بن زائد، بن سلمان کی ایران کو لیکر پالیسی تبدیل کرانے کی کوشش میں




ایسا لگ رہا ہے کہ بن زائد نے یہ قصد کر رکھا ہے کہ بن سلمان کو ایران کے ساتھ صلح پر راضی کر لیا جائے  اور متحدہ امارات و سعودی عرب کے مابین تعلقات کے درمیان اقتصادی مسائل کو اولویت دی جائے اسی بنا پر بن زائد کا اس بات پر زور ہے کہ علاقے میں تناو اور کشمکش کا ہونا بن سلمان کے علاقے میں اقتصادی منصوبوں کے ذریعہ لائے جانے والے تبدیلیوں کے لئے مضر ہے  اور بن سلمان کے اقتصادی پروگراموں کے ذریعہ لائی جانے والی تبدیلی کو اس تناو سے نقصان پہنچ سکتا ہے.



ترجمہ خیبر ٹیم

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، بیروت سے شائع ہونے والے روزنامہ الاخبار لکھتا ہے: یوں تو اب تک بن زائد و بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا سلسلہ کچھ کم نہیں ہے لیکن سعودی عرب کے ولی عہد کا متحدہ امارات کی سرزمین پر یہ تازہ سفر اور ولی عہد کی بن زاید سے ملاقات ایک استثنائی حیثیت کی حامل اور دوسری ملاقاتوں سے مختلف ہے، خواہ یہ اس سفر کے وقت زمانے اور تاریخ کو لیکر ہو یا سفر کی رسمیت کے اعتبار سے بہر نوع یہ سفر معمولی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی دو طرفہ ڈیل کو بیان کر رہا ہے جو ایک نئے سمجھوتے سے عبارت ہے ایسا سمجھوتہ جسکے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ایسا لگتا ہے جس میں باہمی سمجھوتے و تعاون کے سلسلہ سے ایک محاذ بنانے کی تیاری ہو رہی ہے ایسا محاذ جو یمن کی جنگ کے بعد صلح کے عنوان سے تشکیل  پا رہا ہے۔

انتخاب بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی  رپورٹ میں “الاخبار” کی تحریر کے سلسلہ سے مزید کہا گیا ہے: وقت و تاریخ کے لحاظ سے یہ ملاقات ایک مخصوص وقت میں ہو رہی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ لوگ آپسی تناو سے چھٹکارا چاہتے ہیں  اسی کے چلتے کہا جا سکتا ہے کہ امارات نے یمن میں عسکری طور پر عقب نشینی کر لی ہے تاکہ ایران کے ساتھ تار ملائے جا سکیں اور تعلقات کی راہوں کو کھولا جا سکے،  ایسی صورت حال میں جب ریاض سے ہونے والا معاہدہ دونوں ہم پیمان ملکوں کے درمیان تعلقات کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جبکہ دونوں ہی ملک عدن میں الجھے ہوئے ہیں۔

پیشتر ریاض نے بھی آرامکو ریفائنری پر حملے کے بعد حالات کو کنڑول کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یمن میں ہونے والے آپریشنز کو ۸۰ فیصد تک گھٹا دیا تھا ۔ شک نہیں ہے کہ بن سلمان اور بن زائد کی یہ ملاقات ریاض و ابوظبی کے درمیان اتحاد کے اور مضبوط و گہرے ہونے کا سبب ہے اور پے درپے شکستوں کے باوجود یہ ملاقات دو جانبہ اتحاد کے فروغ کو بیان کر رہی ہے ۔

ایسا لگ رہا ہے کہ بن زائد نے یہ قصد کر رکھا ہے کہ بن سلمان کو ایران کے ساتھ صلح پر راضی کر لیا جائے اور متحدہ امارات و سعودی عرب کے مابین تعلقات کے درمیان اقتصادی مسائل کو اولویت دی جائے اسی بنا پر بن زائد کا اس بات پر زور ہے کہ علاقے میں تناو اور کشمکش کا ہونا بن سلمان کے علاقے میں اقتصادی منصوبوں کے ذریعہ لائے جانے والی تبدیلیوں کے لئے مضر ہے  اور بن سلمان کے اقتصادی پروگراموں کے ذریعہ لائی جانے والی تبدیلی کو اس تناو سے نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

امریکہ کے اپنے داخلی معاملات میں مصروف عمل ہونے جانے اور انتخابات کے مرحلہ کے پیش نظر اسی میں سرگرم ہو جانے کے سبب بن زائد و بن سلمان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اقتصادی اہداف تک پہنچنے کے لئے کم از کم ایک سال انہیں سکون و چین فراہم رہے ۔انجام کار ان دونوں کے درمیان یہ نئی ڈیل کہ جس میں آرامکو کے پروجیکٹ میں متحدہ امارات نے سرمایہ کاری کی ہے سیاسی میدان میں انکی ایک نئی حکمت عملی کی ترجمان ہے کہ جس میں دونوں ہی ممالک ایک دوسرے سے ہم آہنگ ایسے قدم اٹھا رہے ہیں جن کے سبب یہ احتمال پیدا ہو رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران، یمن اور قطر کے سلسلہ سے مثبت پیشرفت دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔

https://www.entekhab.ir/fa/news/515084

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۳