عدالت عظمی کا بابری مسجد کے سلسلہ سے تامل بر انگیز فیصلہ اور ملک کے مسلمان




مندر کے باقیات کا کسی جگہ ملنا اور مندر کو توڑ کر مسجد بنانا کیا یہ دونوں چیزیں ایک جیسی  ہیں؟ ان میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جس محکمہ آثار قدیمہ نے یہ ثبوت پیش کئے کہ جس جگہ مسجد بنی ہے وہاں  سے مندر کے باقیات ملے ہیں اسکے لئے یہ کہنا کونسی بڑی بات تھی کہ مسجد کی عمارت کو مندر توڑنے کے بعد بنایا گیا ہے



خیبر تحقیقاتی ٹیم

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات عندیہ دے رہے تھے عین اسی کے مطابق ہندوستان کی عدالت عظمی  نے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں شہید ہونے والی بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا مشکل ترین [۱] فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا ہے[۲]  اور ساتھ ہی مسلمانوں کے آنسووں کو پونچھنے کے لئے مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا بھی حکم دیا ہے[۳]۔ یاد رہے کہ  فیصلہ آنے سے قبل ایودھیا اور پورے ملک میں سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ ایودھیا میں متنازع مقام سمیت اہم عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ کئی مقامات پر انسداد دہشت گردی سکواڈ کے دستے تعینات کر دیے گئے تھے صاف واضح تھا  کیا ہونے  زندگی کے دستور بدل رہے تھے مسلم علاقوں میں گشت بڑھائی جا رہی تھی  جدھر بھی حکومت کی نظر پڑ رہی تھی ادھر سب کچھ الٹ پلٹ ہو رہا تھا  بقول شاعر؛

تمہارے شہر کا انصاف ہے عجب انصاف

ادھر نگاہ ادھر زندگی بدلتی ہے

بہر کیف جو فیصلہ آیا ہے اس کی ماہیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں اس سے پہلے کیا کچھ ہوا تھا اور یہ کیس اس قدر متنازعہ کیونکر ہوا اور مسلمانوں کا موقف بابری مسجد کو لیکر کیا تھا اور مسجد میں مورتیوں کے وجود کی داستان کیا ہے؟

مسلمانوں کا موقف اور گذشتہ کاروائیوں کے نشیب و فراز  

مسلمانوں کا کہنا تھا کہ وہ دسمبر ۱۹۴۹ تک اس مسجد میں نماز پڑھتے رہے ہیں، جس کے بعد کچھ لوگوں نے رات کی تاریکی میں رام کے بت مسجد میں رکھ دیے تھے۔  بتوں کو رکھے جانے  کے سلسلہ سے  یہ انکشاف  بھی خود  میں عجیب ہے کہ مسجد کے اندر سنہ ۱۹۴۹ میں ۲۲ اور ۲۳ دسمبر کی درمیانی شب ضلع مجسٹریٹ کی مدد سے رام کی بچپن کی مورتی رکھی گئی۔اوراس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے مسجد سے مورتی ہٹانے کا حکم دیا لیکن ضلع مجسٹریٹ نے اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا تھا[۴]۔اسی وقت سے عدالت نے مسجد سیل کر کے نگران تعینات کر دیا گیا تھا اور باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گيا اور عدالت کا مقرر کردہ پجاری وہاں پوجا کیا کرتا تھا۔چنانچہ مسلمانوں کے مطابق اس مقام پر بتوں کی پوجا اس واقعے کے بعد ہی شروع ہوئی ہے جبکہ اس سے قبل ایسا کچھ نہیں تھا اور یہاں پر صرف مسلمان ہی عبادت کیا کرتے تھے اس تنازعہ کے سامنے آنے کے بعد گزشتہ چار دہائیوں میں کئی مسلمان اور ہندو تنظیمیں اس زمین پر اختیار اور عبادت کے حق کے لیے عدالتوں کا رخ کرتی رہی ہیں۔ اس تنازعہ میں شدت ۱۹۹۲ میں اس وقت آئی تھی جب ہندو انتہا پسندوں نے مسجد کو تباہ کر دیا۔چنانچہ  چھ دسمبر ۱۹۹۲ کو ہندو انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد کے کارکنوں، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماؤں اور ان کی حامی تنظیموں کے کارکنوں نے مبینہ طور پر تقریاً ڈیڑھ لاکھ رضاکاروں کے ہمراہ اس مقام پر چڑھائی کر دی۔ یہ جلوس وقت کے ساتھ ساتھ پرتشدد ہوتا گیا اور وہ کئی گھنٹے تک ہتھوڑوں اور کدالوں کی مدد سےمسجد کی عمارت کو تباہ کرتے رہے یہاں تک کہ مسجد کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مذہبی ہنگاموں میں کم و بیش دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔حالات کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اس وقت کےہندوستان کے صدر جمہوریہ شنکر دیال شرما نے ریاست اتر پردیش کی اسمبلی کو برخواست کرتے ہوئے ریاست کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اور پھر ۱۹۹۳ میں ایک صدارتی حکم کے تحت بابری مسجد کے ارد گرد زمین کا ۶۷٫۷ ایکڑ رقبہ وفاقی حکومت نے اپنے اختیار میں لے لیا تھا[۵]۔

اس کے بعد بابری مسجد کے واقعے کی تفتیش کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا  تھا جس میں بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد کے کئی رہنماؤں سمیت ۶۸ افراد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا  تھا یہ اور بات ہے کہ بہت سے لوگوں کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر عدالت نے کوئی سزا نہیں سنائی اور  بابری مسجد کے انہدام کے الزام کا سامنا کرنے والے بہت سے رہنما آج بھی  حکمراں جماعت سے وابستہ ہیں جسکو عدالت عظمی نے ٹرسٹ بنانے کی ذمہ داری سونپی ہے اور یہ بھی اپنے آپ میں عجیب بات ہے کہ اسی حکمراں جماعت کو مندر بنانے کے لئے ٹرسٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کے رہنماوں کو بابری مسجد شہید کئے جانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے یہ وہ بات ہے جس پر مجلس اتحاد المسلین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی کھلے الفاظ میں مذمت کی ہے[۶] ۔لیکن جو ہونا تھا ہو چکا اب مسلمانوں کو دیکھنا ہوگا کہ انکا اگلا قدم کیا ہوتا ہے ؟ جہاں بعض مسلمان حلقوں نے حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے وہیں کچھ ایسے بھی افراد ہیں جنہوں نے فیصلہ پر اظہار تعجب کیا ہے  چنانچہ  ہندوستان کے بابائے قوم کے پوتے تشار گاندھی نے جہاں طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اگر آج مہاتما گاندھی کے قاتل گوڈسے کے بارے میں فیصلہ آتا تو انہیں قاتل ہونے کے باوجود انہیں  محب وطن قرار دیا جاتا” [۷] جبکہ دوسری طرف  اس کیس کی پیروی کر رہے  ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں لیکن اس سے مطمئن نہیں ہیں اور اس بارے میں رائے مشورے کے بعد عمل کیا جائے  گا[۸] مسلمان  اگلا قدم جو بھی اٹھائیں موجودہ فیصلہ  کے سلسلہ سے گردش کرنے والی خبر پر ایک تامل بر انگیزنظر ضروری ہے جو اپنے آپ میں بہت سے حقائق سے پردہ اٹھا رہی ہے  جو کچھ مختلف اخباروں اور نیوز ایجنسیوں کے ذریعہ بیان کیا جا رہا ہے اسکا مختصر خاکہ اور اسی کے ذیل میں اہم نکات یہ ہیں  :

ہندوستانی عدلیہ کے سربراہ و چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کی ایک آئینی بنچ نے مندر مسجد کے اس تنازعے کا متفقہ طور پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متنازعہ جگہ پر مندر تعمیر ہوگا البتہ مسلم فریق کو ایودھیا کے اندر کسی نمایاں مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے ایک متبادل پانچ ایکڑ زمین دی جائے گی ۔ عدالت نے مرکز اور اتر پردیش کی ریاستی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس متبادل زمین کا انتظام کریں ۔

فیصلہ کے اہم نکات

جسٹس گوگوئی نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئےجن اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا وہ یہ ہیں :

زمین کی ملکیت کا فیصلہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ ملیکت کا فیصلہ صرف قانونی بنیادوں پرکیا جاتا ہے۔’
محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق ایودھیا کی بابری مسجد ۱۵۲۸ میں کسی خالی زمین پر نہیں بنائی گئی تھی۔ آثار قدیمہ کے مطابق مسجد کے نیچے کسی مندر کے باقیات تھے اور محکمے نے اس کے ثبوت بھی پیش کیے تھے۔ لیکن آثار قدیمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر اس کے اوپر تعمیر کی گئی تھی۔

۳    .سنہ ۱۹۴۹ میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنا عبادت گاہ کی بے حرمتی کا عمل تھا اور سنہ ۱۹۹۲ میں اسے منہدم کیا جانا قانون کی خلاف ورزی تھی۔

۴ سنہ ۱۹۴۹ میں مسلمانوں کو مسجد سے بے دخل کیا جانے کا عمل قانون کے تحت نہیں تھا۔

.۵ سنّی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین نمایاں جگہ پر دی جائے۔

مذکورہ بالا نکات فیصلے کے وہ اہم نکات ہیں جن پر غور کیا جائے تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

الف:

زمین کی ملکیت کا فیصلہ اگر مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ قانونی بنیادوں پر کیا جاتا ہے توقانونی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والے مذہبی عقیدے کی آڑ میں اقتدار کے حصول کے لئے پورے ملک کو بد امنی کا شکار بنانے والوں کو قانون کا تحفظ کیوں حاصل ہے جن لوگوں نے مذہبی بنیادوں پر ملک میں نفرت کی فضا پھیلائی ہے اور عدالت عظمی کے سامنے ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں انکا جرم ثابت ہے انکو انکے جرم کی سزا کیوں نہیں ملی اور عدالت نے کن بنیادوں پر ان پر کوئی بھی تعزیراتی دفعہ اب تک عائد نہیں کیا ہے کیا پورے ہندوستان کی سرزمین کو ایک خاص آئین کے پیروکاروں کی ملکیت قرار دینے والے اور اپنی آئیڈیالوجی کو تسلیم نہ کرنے کی بنیاد پر سالہا سال سے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے ساتھ جینے والے لوگوں پر سرزمین ہند کے دروازوں کوبند کرنے والے مذہبی بنیادوں پر ملکیت کا فیصلہ نہیں کر رہے ہیں عدالت اس بارے میں کیا کر رہی ہے ۔

ب:

محکمہ اثار قدیمہ کے مطابق  اگرمسجد کسی خالی زمین پر نہیں بنائی گئی تھی اور مسجد کے نیچے کسی مندر کے باقیات تھے جسکے ثبوت بھی محکمہ کی طرف سے پیش کئے گئے لیکن ان ثبوتوں کے پیش کئے جانے کے باوجود بھی محکمہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا یا پھر اس نے اس بات کے ثبوت پیش نہیں کئے کہ مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر ہوئی تھی کیا یہ بات اپنے آپ میں قابل غور نہیں ہے ؟ کیا محض کسی جگہ کھدائی کی بنیاد پر اور اس مقام پر کچھ آثار ملنے کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ زمین پر ملکیت اس کی ہے جس سے متعلق آثار ملے ہیں کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ایک ایسی سرزمین کو خریدا گیا ہو جس پر پہلے کوئی عمارت پہلے منہدم ہو چکی ہو اور منہدم عمارت کی زمین پر دوسری عمارت بنائی گئی ہو ۔

ج:

اگر سنہ ۱۹۴۹ میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنا عبادت گاہ کی بے حرمتی کا عمل تھا تو بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف کیا کوئی جرم ثابت ہے اور یہ بے حرمتی مجرمانہ عمل ہے یا نہیں اس بے حرمتی کا ارتکاب کرنے والے آیا عدالت عظمی کی نظر میں مجرم ہیں یا نہیں؟ علاوہ از ایں  سنہ ۱۹۹۲ میں اسے منہدم کیا جانا اگر قانون کی خلاف ورزی کے زمرہ میں آتا ہے تو ۱۹۹۲ میں کارسیوکوں کی بھیڑ کو اکسانے والے اور مسجد کے انہدام کی کاروائِی میں آگے آگے رہنے والے لیڈران قانون کی خلاف ورزی کے جرم کے مرتکب ہوئے یا نہیں ان مجرموں کے بارے  میں عدالت عظمی کی رائے کیا ہے ۔

د:

سنہ ۱۹۴۹ میں مسلمانوں کو مسجد سے بے دخل کیا جانے کا عمل قانون کے تحت نہیں تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت عظمی نے انکی ملکیت کو ۱۹۴۹ میں تسلیم کیا ہے ورنہ کسی بھی جگہ پر ناجائز قبضہ کر کے وہاں عبادت کرنے والوں کو روکنا خلاف قانون کیوں کر ہو سکتا ہے کیا سارے ثبوت محض انہیں شہادتوں میں سمٹے ہوئے ہیں جنکو شہادت کے طور پر پیش کیا گیا اور حساس نفسیاتی و فطری مسائل کو یکسر مسترد کر دیا گیا کہ جس ملکیت کو عدالت نے پہلے تسلیم کیا ہے اب کس بنیاد پر اسے رد کیا جا رہا ہے  اس مقام  پراسرار زیدی کا یہ شعر  بے ساختہ  زباں پر آتا ہے :

انصاف کی بھیک کسے ملتی

قانون شہادتوں میں گم تھا

ھ:

سنّی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین کیوں دی جا رہی ہے جبکہ آثار قدیمہ کے ثبوتوں کی روشنی میں سنی وقت بورڈ کی جانب سے ملکیت کا دعوی  بظاہر خارج کر دیا گیا ہے اگر  فیصلہ محض اس بات پر آیا ہے کہ عدالت سنی وقف بورڈ کی ملکیت کے ثبوتوں کو غیرقابل انکار تسلیم کرتی ہے لیکن چونکہ مسجد کی جگہ کی کھدائی کئے جانے پر متنازعہ جگہ پر کسی مسجد یا اسلامی تہذیب و تمدن کی علامتیں دریافت نہ ہو کر مندر کے باقیات ملے تھے تو مندر کے باقیات کے مل جانے پر اس بات کا فیصلہ کرنا کہ یہاں پہلے مندر تھا کیا قانونی ثبوتوں کے تحت فیصلہ ہے یا پھر یہ فیصلہ مذہبی عقیدت کے تحت کیا گیا ہے جسکے بارے میں پہلے ہی عدالت عظمی نے صاف کر دیا کہ تھا کہ زمین کی ملکیت کا فیصلہ مذہبی عقیدے پر نہیں ہوتا  اگر یہ فیصلہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہے تو ان ناقابل انکار ثبوتوں کو کیوں فراموش کر دیا گیا جنہیں ہندوستان کے معروف تاریخ داں ڈی این جھا  نے سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد جمع کیا تھا اس بات کو واضح کر دیا تھا کہ بابری مسجد کے ڈھانچے کے نیچے کوئی مندر نہیں تھا [۹] اسکے علاوہ سپریم کورٹ کے سابق جج اشوک گانگولی کے اٹھائے گئے سوالات بھی اپنی جگہ اہم ہیں جن پر غور کی ضرورت ہے [۱۰] علاوہ از ایں

مندر کے باقیات کا کسی جگہ ملنا اور مندر کو توڑ کر مسجد بنانا کیا یہ دونوں چیزیں ایک جیسی  ہیں؟ ان میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جس محکمہ آثار قدیمہ نے یہ ثبوت پیش کئے کہ جس جگہ مسجد بنی ہے وہاں  سے مندر کے باقیات ملے ہیں اسکے لئے یہ کہنا کونسی بڑی بات تھی کہ مسجد کی عمارت کو مندر توڑنے کے بعد بنایا گیا ہے ۔ یہ مندرجہ بالا وہ نکات ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آثار قدیمہ کے جن ماہرین کی رائے کو عدالت نے معتبر مانا ہے ان کے تحقیقی نتائج کیا ہیں اور ان ثبوتوں کے بارے میں عدالت کیا کہتی ہے جن سے واضح ہوتا ہے کہ بابری مسجد کے نیچے کھدائی سے حاصل ہونے والی اشیاء کا تعلق ہندو مذہب سے نہیں تھا [۱۱] ان تمام حقائق کے پیش نظر مسلمانوں کو مل کر ایک حکمت عملی طے کرنا ہوگی اور متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا  اگر وہ خدا پر بھروسہ کریں اور دوسروں کی دریوزہ گری کے بجائے اپنی ایمانی طاقت کے سہارے آگے بڑھیں تو یقینا جس افتاد کا شکار ہیں اس سے نکل سکتے ہیں اس لئے کہ ایک بابری مسجد کی شہادت یا اسکے بارے میں غلط فیصلہ اتنا بڑا نقصان  پہنچانے کا سبب نہیں ہے جتنا انکے ایمان کی شہادت اور اپنے مستقبل کو لیکر انکا اجتماعی طور پر غلط فیصلہ کرنا ۔

حواشی:

[۱] ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-42233448

[۲]  ۔ https://www.bbc.com/hindi/live/india-50357233

[۳]  ۔ https://timesofindia.indiatimes.com/india/ayodhya-verdict-live-updates-supreme-court-verdict-on-ram-mandir-babri-masjid-dispute/liveblog/71978224.cms

Ayodhya verdict LIVE UPDATES: Supreme Court gives disputed land to new trust, mosque on alternate land

[۴]  ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-42213193

[۵]  ۔https://www.bbc.com/urdu/regional-42213193

[۶] ۔https://www.thehindu.com/news/national/ayodhya-verdict-a-victory-of-faith-over-facts-owaisi/article29930772.ece

۔https://www.indiatoday.in/india/story/ayodhya-verdict-ram-mandir-babri-masjid-asaduddin-owaisi-1617366-2019-11-09

[۷]  ۔ अयोध्या पर आए फैसले पर बोले महात्मा गांधी के प्रपौत्र – अगर गांधी की हत्या मामले में आज फैसला आता तो गोड्से हत्यारे लेकिन… – NDTV https://khabar.ndtv.com/news/india/tushar-gandhi-on-supreme-court-ayodhya-case-verdict-says-if-gandhi-murder-case-retired-today-godse-w-2129894

[۸]  ۔ इस फैसले के खिलाफ रिव्यू दाखिल करेंगे – जफरयाब जिलानी:

https://www.ndtv.com/video/news/news/zafaryab-zillani-to-ndtv-wer-will-file-a-petitio

[۹]  ۔ https://www.bbc.com/hindi/india-50359630

مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو یہ گفتگو

https://frontline.thehindu.com/static/html/fl2625/stories/20091218262501700.htm

[۱۰]  ۔https://m.hindustantimes.com/india-news/ayodhya-verdict-ex-sc-judge-asok-ganguly-raises-questions-about-evidence-that-land-belonged-to-ram-lalla/story-iSby9uYpRIc1wz4viojvvK.html

[۱۱]  ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو

https://www.bbc.com/urdu/regional-50360163

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۲