ڈاکٹر سعد اللہ زارعی کے ساتھ خیبر کی گفتگو؛

ریفرنڈم کی صورت میں فلسطین کی سرنوشت




رہبر انقلاب اسلامی نے مکمل ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ مغربیوں کے اسی حربے کو استعمال کیا اور فلسطین میں ریفرنڈم کا اعلان کیا جو بظاہر مغربی سیاست کے مطابق ہے لیکن در حقیقت فلسطینی مسئلے کا بہترین راہ حل بھی ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: علاقے کے بہت سارے اسلامی ممالک اگر چہ بظاہر اسلامی ملک ہیں لیکن در حقیقت وہ قضیہ فلسطین کی پشت پر خنجر گھونپنے والوں میں سے ہیں اور ان کی پالیسیاں فلسطینی کاز کے بالکل برخلاف ہیں وہ بجائے اس کے کہ فلسطینی عوام کی حمایت کریں امریکہ اور صہیونی ریاست کے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ فلسطینی عوام کا مدافع رہا ہے اور غربی عربی اور عبری مثلث کے ظالمانہ مقاصد کے خلاف ڈٹا رہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران فلسطین پر ظالمانہ قبضے کے دور سے آج تک صہیونی ریاست کے جبر و استبداد کے مقابلے میں سینہ سپر ہے۔ اور اس اسٹراٹجیک نے بہت ساری کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فلسطین میں ریفرنڈم کے انعقاد کے عنوان سے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے تاکہ اس ملک کی سرنوشت خود فلسطینیوں کے ہاتھوں لکھی جا سکے۔
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ نے رہبر انقلاب اسلامی کے اس منصوبے کے حوالے سے بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر ”سعد اللہ زارعی” کے ساتھ گفتگو کی ہے جسے قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں:
خیبر: رہبر انقلاب اسلامی نے فلسطینی عوام کے لیے ریفرنڈم کے عنوان سے سنہ ۱۳۶۹ میں ایک منصوبہ پیش کیا تھا، بعد از آن آپ نے ۱۷ مرتبہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عالمی برادری پر زور ڈالا۔ اس پیش کش اور منصوبے کے حوالے سے آپ کا کیا تجزیہ ہے؟
۔ میری نظر میں، رہبر معظم انقلاب نے یہ منصوبہ پیش کر کے مغرب کو ایک نازک مرحلے میں کھڑا کر دیا ہے۔ مغربی رہنما بہت ہی دلکش ہیں انہوں نے غنڈہ گردی کے ساتھ دنیا میں بہت سارے کام انجام دئیے ہیں۔ انہی مغربیوں نے دنیا میں انتخابات کا معاملہ اٹھایا اور اس طرح جس شخص یا گروہ کو چاہا دنیا کے ہر خطے پر مسلط کر دیا۔ اور جس شخص یا گروہ کے ساتھ مخالفت کی اسے گرا دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مکمل ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ مغربیوں کے اسی حربے کو استعمال کیا اور فلسطین میں ریفرنڈم کا اعلان کیا جو بظاہر مغربی سیاست کے مطابق ہے لیکن در حقیقت فلسطینی مسئلے کا بہترین راہ حل بھی ہے۔ در حقیقت، انہوں نے مغرب کو ایک نازک حالات میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ رہبر انقلاب نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ مغرب مجبور ہو کر یا ریفرنڈم اور حق رائے دہی کے شعار کو ترک کر دے یا اس پیش کش کو قبول کرے۔ چنانچہ اگر وہ ریفرنڈم کے منکر ہوتے ہیں تو گویا وہ اپنے ہی دعوے کے منکر ہیں اور دوسری طرف سے وہ رہبر انقلاب کی پیش کردہ پیش کش کو بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں لہذا وہ ایسے نازک حالات میں گرفتار ہیں کہ اگر ان دو طرفوں میں سے کسی ایک طرف کا بھی انتخاب کرتے ہیں تو ان کی شکست ہے۔
خیبر: کیا آپ کی نگاہ میں یہ منصوبہ قابل نفاذ ہے اور کیا یہ پیش کش مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ایک نہائی پیش کش ہے؟
۔ رہبر انقلاب کے پیش نظر یہ پیش کش اور منصوبہ ایک حقیقی اور واقعی منصوبہ ہے اور میری نظر میں قابل نفاذ ہے۔ لیکن مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے دو بحثیں ہیں: ایک بحث اسرائیل کی نابودی کی ہے اور دوسری بحث سرزمین فلسطین کے مستقبل کی ہے، یہ دونوں بحثیں الگ الگ ہیں۔
صہیونی ریاست کی نابودی کے مسئلے میں صرف ایک ہی طریقہ کار ہے اور وہ ہے مزاحمت۔ اس کے علاوہ ممکن نہیں ہے کہ ہم صہیونیوں کو بین الاقوامی قوانین، علاقائی عہد و پیمان اور بیرونی جنگوں کے ذریعے فلسطین سے نکال سکیں۔ اسرائیل کی نابودی کا واحد راستہ اندرونی مزاحمت ہے۔ یہی مزاحمت جو اس وقت فلسطین میں موجود ہے اور رہبر انقلاب بھی اس مسئلے پر زور دیتے ہیں اور مسلحانہ مزاحمت پر تاکید کرتے ہیں۔
غزہ تقریبا ۶ فیصد فلسطینی سرزمین پر مشتمل ہے اور آج یہ علاقہ بطور کلی مسلح ہے، مغربی کنارے میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے اور یہ علاقہ جو ۱۶ فیصد فلسطین پر مشتمل ہے اور غزہ سے بڑا ہے وہ بھی تقریبا مسلح ہے۔ اور یہ علاقہ اردن میں ساکن فلسطینی پناہ گزینوں سے جڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے ۴ ملین سے زیادہ فلسطینی پناہ گزیں مسلحانہ انتفاضہ میں شامل ہو سکتے ہیں اور یہ چیز اسرائیل کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔
لہذا اسرائیل کی نابودی کا مسئلہ صرف مزاحمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کی نابودی کے بعد فلسطین کو کیسے چلایا جائے گا؟ اس سرزمین پر حکومت کرنے میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کا کیا کردار ہو گا اور ان کی ذمہ داری کیا ہو گی؟
اس عوام کو سمندر میں نہیں پھینکا جا سکتا اور نہ انہیں نابود کیا جا سکتا ہے، یہ مسئلہ ایک سیاسی تدبیر کا محتاج ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اسے پیش کیا ہے اور فرمایا ہے کہ فلسطینیوں ( چاہے مسلمان ہوں، یہودی ہوں یا عیسائی) کو چاہیے کہ اس ریفرنڈم میں حصہ لیں اور سرزمین فلسطین کو چلانے کا طریقہ کار معین کریں۔
خبریں یہ بتا رہی ہیں کہ بعض لوگ کوشاں ہیں کہ اس سرزمین پر ساکن اور غیر ساکن فلسطینی پناہ گزینوں میں سے ایک ایک فرد کی صورتحال کا جائزہ لیں اور ان کی اصالت کو مشخص کریں، انشاء اللہ اگر آئندہ سالوں میں ریفرنڈم کے لیے موقع فراہم ہو، تو اس منصوبے کا ایک حصہ عملی جامہ پہن لے گا اور ایسا ہونا بھی چاہیے تاکہ اس مسئلے کے حوالے موجود تشویش کا خاتمہ ہو سکے۔
صہیونیوں کے دعوے کے مطابق ۷ ملین یہودی مقبوضہ فلسطین میں ساکن ہیں۔ لیکن ہمارے جائزے اور اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے چار ملین سے زیادہ یہودی نہیں ہیں۔ لیکن بہر صورت یہودیوں کی یہ تعداد جس میں یقینا ۳ ملین یہودی غیر فلسطینی ہیں کی تکلیف معین ہونا چاہیے۔ یقینا ان میں سے بعض کو کچھ شرائط کے تحت فلسطینی شہری کے عنوان سے قبول کرنا پڑے گا۔
بنابرایں، اس مسئلے میں بہت پیچیدگیاں اور چیلینجیز پائے جاتے ہیں لہذا فلسطین کے ساکن یہودی مطمئن رہیں کہ انہیں نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور ایسا نہیں ہے کہ جو رویہ صہیونیوں نے مسلمانوں کے ساتھ اپنایا وہی مسلمان بھی ان کے ساتھ اپنائیں گے۔
خیبر: رہبر انقلاب اسلامی نے فلسطین میں حق خود ارادیت کے استعمال کے حوالے سے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ریفرنڈم کا منصوبہ ان فلسطینیوں سے مخصوص ہے جو ۱۹۴۸ سے قبل اس سرزمین میں زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
فلسطین میں یہودیوں کی ہجرت کا سلسلہ ۱۹۰۵ سے شروع ہوا، اسرائیلی حکومت ۴۳ سال اس کے بعد وجود میں آئی اور اس دوران یہودیوں کی کثیر تعداد فلسطین میں ہجرت کر چکی تھی۔ سنہ ۱۹۴۵ میں تقریبا ۳ فیصد فلسطین یہودیوں کے اختیار میں تھا لیکن سنہ ۱۹۴۸ میں جب اقوام متحدہ نے اسرائیل کو جنم دیا اسرائیل کی سرزمین ۳۷ فیصد فلسطین کو شامل ہو گئی۔
رہبر انقلاب اسلامی کے اس منصوبے کے مطابق ۱۹۴۸ سے قبل کے فلسطینیوں کو اس ریفرنڈم میں حاضر ہونا چاہیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہودی جنہوں نے فلسطین ہجرت کی ہے ان کے بارے میں گفتگو ہو۔ رہبر انقلاب نے در حقیقت ان کی فائل کو بند نہیں کیا بلکہ آپ نے ۱۹۴۸ کے بعد والے مہاجر یہودیوں کا چپٹر کلوز کر دیا ہے۔ میری نظر میں یہ مسئلہ قابل غور ہے۔ اس لیے کہ ممکن ہے کوئی شخص ایسا ہو جو خود فلسطینیوں کی نسل سے ہو اور فلسطین واپس آیا ہو۔ اس لیے ۱۹۴۸ سے قبل کا چپٹر بند نہیں کیا جا سکتا۔
یہ مسئلہ بھی ریفرنڈم کی پیچیدگیوں میں سے ایک ہے جیسا کہ ہم نے کہا کہ خود ریفرنڈم کو بھی فلسطین میں بہت سارے چیلنجیز ہیں اسکے اطراف و جوانب پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کو باریکیوں سے بیان ہونا چاہیے ایک ایک پوئنٹ پر بات ہونا چاہیے۔
جو چیز حائز اہمیت ہے وہ یہ ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی نے ایک کلی منصوبہ پیش کیا ہے اس کے جزئیات پر گفتگو کرنا محققین اور ماہرین کا کام ہے۔ البتہ حالیہ سالوں اس حوالے سے سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں لیکن بطور کلی فلسطینیوں، عرب حقوق دانوں اور مغربی محققین پر مشتمل ایک گروہ تشکیل پانا چاہیے جو اس حوالے سے معلومات اکٹھا کرے اور اس کے تمام جوانب کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک جامع لائحہ عمل سامنے لائے۔

خیبر: بہت بہت شکریہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳