ایران کو مشرقی وسطی میں امریکی محاذ پر فوجی برتری حاصل




اس تحقیق کے نتائج یہ بیان کرتے ہیں کہ ایران کی جانب سے جو نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے وہ ایک طرف تو ایران کی طاقت کو بڑھانے کا سبب ہے دوسری طرف  ایران کے اوپر بین الاقوامی دباو کی صورت کام آتا ہے اور اسکے ذریعہ دباو کم کیا جاتا ہے دوسری طرف یہی نیٹ ورک خطے میں ایران کے علاقائی دشمنوں سے مقابلہ میں بھی موثر کردار ادا کرتے ہیں اور یہ وہ سیاست ہے جو ہمیشہ ہی ایران کے حق میں رہی ہے بغیر کچھ خرچ کئے اور بغیر کسی ایسے خطرے کے مول لئے جس میں دشمن سے بلاواسطہ مقابلہ ہو سکتا ہو ۔



برطانوی تحقیقاتی مرکز (IISS)

ترجمہ و تالیف: خیبر تحقیقاتی گروپ

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: برطانیہ کے ایک فوجی تحقیقاتی سینٹر(IISS)[1] نے اپنی ۱۸ مہینوں تک کی جانے والی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ اور اسکے متحدین پر ایران کو علاقے میں موثر برتری حاصل ہے اور ایران نے اپنے حریفوں کے بر خلاف بہت ہی کم خرچ میں انتہائی بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔

روزنامہ گارڈین والجزیرہ اور نیوز ویک کی تحریر کے مطابق برطانیہ میں قائم  بین الاقوامی اسٹراٹیجک رiسرچ سینٹر کی جانب سے ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج[۲] خطے میں ایران کی امریکہ اور اسکے متحدین پر موثر برتری کو بیان کر رہے ہیں ۔

دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کو فوجی صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس انداز میں مرتب کیا گیا ہے کہ اس میں چھہ سو سے زائد معتبر مآخذ و مدارک کو بروئے کار لاتے ہوئے  ماہرین کی ایک ٹیم نے عرق ریزی کے ساتھ  اپنے مطالعات کے نچوڑ کو پیش کیا  ہے [۳] اور دنیا ومغرب کی معتبر جانے والی نیوز ایجنسیز و اخبارات نے اسے تفصیل سے شائع کیا ہے[۴] بی بی سی کی اردو[۵] و انگریزی[۶] سروس نے اس رپورٹ کو نادر بتاتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ “آئی آئی ایس ایس کی(IISS) ’ایران کے نیٹ ورک اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کا اثر و رسوخ‘ کے عنوان سے جاری کردہ ۲۱۷ صفحوں کی رپورٹ میں ایران کے خطے میں آپریشنز اور رسائی کی ایسی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئیں۔”برطانیہ میں قائم بین الاقوامی ادارہ برائے اسٹراٹیجک مطالعات ( آئی آئی ایس ایس) (IISS کی جانب سے ہونے والے سروے کے نتائج بتا رہے ہیں کہ ایران کو خطے میں اسلئے برتری حاصل ہے کہ وہ نیم فوجی شیعہ دستوں اور اپنی حمایتی ملیشیا کو طرف ثالث کے طور پراستفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسی صلاحیت نے ایران کی طاقت میں اضافہ کیا ہے اس ریسرچ سینٹر نے  ایران ،لبنان ، عراق، شام اور یمن کی اسٹراٹیجک پوزیشن کے دقیق  مطالعہ زمینی حقائق اور ماہرین سے انٹرویو سے حاصل  ہونے والے نتائج کے معیاروں کو رکھ کر سروے کو انجام دیا ہے۔

ایران کے سلسلہ سے ہونے والے اس سروے میں روزنامہ گارڈین کے بقول ۱۶ مہینے صرف ہوئے[۷] جبکہ اسے تصاویر و گرافیک و تزیین کے ساتھ منظر عام پر لانے میں خود برطانوی تحقیقاتی مرکز کے بقول  ۱۸ مہینے صرف[۸] ہوئے اور ۱۸ مہینوں کے اس پروجیکٹ کا نام تھا “ایران کی جانب سے موثر نیٹ ورک”[۹]، اس پروجیکٹ کے نام سے واضح ہے کہ ایران کی بیلسٹک میزائلز اور اسکے جوہری پروگرام  اور ایران کی معمول کی فوجی صلاحیت و طاقت  سے بھی زیادہ اس تحقیقاتی سینٹر کے پیش نظر ایران کا وہ نیٹ ورک رہا جو اس نے علاقے میں قائم کیا ہوا ہے۔

اس تحقیقاتی مرکز(IISS کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو امریکہ اور اسکے حلیف ممالک کا فائدہ تو اسی بات میں ہے کہ مغربی ایشیاء کے ممالک میں فوج کے درمیان ایک توازن رہے لیکن اس وقت خطے میں موثر طاقت کا جھکاو ایران کے حق میں ہے اور ایران کی مضبوط پالیسی کے چلتے  علاقے میں  ایک اثرا نداز طاقت کا توازن ایران کے مفاد میں دکھ رہا ہے اور امریکہ کی پابندیوں کے باوجود ایران کی جانب سے اختیار کی گئی حکمت عملی کو  بین الاقوامی طور پر بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ایران نے امریکی پابندیوں میں بری طرح گھرے رہنے کے بعد بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور اپنی طاقت کو  اپنے وسیع نیٹ ورک کے ذریعہ خطے می ہر طرف پھیلا دیا ہے ۔

اس تحقیق کے نتائج یہ بیان کرتے ہیں کہ ایران کی جانب سے جو نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے وہ ایک طرف تو ایران کی طاقت کو بڑھانے کا سبب ہے دوسری طرف  ایران کے اوپر بین الاقوامی دباو کی صورت کام آتا ہے اور اسکے ذریعہ دباو کم کیا جاتا ہے دوسری طرف یہی نیٹ ورک خطے میں ایران کے علاقائی دشمنوں سے مقابلہ میں بھی موثر کردار ادا کرتے ہیں اور یہ وہ سیاست ہے جو ہمیشہ ہی ایران کے حق میں رہی ہے بغیر کچھ خرچ کئے اور بغیر کسی ایسے خطرے کے مول لئے جس میں دشمن سے بلاواسطہ مقابلہ ہو سکتا ہو ۔

ایران کی یہ پالیسی اس اعتبار سے کامیاب رہی کے اسکے حریفوں نے اندھا دھند پیسے کو استعمال کیا جس سے انہیں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی چنانچہ اس بات کا اعتراف بی بی سی نے بھی اس طرح کیا ہے “خطے میں ایران کے حریفوں نے اربوں ڈالر مغربی دنیا خصوصاً برطانیہ سے اسلحہ خریدنے میں خرچ کیے ہیں۔ لیکن ایران نے اس سے کہیں کم پیسوں میں پابندیوں میں گھرے ہونے کے باوجود خطے میں روابط کے ذریعے اسٹریٹیجک برتری حاصل کی ہے۔[۱۰]

برطانوی تحقیقاتی مرکز(IISS) مطابق اپنے تمام تر حریفوں کو چاروں خانے چت کرتے ہوئے ’اسلامی جمہوریہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں مؤثر طاقت کا توازن اپنے حق میں  کر لیا ہے۔‘ اس رپورٹ کے تیار کرنے والے ماہرین کے مطابق ایران نے ایسا پُر اثر کارروائیوں اور طرف ثالث یا تیسری پارٹی کے استعمال سے روایتی طور پر برتر طاقتوں کا مقابلہ کر کے حاصل کیا یعنی ایران نے براہ راست کسی جنگ میں نہ الجھ کر ایک قسم کی پراکسی وار لڑتے ہوئے اپنے بازوں کا بہترین استعمال کیا اوراسے مطلوبہ کامیابی بھی حاصل ہوئی اس رپورٹ کے مطابق یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ  ایران ہمیشہ اس جنگ میں کامیاب رہا ہے جو لوگوں کے درمیان رہی ہے جبکہ ملکوں کے درمیان جنگ میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ ایران نے ملکی پیمانے پر لڑائی سے ہمیشہ اجتناب کیا ہے اس کے برخلاف حکومتوں سے وابستگی نہ رکھنے والے اپنے دیگر شریکوں کے ذریعہ دشمنوں کے ساتھ  چھٹ پٹ جھڑپوں اور وقتی ومختصر کاروائیوں  کی حکمت عملی اپنائی ہے اور ایسے نیم فوجی دستوں کو تیار کیا ہے ایسی ملیشیا کو خدمات فراہم کی ہیں جو اسکی طرف سے جنگ لڑ سکیں اور اسکے اہداف کو پورا کر سکیں اور یہی وجہ ہے کہ چالیس سال کے عرصے میں کوئی بھی فوجی طاقت اب تک ایران کی حکومت کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکی ہے ۔

اس تحقیقاتی مرکز(IISS کے تحقیقی نتائج کے مطابق ایران مختلف ممالک میں الگ الگ قسم کی حکمت عملی کو استعمال کرتا ہے ،شام میں جنرل قاسم سلیمانی کی سپہ سالاری میں ایران کا بازو قدس کی فورسز ہیں  جنہوں نے امریکہ کے حمایت یافتہ کثیر القومی باغی دھڑوں سے مقابلہ کے لئے شام کی فوج کو مضبوط کیا اورجیت کو اپنے حریفوں کے منھ سے کھینچ لیا ایسا صرف شام میں نہیں ہوا بلکہ عراق میں بھی ایران کی جانب سے اسکے مفادات کا خیال رکھنے والے ایران کے حمایت یافتہ دھڑے موجود ہیں جو امریکہ کی فورسز کے سر کا درد بنے ہوئے ہیں جہاں تک بات لبنان کی ہے تو ایران لبنان میں حزب اللہ کا حامی ہے اور ایران نے حزب اللہ کو ۲۵ ہزار رزرو فوجی دستوں کے ہمراہ  ٹینک شکن میزائلوں سے لیس کر دیا ہے اور موجودہ صورت حال میں حزب اللہ لبنان کی پارلیمنٹ کی بڑی جماعتوں میں مانی جاتی ہے اور اسکا اثر اتنا ہے کہ صہیونی مفاد میں ہونے والے کسی بھِی فیصلہ اور اسکی جانب سے لاحق خطروں کے عملی ہونے کو لیکر حزب اللہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

اس برطانوی تحقیقاتی مرکز(IISS نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا  کہ ایران کا مقابلہ محض علاقائی جواب دہی کے ذریعہ ممکن نہیں ہے بلکہ ایران کی حکومت کی صلاحیتوں کو کلی طور پر سمجھنا ضروری ہے اور یہ ایسا مسئلہ ہے جو تہران کے علاقائی سوق الجیشی حکمت عملی کی بنیاد پر ٹکا ہے جس میں پراکسی وار کو اہمیت حاصل ہے اور اسلحے خریدنے سے زیادہ اسلحوں کی تیاری اور اور انکے بروقت استعمال کو اہم جانا جاتا ہے  ۔اس تحقیقاتی مرکز(IISS نے اس بات کا بھی انتباہ دیا ہے کہ یہ بہت سادہ اندیشی ہوگی کہ ہم ان جنگجووں کو ایران کی طرف سے پراکسی وار میں شامل ایران کی نیابت کرنے والے جنگجووں کے طور پر دیکھیں  اس لئے کہ ایران کو ان سے کسی سرمایہ کی واپسی کی توقع نہیں ہے بلکہ ایران نے ان کا خرچ برداشت کیا ہے اور انکی ضرورتوں کو پورا کیا ہے اور اسے اس بات کی فکر بھی نہیں ہے کہ اسے کچھ واپس کریں ۔

اسکے علاوہ اس مرکز(IISS نے اس بات کا دعوی بھی کیا ہے  کہ علاقے میں ایران کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ایران پائدار ہے اسکے باوجود کچھ مشکلات کا شکار بھی ہے اس لئے کہ ایران کی طاقت کا تکیہ ان گروہوں پر ہے جو یا تو بلا واسطہ طور پر حکومت میں نہیں رہنا چاہتے جیسے حزب اللہ یا پھر انکے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے اور اس قدر وسائل کا فقدان ہے کہ وہ حکومت کر سکیں جیسے ایران کے عراقی متحدین [۱۱]۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر حزب اللہ ، حشد الشعبی ، انصار اللہ ، حماس اور فلسطین کی مزاحمتی تحریک کو ایران کے افکار و نظریات کو پیش کرنے والے اہم بازووں کی صورت پیش کرتے ہوئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت ایران نے چوطرفہ طور پر اتنا رسوخ قائم کر لیا ہے کہ وہ چاہے اور جہاں چاہے حملہ کر کے اپنے حریفوں کی نیندیں اڑا سکتا ہے [۱۲]

حواشی :

[۱]  ۔International Institute for Strategic Studies (IISS)

[۲]  ۔https://www.iiss.org/

[۳]  ۔ https://www.iiss.org/publications/strategic-dossiers

[۴]  ۔ https://www.aljazeera.com/news/2019/11/report-reveals-extent-iran-growing-middle-east-influence-191107123143506.html

ran’s network of influence in Middle East ‘growing’ – Post …

https://postcourier.com.pg

https://www.newsweek.com/iran-military-advantage-u-s-middle-east-asymmetric-forces-report-iiss-1470363

https://www.bbc.com/urdu/world-50330747

https://www.bbc.com/news/world-middle-east-50324912

https://www.theguardian.com/world/2019/nov/07/iran-has-military-advantage-over-us-and-allies-in-middle-east

[۵]  ۔ https://www.bbc.com/urdu/world-50330747

[۶]  ۔iran’s network of influence in Mid-East ‘growing’ – BBC News

https://www.bbc.com/news/world-middle-east-50324912

[۷]   رک۔ https://www.theguardian.com/world/2019/nov/07/iran-has-military-advantage-over-us-and-allies-in-middle-east

The 16-month IISS study called Iran’s Networks of Influence claims these networks are more important to Iranian power than either its ballistic missile program, putative nuclear plans or its conventional military forces.

[۸]  رک  iran’s Networks of Influence in the Middle East is the latest Strategic Dossier from the IISS. This 18-month long study, based on field work, interviews and open source analysis examines how Iran projects its influence in the Middle East through a variety of complex relationships with regional partners.

https://www.iiss.org/

[۹]  ۔Iran’s Networks of Influence in the Middle East ، https://www.iiss.org

[۱۰]  ۔ https://www.bbc.com/urdu/world-50330747

https://www.bbc.com/news/world-middle-east-50324912

[۱۱]  ۔

https://www.theguardian.com/world/2019/nov/07/iran-has-military-advantage-over-us-and-allies-in-middle-east

https://www.farsnews.com/news/13980816000238/%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D

۸%B4%DA%A9%D8%AF%D9%87-%D8%A7%D9%86%DA%AF%D9%84%DB%8C%D8%B3%DB%8C-|-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%A8%D8%B1%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%85%D8%A4%D8%AB%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1-%D8%A2%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D8%A7-%D9%88-%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4-%D8%AF%D8%B1

[۱۲]  ۔ https://www.iiss.org/publications/strategic-dossiers

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد،۱۰۳