ کرنے کا دم خم رکھتا ہے ”۔

(Golbal Firepower) کی رپورٹ کے مطابق ایران کی ۸ کروڑ و چند لاکھ پر مشتمل آبادی نے  ایران کو ایسی طاقت کے طور پر پیش کیا  ہے جسکے پاس مشرق وسطی کاسب سے بڑا انسانی سرمایہ ہے، اس لئے کہ ایک طویل المدت جنگ ایک بڑے انسانی سرمایہ کی محتاج ہے دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں اسرائیل کی تین کروڑ کی جنگ کے لئے آمادہ و تیار آبادی کے مدمقابل ایران کے پاس ۴۷ ملین {چار کروڑ سات لاکھ ] لوگ موجود ہیں ۔

اس رپورٹ کے مطابق  اسرائیل کے پاس تمام عسکری شعبوں میں ۱۷۰ ہزار متحرک فورسز موجود ہیں اور ۴۴۵ ہزار رزرو فورس ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ یہ فوجی طاقت اسرائیل کی کل آبادی کے ۷%.۳   فیصد حصہ کو شامل ہے جبکہ اسکے مقابل ایران کے پاس ۸۷۳ ہزار آمادہ اور رزو فورس موجود ہے  جس کے پیش نظر ایران کی کل آبادی کا محض ۱%.۱  فیصد  حصہ ہی جنگ میں راست طور پر الجھتا نظر آ رہا ہے۔  [۸]

(Golbal Firepower) ایک ایسا مرکزہے جو مختلف ممالک کی فوجی طاقت کی درجہ بندی کے لئے ۵۵ معیاروں کو مد نظر قرار دیتا ہے اور ۵۵ ضابطوں کے استعمال کے بعد مختلف ممالک کی فوجی طاقت کے سلسلہ سے اظہار خیال کرتا ہے اور ایسا اس لئے ہے کہ اسرائیل جیسا چھوٹا ملک بھی اپنے سے بڑے ممالک کے ساتھ طاقت کی اس فوجی طاقت کی درجہ بندی کی اس دوڑ میں دیگر ممالک کے ساتھ رقابت کر سکے ۔

(Golbal Firepower) کی جانب سے کئے گئے سروے کے تحت ۲۰۱۹ میں ایران عسکری طاقت کے حساب سے  ۱۵ ویں پوزیشن پر ہے جبکہ اسرائیل کا نمبر سولہواں ہے [۹] اس درجہ بندی کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ایران و اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی ممکنہ جنگ کسی بھی طرح اسرائیل اور اسکے متحدین کے حق میں نہ ہوکر انکے نقصان میں رہے گی ۔

 نیتجہ و ماحصل

ان تمام تجزیوں کے ساتھ اس سے ہٹ کر بھی مختلف انداز میں تبصرے کئے گئے ہیں مثلا تل ابیب کے سورسز نے نیتن یاہو کی دھمکیوں کو اسرائیل کے درونی معاملات کو حل کرنے کے سلسلہ سے بیان کیا ہے اور اسکا سبب بھی انتخابات کا نزدیک ہونا بتایا ہے ،کیونکہ انہیں پتہ ہے گزشتہ مئی کے مہینہ میں جب انکی لڑائی فلسیطنیوں سے تھی تو ۶۹۰ راکٹس الگ الگ دوری تک مار کرنے کی صلاحیتوں کے ساتھ اسرائیل کے جنوب کی سمت داغے گئے ، اسکے علاوہ  اسرائیل و مزاحمتی محاذ کے ما بین تناو کسی بھی طرح اسرائیل کے حق میں نہ ہوگا اس لئے کہ ممکن ہے مغربی کنارے [۱۰] کا علاقہ بھی اقتصادی و معیشتی مشکلات اور بین الاقوامی طور پر الگ تھلگ کئے اور مسلسل اسرائیل کی جانب سے دباو کے چلتے اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑا ہو اور دھاوا بول دے۔ [۱۱]

ان سب باتوں کے علاوہ بعض لوگ اسرائیل کی ان حرکتوں کو نیتن یاہو کے ہاتھ پیر مارنے سے تعبیر کر رہے ہیں چونکہ نیتن یاہو کے سامنے اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ یا تو وہ وزیر اعظم کی کرسی کی آڑ میں خود کو بچانے میں کامیاب ہوں یا سیاسی و مالی فساد و کرپشن کی بنا پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جائیں۔

حواشی:

[۱] ۔ https://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/iran-israel-hezbollah-air-strikes-drones-lebanon-iraq-a9079411.html.

[۲]  ۔ https://www.theguardian.com/world/2019/aug/25/netanyahu-hails-israel-strikes-against-syria-to-foil-iran-killer-drone-attack.

[۳]  ۔ https://www.farsnews.com/news/13980603000028.

[۴]  ۔ rania khalek

[۵]  ۔ https://www.commondreams.org/news/2019/08/26/israeli-bombings-considered-declaration-war-says-iraqi-political-bloc#.

[۶]  ۔ https://www.latimes.com/world-nation/story/2019-08-23/israel-behind-attack-on-iranian-depot-in-iraq-us-says

[۷]  ۔ https://www.mashreghnews.ir/news/979760

[۸]  ۔ https://www.newsweek.com/how-does-israels-military-compare-iran-961120

[۹]  ۔ https://www.jpost.com/Israel-News/Israel-falls-to-17th-place-in-global-military-index-598306

[۱۰]  ۔ مغربی کنارہ جسے  عربی میں  الضفة الغربية کہا جاتا ہے اور انگریزی: میں  West Bank  یہ ایسا علاقہ ہے جو دریائے اردن کے زمین بند جغرافیائی علاقے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جو مغربی ایشیا میں واقع ہےاورفلسطین کا کا حصّہ ہےاسکے  مغرب، شمال اور جنوب کی طرف اسرائیل ہے جبکہ مشرق کی طرف اردن کا واقع ہے رک: The World Factbook – Middle East: West Bank”. Central Intelligence Agency. 26 September 2018. Retrieved ۳ October ۲۰۱۸٫

Al-Houdalieh, Salah Hussein A.; Tawafsha, Saleh Ali (March 2017). “The Destruction of Archaeological Resources in the Palestinian Territories, Area C: Kafr Shiyān as a Case Study”. Near Eastern Archaeology. 80 (1): 40–۴۹٫ doi:10.5615/neareastarch.80.1.0040. JSTOR 10.5615/neareastarch.80.1.0040.

Aloni, Adam (December 2017). Made in Israel: Exploiting Palestinian Land for Treatment of Israeli Waste (PDF). B’Tselem. ISBN 978-965-7613-31-3.

[۱۱]  ۔ https://www.farsnews.com/news/13980528000760.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۲