کیا فکر اور سوچ کا گلا گھونٹ کر کوئی ملک ترقی کر سکتا ہے؟




ایک خاص فکر و سوچ کی ترویج کو لیکر زعفرانی خیمہ کسی بھی طرح کی نرمی برتنے کے لئے تیار نہیں ہے چنانچہ تمام تر ان علمی مراکز پر یلغار ہے جو مستقل سوچ کے حامل ہیں کہیں بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے تو کہیں وائس چانسلر کو ہٹا کر من مانے طریقے سے کسی فکری طور پر اپنے ہی متحد چانسلر کا تقرر کیا گیا ہے کہیں قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے اور کہیں سیٹوں کی تعداد کو گھٹا دیا گیا ہے کہیں ملٹی نیشنل بڑی کمپنیوں کے عمل دخل کو بڑھایا گیا ہے تو کہیں غنڈہ گردی کے ذریعہ اپنے علاوہ دوسری سوچ کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے جھوٹے الزامات حتی غدار وطن جیسے الزامات کے ذریعہ منصف مزاج افراد کو کنارے کیا جا رہا ہے



بقلم ایس وویک سندر کمار

خیبر تجزیاتی ویب گاہ: ایک خاص فکر و سوچ کی ترویج کو لیکر زعفرانی خیمہ کسی بھی طرح کی نرمی برتنے کے لئے تیار نہیں ہے چنانچہ تمام تر ان علمی مراکز پر یلغار ہے جو مستقل سوچ کے حامل ہیں کہیں بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے تو کہیں وائس چانسلر کو ہٹا کر من مانے طریقے سے کسی  فکری طور پر اپنے ہی متحد چانسلر کا تقرر کیا گیا ہے کہیں قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے اور کہیں سیٹوں کی تعداد کو گھٹا دیا گیا ہے کہیں ملٹی نیشنل بڑی کمپنیوں کے عمل دخل کو بڑھایا گیا ہے تو ہیں غنڈہ گردی کے ذریعہ اپنے علاوہ دوسری سوچ کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے جھوٹے الزامات حتی غدار وطن جیسے الزامات کے ذریعہ  منصف مزاج افراد کو کنارے کیا جا رہا ہے

ہر ملک کی ترقی اسکے فکری سرمایہ پر منحصر ہے ،جتنا فکری سرمایہ عظیم ہوگا اتنا ہی ملک کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی ، جہاں حریت فکر قوم و ملک کی پیشرفت کا اہم رکن ہے وہیں اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ  فکریں جتنی مختلف ہوں گی اتنا ہی فکری پختگی پیدا ہوگی  جس کی لاٹھی اسکی بھینس کسی  جنگل کا قانون  توہو سکتا ہے کسی صحت مند معاشرے میں یہ قانون نافذ نہیں ہوسکتا  لیکن افسوس کہ  ہندوستان اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جس راستے پر چل پڑا ہے اسکو دیکھتے ہوئے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اسکا مستقبل کیا ہوگا ؟  وہ ملک جہاں برسوں سے مختلف فکریں پروان چڑھتی رہیں  آج وہاں ایک خاص فکر کی حکمرانی کا بھوت لئے کچھ بہروپیے  ملک کی صلاحیتوں کو غارت کر رہے ہیں اور ذرا سے اختلاف کی صورت فکروں پر قدغن لگایا جا رہا ہے سوچ پر پابندی ہے جسکے نتیجہ میں ایک بہت سے مفکرین و دانشوروں نے اپنی خدمات دینے سے انکار کر دیا ہے چنانچہ کچھ دن پہلے ہی کی خبر ہے کہ ہندوستان  کے سرکردہ مورخ اور دانشور رام چندر گوہا نے ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم کی مخالفت کے بعد گجرات کی احمدآباد یونیورسٹی میں نہ پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے[۱]۔

یاد رہے گزشتہ ماہ  اکتوبر میں یونیورسٹی نے انھیں آرٹس اینڈ سائنس کے اسکول میں پروفیسر مقرر کیا تھا۔ پروفیسر گوہا کی تقرری کے اعلان کے ساتھ ہی آر ایس ایس کی اسٹوڈنٹ شاخ اکھل بھاریتہ ودھیارتھی پریشد یعنی اے بی وی پی نے ان کی تقرری کی مخالفت شروع کر دی۔

وائس چانسلر کو دی گئی ایک عرضداشت میں اے بی وی پی نے کہا ہے کہ پروفیسر گوہا ٹیچر یا اکیڈمک نہیں بلکہ ایک کمیونسٹ ہیں اور اگر انھیں احمد آباد یونیورسٹی میں پڑھانے کی اجازت دی گئی تو جے این یو کی طرح یہاں بھی ‘ملک دشمن ‘ جذبات کو ہوا ملے گی۔

اے بی وی پی نے ان کی کتابوں سے بعض اقتباسات بھی پیش کیے ہیں جنھیں تنظیم نے ملک دشمن بتایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پروفیسر گوہا کی تحریروں میں ہندو ثقافت کی توہین کی گئی ہے۔

اے بی وی پی کی تحریک کے بعد احمد آباد یونیورسٹی زبردست دباؤ میں تھی۔ اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ کیمپس میں پروفیسر گوہا محفوظ نہیں ہونگے۔ ان حالات کے پیش نظر گوہا نے وہاں پڑھانے سے معذرت کر لی ہے۔

یہ کہانی کسی ایک خطے یا علاقے سے متعلق نہیں ہے بلکہ اسی سے ملتا جلتا  واقعہ دہلی میں بھی رونما ہوا ہے اور دہلی  یونیورسٹی کی ایک سٹینڈنگ کمیٹی نے ملک کے معروف مفکر اور دلت ادیب کنچن الییاہ کی تین کتابوں کو یونیوسٹی کے پوسٹ گریجویٹ کورسز سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ ‘وھائی آئی ایم ناٹ اے ہندو’، ‘بدھاز چیلنج ٹو برہمنزم’ اور ‘اے پوسٹ ہندو انڈیا’  نامی یہ تین کتابیں یونیورسٹی کے ماسٹڑز کورسز کے نصاب میں شامل تھیں۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان کتابوں میں ہندو ازم کی توہین کی گئی ہے۔

یونیورسٹی علم حاصل کرنے اور جستجو کا مرکز ہوتی ہے۔ جہاں تحقیق و تجزیے میں کسی ایک تصور، نظریے یا سوچ کو سامنے نہیں رکھا جاتا۔ یونیورسٹی تعلیم کا ایک ایسا مرکز ہے جو سبھی تصورات کے لیے کھلا ہوتا ہے اور جہاں بحث و مباحثے اور تنقید کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یونیورسٹیز جمہوری نظام کا بھی ایک اہم ادارہ ہیں جہاں علم و دانش کے ذریعے آرٹس، سائنس اور دوسرے شعبوں میں نئے تصورات ابھرتے ہیں اور نئے خیالات جنم لیتے ہیں۔لیکن ہندوستان میں  بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد ملک کی یونیورسٹیز کی خودمختاری کو کافی حد تک کمزور کیا گیا ہے۔  یہاں تک کے ملک کی سب سے سرکردہ یونیورسٹی جے این یو کو ‘ملک دشمن’ قرار دیا گیا۔اس مذہبی منافرت پر مبنی سیاست اور تعصب کے نتیجہ میں ملک کے اسکول ، کالج اور علمی مراکز  میں ایک دباو کی سی کیفیت ہے اور کسی کو نہیں پتہ کہ اسکی آزاد سوچ اور اسکی اپنی فکر کو بیان کرنے کا خمیازہ کیا کچھ بھگتنا پڑ سکتا ہے جبکہ مسلسل دباؤ کے نتیجے میں یونیورسٹیز میں بحث و مباحثے اور سیمنار وغیرہ کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یونیورسٹیز اب ایسے موضوعات پر بحث و مباحثے اور سیمنار کرانے سے ڈرتی ہیں جن سے حکومت یا آر ایس ایس کے ناراض ہونے کا خدشہ ہو۔

آرایس ایس اور حکومت کی منشا کے مطابق لوگوں کو ایک خاص فکر کے اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور اسی بنیاد پر زعفرانی فکر کے حامل افراد پر علمی مراکز کے دروازے کھول دئے گئے ہیں جب کہ مخالف فکر رکھنے والوں کو باہر کا راستہ دکھایا جا رہا ہے جہاں دھڑلے کے ساتھ خاص فکر کے حامل افراد کو مختلف علمی مراکز میں گھسایاجا رہا ہے وہیں کھلے عام جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاحبان صلاحیت کی مختلف مراکز میں تقرری کو لیکر ہنگامہ کیا جا رہا ہے چنانچہ یہ خبر بھی مختلف  ملکی و بیرونی نیوز ایجنسیز  کی سائٹس پر موجود ہے کہ  ہندوستان  کی بنارس ہندو یونیورسٹی کے ہندو طلبہ شعبۂ سنسکرت میں ایک مسلمان پروفیسر فیروز خان کی تقرری کے خلاف گذشتہ ایک ہفتے سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ان طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان ہندوؤں کو ہندو مذہب کی تعلیم نہیں دے سکتا ہے۔ اورپروفیسر فیروز کی تقرری منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جبکہ  وائس چانسلر نے پروفیسر فیروز کی تقرری کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پروفیسر فیروز تمام امیدواروں میں سب سے قابل پروفیسر ہیں اور مذہب کے نام پر ان کے ساتھ تفریق نہیں برتی جا سکتی ہے۔ جبکہ ہندتوا نظریہ کے حامل افراد کا کہنا ایک مسلمان ہندووں کی مذہبی زبان کی تعلیم نہیں دے سکتا چنانچہ ایک  ریسرچ اسکالر شبھم تیواری کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان ہندوؤں کو دھرم اور سنسکرت کی تعلیم نہیں دے سکتا ہے انکا مطمع نظر یہ ہے کہ کسی کی تقرری ہوتی ہے تو وہ ۶۵ برس تک یہاں پڑھائے گا۔ ۶۵ برس میں نہ جانے کتنے طلبہ یہاں سے فارغ ہوں گے۔ نہ جانے کتنے بچوں کا مستقبل اس سے تباہ ہو گا۔ ہم اس تقرری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جب تک انھیں ہٹایا نہیں جاتا تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔‘

عجیب بات یہ ہے کہ طلبہ ان کی تقرری منسوخ کرانے کے لیے ”یگیہ” یعنی خصوصی پوجا کر رہے ہیں اور کالج میں نصب ایک کتبے میں ہندو یونیورسٹی کے بانی کے ایک قول کا حوالہ بھی دے رہے ہیں جس میں بقول انکے  لکھا ہوا ہے کہ سنسکرت کالج میں غیر ہندو مذہب کے کسی شخص کو یہاں پڑھنے اور تعلیم دینے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ایک طالب علم پنیت مشرا نے کہا ‘ کالج میں نصب کتبے میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ صرف ہندو یعنی سناتن، آریہ سماجی، جین اور بودھ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اس میں لکھا ہوا کہ غیر ہندوؤں کا یہاں داخلہ بھی ممنوع ہے۔ تو پھر مسلم پروفیسر کیسے یہاں آ سکتے ہیں؟‘ کتبے کے سلسلہ سے پروفیسر کے تقرر کے مخالف افراد جو دلیل پیش کر رہے ہیں اسکو لیکر ابھی تک انتظامیہ نے کوئی رد عمل ظاہرنہیں کیا اوراس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ کتبے والی بات میں کتنا دم ہے اور کیا واقعی ایسی کوئی بات ہے کہ ہندو یونیورسٹی کے بانی نے  ایسی کوئی قید لگائی ہو جس کے تحت کسی خاص مذہب سے متعلق فرد کی جانب سے تعلیم پر پابندی ہو البتہ اتنا ضرور ہے یونیورسٹی انتظامیہ اپنے فیصلہ پر اٹل ہے اور اسکا کہنا ہے پروفیسر فیروز سبھی امیدواروں میں سب سے بہتر تھے۔ یونیورسٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضابطے کے مطابق مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہیں برتی جا سکتی چنانچہ یونیورسٹی کے پراکٹر ڈاکٹر رام نارائین دیویدی نے بتایا کہ پروفیسر فیروز خان کی تقرری ‘پوری طرح مسلمہ ضابطوں کے تحت کی گئی ہے۔ طلبہ یہاں ہنگامہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھ نہیں رہے ہیں کہ ان کا انتخاب ضابطے کے تحت ہوا ہے۔ طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پروفیسر خان اس سے قبل جے پور کے ایک سنسکرت ادارے میں پڑھاتے تھے۔ وہ سنسکرت کے ایک بہترین اسکالر ہیں۔ انھیں کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔ “پروفیسر خان یونیورسٹی میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے لیے بنارس پہنچ چکے ہیں تاہم انھوں نے ابھی تک سنسکرت کالج جوائن نہیں کیا ہے۔جبکہ یونیورسٹی کے  طلبہ کا کہنا ہے جب تک پروفیسر فیروز کی تقرری کو منسوخ نہیں جاتا ان کا احتجاج جای رہے گا”[۲]۔

ایک خاص فکر و سوچ کی ترویج کو لیکر زعفرانی خیمہ کسی بھی طرح کی نرمی برتنے کے لئے تیار نہیں ہے چنانچہ تمام تر ان علمی مراکز پر یلغار ہے جو مستقل سوچ کے حامل ہیں کہیں بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے تو کہیں وائس چانسلر کو ہٹا کر من مانے طریقے سے کسی  فکری طور پر اپنے ہی متحد چانسلر کا تقرر کیا گیا ہے کہیں قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے اور کہیں سیٹوں کی تعداد کو گھٹا دیا گیا ہے کہیں ملٹی نیشنل بڑی کمپنیوں کے عمل دخل کو بڑھایا گیا ہے تو کہیں غنڈہ گردی کے ذریعہ اپنے علاوہ دوسری سوچ کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے جھوٹے الزامات حتی غدار وطن[۳] جیسے الزامات کے ذریعہ  منصف مزاج افراد کو کنارے کیا جا رہا ہے  چنانچہ دہلی کی معروف یونیورسٹی جے ان یو کے تمام محافظین و چوکیداروں تک کو بہ یک وقت نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے اور انکی جگہ سینکڑوں کی تعداد میں ریٹائرڈ فوجیوں کو بھرتی کیا گیا ہے [۴]  عجیب بات یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار کسی یونیورسٹی میں پیراملٹری فورسز کو تعینات کیا جا رہا ہے اور یہ کام خود وائس چانسلر کی درخواست پر ہو رہا ہے جو اپنے آپ میں قابل تامل ہے [۵]

ان حالات کے پیش نظر کہنا مشکل ہے کہ جب ہر فکر کو بری طرح دبا دیا جائے گا تو ملک کا کیا ہوگا یہی وجہ ہے کہ بی بی سی کی اردو سروس نے ایک تفصیلی رپورٹ  اس سلسلہ سے پیش کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ “دائیں بازو کی سیاست کے اس دور میں سب سے گہری چوٹ علم و جستجو کے اداروں اور اظہار کی آزادی پر ماری گئی ہے۔ ایک عرصے سے دانشور، پروفیسرز، ادیب اور اعتدال پسندی میں یقین رکھنے والے طلبہ یونیورسٹیز کی خود مختاری اور اکیڈ مکس کو حکومتی مداخلت سے آزاد رکھنے کے لیے پوری شدت سے ہر طرح کے دباؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

لیکن ریاست کی طاقت رفتہ رفتہ ملک کے تعلیمی اداروں کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ ایک کھلے معاشرے اور جمہوری نظام کے لیے یہ یقیناً ایک برا اور مایوس کن وقت ہے”[۶]۔

یقینا ہندوستان اپنے ایک برے دور سے گزر رہا ہے جہاں ایک خاص فکر کے علاوہ ہر ایک فکر کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ہر انسان کو اپنی مستقل فکر رکھنے کی قیمت  وطن کی غداری کے تمغے یا پھر دہشت گردی کے لیبل سے دینا پڑ رہی ہے ایسے میں شک نہیں کہ ہندوستان جیسے کثیر المذہبی و کثیر اللسانی ملک کے اندر نہ جانے کتنی صلاحتیں گھٹ کر دم توڑ دیں گی نہ جانے کتنے علمی مراکز صاحبان صلاحیت سے صرف اس لئے خالی ہو جائیں گے کہ انہوں نے ایک خاص طرز فکر اختیار کرنے سے انکار کر دیا تھا  ایسے میں محبان وطن کے لئے ضروری ہے کہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور سوچیں کہ انکا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ اس لئے کہ ملک جس سمت میں چل پڑا ہے اس سمت کا آخری سرا تباہی و بربادی  پر منتہی ہوتا ہے اس لئے کہ سوچ پر کوئی بھی پابندی نہیں لگا سکتا سوچ و فکر پر لاکھ باندھ بھی باندھ دئے جائیں تو وہ ابل کر سامنے آئے گی لیکن سوچ پر پابندی جتنی دیر اور جتنی مدت کے لئے ہوگی اس سے ملک و قوم ہی کا نقصان ہوگا  اور اس نقصان کا خمیازہ کسی خاص فکر کو نہیں ہر ایک کو بھگتنا ہوگا ۔

حواشی:

[۱]  ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-4608178

[۲]  ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-50435931

[۳]   ۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو https:thewire.in/polotics/gauri.lankesh.publisher-arrested

[۴]  ۔http://theprint.in/india/jitters-270-former-army-man-are-brought-quards-on-campus/301667/

[۵]  تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو .https:thewire.in/education/visva-bharti-university-cisf

[۶]  تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-4608178، https://www.bbc.com/urdu/regional-50435931

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۲