صیہونیت عالم اسلام میں عالمی سامراج کا آلہ کار




صہیونیت کا ایک واضح اسٹریٹجک مقصد “نیل سے فرات” تک پھیلے ہوئے “عظیم تر اسرائیل” کی تشکیل ہے۔ وہ اپنی اس ناختم ہونے والی بھوک کو توریت کا سہارا لیتے ہوئے مذہبی رنگ دیتے ہیں اور ایسا پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ مذہبی تعلیمات کے مطابق نیل سے فرات تک کی سرزمین یھودا کی اولاد کو تحفہ میں دی گئی تھی۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: صہیونیت کا بنیادی مقصد نہ صرف ایک مذہب کا بچاو ہے بلکہ یہودیوں پر مشتمل ایک ایسی عالمی حکومت کی تشکیل ہے جس کے ماتحت پوری دنیا کے یہودیوں کو توسیع پسندانہ جنگوں کا سہارا لیتے ہوئے وعدہ شدہ سرزمین (عظیم تر اسرائیل) کے حصول کے لیے اکٹھا کرنا ہے۔ چونکہ صہیونیت دنیا میں سامراجیت کی غالب اقلیت ہے جس نے مشرق وسطیٰ میں اپنے نوآبادیاتی اور سامراجی مقاصد کے لیے اسرائیل کے نام پر ایک اڈہ قائم کیا ہے۔ لہذا، توسیع پسندی اس طرح کی تحریک کی ذات میں شامل ہے۔ (۱)
صہیونیت کا ایک واضح اسٹریٹجک مقصد “نیل سے فرات” تک پھیلے ہوئے “عظیم تر اسرائیل” کی تشکیل ہے۔ وہ اپنی اس ناختم ہونے والی بھوک کو توریت کا سہارا لیتے ہوئے مذہبی رنگ دیتے ہیں اور ایسا پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ مذہبی تعلیمات کے مطابق نیل سے فرات تک کی سرزمین یھودا کی اولاد کو تحفہ میں دی گئی تھی۔ (۳)
اپنے توسیع پسندانہ اہداف کے حصول کے لیے اسرائیل تمام عرب ممالک اور عالم اسلام کے مقابلے میں اپنے وجود کے تحفظ کی خاطر، جہان عرب میں تفرقہ اندازی اور اختلاف کا بیج بونے کو اپنا دستور العمل قرار دیئے ہوئے ہے۔(۳) صہیونیت عالمی سامراج کے ایک آلہ کار کے طور پر “اختلاف ڈال اور حکومت کر” کی پالیسی کے تحت اسلامی اور عربی تحریکوں کو درہم برہم کرنے کی کوشش میں جٹی ہوئی ہے۔ (۴)
اس پالیسی کو معروف صہیونی لکھاریوں جیسے “ارییہ اورتشٹائن” اور ” ڈیوڈ کاما” کی کتابوں میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ (۵)

حواشی

[۱]. فلسطين و حقوق بين الملل، هنري کتان، ترجمه غلامرضا فدايي عراقي، ص ۷۷، تهران، امير کبير، ۱۳۶۸؛ ريشه‌هاي بحران در خاورميانه، حميد احمدي، ص ۴۷۸ ـ ۴۷۶، تهران، کيهان، ۱۳۶۹.

[۲]. طرح يهوديان قبرس، اسکار ک. آ. را بينوويچ، ص ۱۷، انتشارات هرتزل، نيويورک، ۱۹۶۲ م؛ حقايق و اباطيل في تاريخ بني اسرائيل، فوزي محمد حميد، ص ۶۳ ـ ۵۷؛ دارالصفدي، دمشقع ۱۹۹۴م؛ پرونده اسرائيل و صهيونيسم سياسي، روژه گارودي، ترجمه نسرين حکمي، ص ۱۳۳، سازمان چاپ و انتشارات وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، تهران، ۱۳۶۹٫

[۳].  استراتژي صهيونيس در منطقه عربي و کشورهاي هم جوار آن، موسسه الارض ويژه مطالعات فلسطيني، ص ۲۷۷ ـ۲۷۵، انتشارات بين الملل اسلامي، بي جا، ۱۳۶۳٫

[۴]. پويايي فرهنگ و تمدن اسلامي و ايران (از رکود تا بيداري اسلامي)، علي اکبر ولايتي، ج ۲، ص ۱۰۵۸٫

[۵] وہی، ص ۱۹۰ ـ ۱۸۱؛ تروريسم مقدس اسرائيل، ليويا روکاچ، ترجمه مرتضي اسعدي، ص ۷۶ ـ ۶۷، کيهان ، تهران، ۱۳۶۵٫

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳