گنبدِ آہنین اسرائیل کے تحفظ کے لئے ناکافی




جو بات لائق توجہ ہے وہ یہ ہے کہ کوخافی ، اسرائیلی مسلح افواج کے سربراہ ،نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی میزائلز کے بارے میں اس انتباہ کے بعد کہ ایران مشرق وسطی کے ہر ایک مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے ، یہ فیصلہ لیا گیا کہ اسرائیل کے فضائیہ دفاعی سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عربی زبان میں شائع ہونے والے روزنامہ الاخبار کے کالم نگار علی حیدر نے لکھا ہے کہ : ایران کے دقیق و پیشرفتہ میزائلوں کے خطرات سے مقابلہ کے لئے اسرائیلی ذمہ داروں کی جانب سے دیا جانے والا انتباہ صرف نیتن یاہو اور کوخافی کی جانب سے ظاہر ہونے والے رد عمل میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس وقت زمینی صورت حال یہ ہے کہ اسرائیلی فوج ایران کی جانب سے لاحق خطروں سے مقابلہ کے لئے ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئَے مسلسل خود کو تیار کر رہی ہے اسی کے تحت اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی رجیم اپنے دفاعی سسٹم کی نوک پلک سنوارنے اوراس سسٹم کو مستحکم کرنے کی چارہ جوئی میں لگی ہے تاکہ اسکے ذریعہ ایران کے میزائلوں کا سامنا کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو مزید بڑھائے اور ہر طرح کی بڑے پیمانے پر فوجی مڈبھیڑ میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو وسعت بخشے ۔
انتخاب بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق علی حیدر نے اپنے کالم میں آگے لکھا ہے : “اسرائیل کی جانب سے یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ تل ابیب میں حاکم ملکی تحفظ سلامتی سے متعلقہ مرکز کس قدر آرامکو کے حملے کے بعد خطرے کا احساس کر رہا ہے؛ کیونکہ اسے خطے میں ایک اسٹراٹیجک انقلاب کے طور پر جانا جا رہا ہے اور اسرائیلی ذمہ داروں کو یہ بات باور ہو گئی ہے کہ انہوں نے اپنے دفاعی سازوسامان اور سسٹم کے لئے جو بھی اخراجات ان چند سالوں میں برداشت کئے ہیں وہ سب کے سب ان راکٹوں کی صلاحیتوں کے مقابل کسی کام کے نہیں جو آرامکو کے حملے میں استمعال ہوئےاور جس طرح سعودی عرب میں امریکہ کا دفاعی سسٹم ان راکٹوں کے اپنے نشانوں پر پہنچنے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کر سکا تو یقینا اسرائیل کا دفاعی سسٹم بھی انکے مقابلہ کے لئےناکافی ہو گا یہی وجہ ہے کہ صہیونیوں نے آرامکو کے حادثہ کے بعد درس عبرت لیتے ہوئے بہت ہی جلد یہ فیصلہ لیا کہ موجودہ دفاعی سسٹم کی جگہ کسی نعم البدل پروگرام کو عملی کیا جائے جسکا مقصد دفاعی سسٹم کی سطح اور اسکی کیفیت کو مضبوط بنانا ہے یہ اور بات ہے کہ اس کام کے لئے ایک طولانی وقت درکار ہے اور ان تمام باتوں کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ تل ابیب کی یہ مجبوری ہے کہ وہ اپنے دشمن کی صلاحیتوں کے بارے میں آنے والی ہر رپورٹ کے سامنے احتیاط کا دامن ہاتھ دے نہ چھوڑے اور ساتھ ہی اچانک و دفعی طور پر رونما ہونے والے حوادث کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار رکھے ۔
در حقیقت تل ابیب اس طریقہ کار کو اختیار کر کے یہ چاہتا ہے داخلی طور پر اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے ساتھ باہر کی دنیا میں یہ پیغام دے کہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے اور ان کے معیار کو بہتر بنانے کے وسائل اسکے پاس ہیں ، لیکن اسرائیل کی مشکل اسکا سازوسامان یا جنگی آلات کے بارے میں اسکی صلاحیتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ رجیم اس بات سے پریشان ہے کہ ایران نے اپنی روادارانہ سیاست کو بدل دیا ہے اور اب وہ جرات کے ساتھ جری ہو کر آگے بڑھ رہا ہے تاکہ نئے انداز پر بھروسہ کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں اور خلاف ورزیوں کا جواب دے سکے ۔
یہاں پر جو بات لائق توجہ ہے وہ یہ ہے کہ کوخافی ، اسرائیلی مسلح افواج کے سربراہ ،نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی میزائلز کے بارے میں اس انتباہ کے بعد کہ ایران مشرق وسطی کے ہر ایک مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے ، یہ فیصلہ لیا گیا کہ اسرائیل کے فضائیہ دفاعی سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔
اور اسرائیلی فوج کے عسکری کالجز کے سربراہ اسحاق بریک نے بھی اسی پیرایہ میں گفتگو کرتے ہوئے ایران کے میزائلوں کو ایک نیا خطرہ قرار دیا اور یہ تصور پیش کیا کہ ایران کی حکمت عملی اور سیاست یہ ہے کہ شام ، عراق اور لبنان و یمن اور غزہ میں اپنے راکٹس و میزائلوں کو نصب کیا جائے یہی وجہ ہے کہ آج اسرائیل کی وزارت جنگ کو یقین ہو گیا ہے موجودہ حالات میں گنبد آہنین کے پاس ایران کے راکٹوں اور اسکی میزائلوں سے مقابلہ کی طاقت نہیں ہے۔
https://www.entekhab.ir/fa/news/509760

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳