ہندوستانی وزیر اعظم پر تنقید کا جرم اور شہریت کی منسوخی




اس سے قبل ماب لنچنگ پر وزیر اعظم کو محض خط لکھنے والے ۴۹ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا جن میں معروف تاریخ داں رام چندر گواہا، فلم ساز منی رتنم،اپرنا سین شیام بینگل جیسے سرکردہ افراد شامل تھے ان افراد کے خلاف مقدمہ کوئi بڑی بات نہیں ہے اب تو حال یہ ہے کہ اگر ہندوستانی  وزیر اعظم کی مشاورتی کونسل میں بھی کوئی ملکی حالات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے تو اسے بھی باہر کا راستہ دکھایا جاتا ہے چنانچہ حال ہی میں ان ماہرین اقتصادیات کو کونسل سے نکال دیا گیا جنہوں نے موجودہ اقتصادی حالات پر اپنی تشویش و خدشات کا اظہار کیا تھا.



ایس وویک سندر کمار

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بابری مسجد کیس کے سلسلہ سے عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کی گرما گرم بحث میں کئی ایک قابل غور خبریں آئی گئی ہو گئیں اور ابھی ان خبروں کے بارے میں صحیح ڈھنگ سے تجزیہ کاروں اور مبصرین نے مختلف جوانب سے غور بھی نہیں کیا تھا کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ آ گیا نتیجہ میں سارے تجزیوں کا رخ بابری مسجد کے اس فیصلہ کی طرف ہو گیا ، جبکہ اس سے تھوڑا ہی پہلے کئی ایسے واقعات ہوئے تھے جن پر مناسب انداز میں روشنی نہیں ڈالی جا سکی تھی انہیں واقعات میں ایک ہندوستانی وزیر اعظم پر تنقید کی وجہ سے معروف صحافی آتش تاثیر کی شہریت کا منسوخ کیا جانا ہے  یاد رہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی پر کھلے الفاظ میں تنقید کرنے کے سبب ہندوستان کی وزارت داخلہ نے معروف صحافی  آتش تاثیر کی شہریت منسوخ کر دی تھی جس کے جواب میں ہندوستانی نژاد برطانوی مصنف اور کالم نگار آتش تاثیر نے انڈیا کی جانب سے ان کی شہریت منسوخ کرنے کے اقدام کو ’ایک مذموم منصوبے‘ کا حصہ قرار دیا تھا ۔

ہندوستانی وزارتِ داخلہ نے آتش تاثیر کی بطور ’بیرون ملک مقیم ہندوستانی‘ شہریت منسوخ کر دینے کے بعد یہ دلیل پیش کی تھی کہ آتش نے یہ معلومات چھپانے کی کوشش کی کہ ان کے والد پاکستانی تھے۔‘واضح رہے کہ آتش تاثیر کے والد سلمان تاثیر پاکستان کے صوبے پنجاب کے گورنر بھی رہے یہ بات اپنے آپ میں بڑی عجیب ہے کہ شہریت کی منسوخی اس وقت عمل میں آئی جب انہوں نے ہندوستانی وزیر اعظم کے خلاف زبان کھولنے کی ہمت کی چنانچہ خبروں کے مطابق چند ماہ قبل آتش تاثیر نے مشہور جریدے ٹائم میگزین کے لیے لکھے ایک مضمون میں ہندوستانی  وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی تھی اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ان کی شہریت کی منسوخی کے پیچھے ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے[۱]۔

آتش تاثیر کے پاس سنہ ۲۰۰۰ سے ’پرسن آف انڈین اورجن‘ کے دستاویزات ہیں جو بعد میں ’اووسیز سٹیزنشپ آف انڈیا‘ میں ضم ہو گئی تھی۔ اور وہ دو سے دس سال کی عمر تک اور پھر ۲۶ سے ۳۵ برس کی عمر میں انڈیا میں مقیم رہے تھے ۔آتش تاثیر کے مطابق ان کے پاس انڈیا کا بائیو میٹرک شناختی نمبر اور بینک اکاؤنٹ موجود  ہیں اور وہ وہاں ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔

اور بقول انکے  ’میرے والد کا نام شہریت کی دستاویزات پر موجود ہے یہ بات توجہ کے لائق ہے کہ آتش تاثیر کی والدہ، تولین سنگھ بھی ایک ہندوستانی کالم نگار ہیں، شہریت کی منسوخی کے بعد آتش تاثیر کا کہنا تھا کہ “’اگر میری معلومات میں کوئی ابہام تھا تو (ہندوستانی حکام) مجھے ملک آ کر اسے دور کرنے کے لئے کہہ سکتے تھے  دوسری جانب ہندوستان  کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آتش تاثیر ان کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کا جواب دینے میں ناکام رہے۔[۲]قابل ذکر ہے کہ معروف امریکی جریدے ٹائم ميگزین نے اپنے مئی کے شمارے کے سرورق پر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو جگہ دی تھی  اور ان کی تصویر کے ساتھ ‘انڈیاز ڈیوائیڈر اِن چیف’ یعنی ہندوستان  کو منقسم کرنے والا سربراہ‘ لکھا تھا ۔

ٹائم میگزین نے اپنے سرورق کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا: ‘ٹائمز کا نیا بین الاقوامی سرورق: کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مودی حکومت کو آئندہ مزید پانچ برسوں تک برداشت کر سکتی ہے؟’

علاوہ از ایں ٹائم میگزن نے اپنی  ویب سائٹ پر شائع مضمون  میں ہندوستانی  وزیر اعظم نریندر مودی کے ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ سے ملک کے وزیراعظم بننے تک کے سفر کا ذکر کیا ہے اور سنہ ۲۰۱۴ کے پارلیمانی انتخابات میں ان کی فتح کو ۳۰ برسوں میں سب سے بڑی کامیابی کے طور پر بیان کیا تھا اس سب کے باوجود جس طرح مودی کو ‘انڈیاز ڈیوائیڈر اِن چیف’  کہنے  والےاس چھوٹے سے ٹائٹل نے ہنگامہ بپا کر دیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ  اس میگزین کا ہندی ورژن بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں ‘انڈیاز ڈیوائیڈر اِن چیف’ کی جگہ ‘ٹکڑے ٹکڑے گینگ کا سرغنہ’ لکھا ہےاس کے علاوہ لوگ سوشل میڈیا پر پرانے ٹائم میگزین کی کاپیاں بھی ڈال رہے ہیں اور اس سے تازہ ترین شمارے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔اس سے قبل مئی سنہ ۲۰۱۵ میں بھی ٹائم میگزین نے مودی پر کور سٹوری کی تھی اور اس کا عنوان تھا ‘وائی مودی میٹرز’ یعنی ’مودی اہم کیوں ہیں‘۔

فی الحال سوشل میڈیا پر تازہ ترین سرورق پر زور دار بحث جاری ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ميگزین نے درست لکھا ہے تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مودی کی مقبولیت کا نتیجہ ہے۔

اس میگزین میں دراصل مودی سے متعلق دو مضمون ہیں، ایک برطانوی شہری مصنف اور صحافی آتش تاثیر نے لکھا ہے  جبکہ دوسرا  امریکی ماہر سیاسیات ایان آرتھر بریمر نے[۳] یاد رہے کہ ٹائم میگزین نے سنہ ۲۰۱۶ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو قارئین کے رائے شماری کے مطابق پرسن آف دی ایئر قرار دیا تھا۔ وہ ۱۸ فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر تھے جبکہ امریکی صدر براک اوباما دوسرے نمبر پر آئے تھے اس پورے معاملہ کے بعد ٹوئیٹر و فیس بک پر کمنٹس کا سیلاب آیا ہوا ہے  کوئی وزیر اعظم کی حمایت میں بول رہا ہے تو کوئی آتش تاثیر کی حمایت میں کھڑا نظر آتا ہے اس دوران ستیندر نامی ایک شخص سے بڑا ہی معنی خیز ٹویٹ کیا ہے وہ لکھتے ہیں ‘نفرت کا بیج سماج میں بہت گہرا بویا جا چکا ہے جس کی فصل آج سڑکوں پر پھیلی ہے” یہ معنی خیز جملہ اپنے آپ میں ہم سے بہت کچھ کہہ رہا ہے کہ اب دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نفرت کا بیچ کس نے بویا ہے اور وہ کونسی فصل ہے جو سڑکوں پر پھیلی ہوئی ہے ؟ ۔

سڑکوں پر فصل کوئی  وہ دہشت گرادانہ کاروائیاں ہوں یا  مذہبی غنڈہ گردی، اس میں دو رائے نہیں ہے کہ  ہندوستان اب ایسے راستہ پر چل پڑا ہے کہ اگر کسی کے پاس ذرہ برابر بھی کسی قانونی دستاویزات کی کمی ہے اور اس نے سارے کاغذات سنبھال کر نہیں رکھے ہیں تو بہت ہی سوچ سمجھ کر بولے یا بولنا ہی بند کر کے زبان سی لے ورنہ اس پر کوئی بھی افتاد پڑ سکتی ہے  خاص کر ایسے وقت میں جب ہندتوا ایجنڈے کے خلاف کوئی لبوں کو حرکت دے یا ہندو نظریاتی تنظیم آرایس ایس کے خلاف بولنے کی ہمت کرے یا حکومت پر راست تنقید کرے ان تمام ہی موارد میں تنقید کرنے والے کو بڑا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ بعض  صحافیوں کو بھگتنا پڑا [۴] یہاں پر مزے کی بات یہ ہے کہ یوں تو اولا ہر اس آواز ہی کو دبا دیا جاتا ہے جو حکومت یا اسکے اتحادیوں کے بارے میں اٹھتی ہے اور اگر کوئی بولنے کی جرات کر بھی لے تو میڈیا اسے نظر انداز کر دیتا ہے جیسا کہ آر ایس ایس کے اوپر کھل کر تنقید کرنے والےسکھوں کے اعلی مذہبی سربراہ اور اکالی تخت تنظیم کے رہنما نے بہت ہی واضح الفاظ میں آرایس ایس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا  [۵]لیکن میڈیا نے اس خبر کو ایسے ہضم کر لیا جیسے کسی بڑے مذہبی رہنما کی جانب سے کچھ کہا ہی نہ گیا ہو اس لحاظ سے بھی یہ بات اہم ہے کہ موجودہ دور میں جب ہندوستان ایک سنگین دور سے گزر رہا ہے اس قدر کھل کر آریس ایس کی مخالفت کرنا اور اس پر پابندی کا مطالبہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہےاسکے باوجود میڈیا میں اس خبر کو بالکل غائب کر دیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں کس طرح منصوبہ بند طریقے سے کام ہو رہا ہے  اس سے قبل ماب لنچنگ پر  وزیر اعظم کو محض خط لکھنے والے ۴۹ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا جن میں معروف تاریخ داں رام چندر گواہا، فلم ساز منی رتنم،اپرنا سین شیام بینگل جیسے سرکردہ افراد شامل تھے [۶]ان افراد کے خلاف مقدمہ کوئ بڑی بات نہیں ہے اب تو حال یہ ہے کہ اگر ہندوستانی  وزیر اعظم کی مشاورتی کونسل میں بھی کوئی ملکی حالات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے تو اسے بھی باہر کا راستہ دکھایا جاتا ہے چنانچہ حال ہی میں ان ماہرین اقتصادیات کو کونسل سے نکال دیا گیا جنہوں نے موجودہ اقتصادی حالات پر اپنی  تشویش کا اظہار کیا تھا [۷]  ان حالات میں اگر کوئی ہندوستانی وزیر اعظم کو”  ہندوستان  کو منقسم کرنے والا سربراہ” کہے گا تو اسکی شہریت کی منسوخی نہ تو معمولی بات ہے   آتش تاثیر کو اب آگے چل کر کسی آتش فشاں کے پھٹنے کے بارے میں سوچنا ہوگا کہ شہریت کی منسوخی توآج کے ہندوستان میں  کوئی بڑی سزا نہیں ہے ۔

حواشی:

[۱]  ۔ नरेंद्र मोदी पर लेख लिखने वाले आतिश अली तासीर का OCI कार्ड रद्द होने पर विवाद – BBC News हिंदी

https://www.bbc.com/hindi/india-50340387

[۲]  ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-50342456

[۳]  tps://www.bbc.com/urdu/regional-48237383

[۴]  ۔۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو https:thewire.in/polotics/gauri.lankesh.publisher-arrested

[۵] ۔ https://www.thquint.com/news/politics/akal-takht-jathedar-giani-harpeet-sing-rssban-mohan-bhagwath-hindi rashtra

[۶]  http://m.thewirehindi.com/article/case-filed-against-those-who-wrote-open -letter-to-pm-modion-mob-lynching/96908

[۷]  ۔ https:scroll.in/latest/938551/economic-advisory-council-reconstituted-members-who-raised-concerns-about-economy-drppped

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۲