اسرائیل میں رائے عامہ پر فوج کی اثر اندازی (پہلا حصہ)




یہ  یونیورسٹی  سے متعلق ایسے مراکز ہیں جو کہ مشرق وسطی میں اسرائیلی فوج کو رپورٹس اور تجزیے فراہم کرتے ہیں اورقابل غور بات یہ ہے کہ یہی یونیورسٹی کے افراد آگے چل کر ذرائع ابلاغ میں عربی ممالک کے مسائل کے تجزیہ کاروں اور مبصروں میں بدل جاتے ہیں جسکے نتیجہ میں مشرق وسطی  فلسطینی تنازعہ  کو لیکر اسرائیلی فوج جیسا چاہتی ہے  ویسی ہی تصویر پیش کی جاتی ہے ۔



ترجمہ خیبر ٹیم

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل کی فوج مجموعی طور پردو میدانوں میں رائے عامہ کو متاثر کر کے کسی ایک سمت میں موڑ دیتی ہے ایک میدان ہے فلسطین کے ساتھ تنازعہ اور دوسرا عربی ممالک سے تعلقات  لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوتا ہے؟

کلمبیا کی یونیورسٹی کے استاد “گل اویال “نے مشرق وسطی کے بارے میں اسرائیل کے اطلاعاتی شعبوں کے یونیورسٹی کے محققین سے تعلق کے موضوع  کے بارے میں ایک تحقیق کی اور اس تحقیق کے بموجب یونیورسٹی کے محققین اور اسرائیل  کے اطلاعات و سراغرسانی کے محکموں سے جڑے اداروں کے درمیان رابطہ یوں تو صہیونی حکومت کی تشکیل سے ہی تھا لیکن اس رابطہ میں ایک  سنجیدگی  وپختگی ۶۰ کی دہائی میں آئی جب شیلوہ[۱] نامی ایک مرکز کی تل ابیب کی یونیورسٹی میں داغ بیل پڑی ۔

یہ  یونیورسٹی  سے متعلق ایسے مراکز ہیں جو کہ مشرق وسطی میں اسرائیلی فوج کو رپورٹس اور تجزیے فراہم کرتے ہیں اورقابل غور بات یہ ہے کہ یہی یونیورسٹی کے افراد آگے چل کر ذرائع ابلاغ میں عربی ممالک کے مسائل کے تجزیہ کاروں اور مبصروں میں بدل جاتے ہیں جسکے نتیجہ میں مشرق وسطی  فلسطینی تنازعہ  کو لیکر اسرائیلی فوج جیسا چاہتی ہے  ویسی ہی تصویر پیش کی جاتی ہے ۔

اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کرنے والے دوسرے مراکز میں ایک اہم مرکز  قومی سلامتی کا مطالعاتی مرکز ہے [۲]  یہ ایک ایسا مرکز ہے جو ۲۰۰۶ ء سے تل ابیب یونیورسٹی میں ایک بیرونی مرکز کے طور پر خدمت انجام دے رہا ہے قابل غور بات یہ ہے کہ  اس مرکز کے سربراہ عاموس یاڈلن[۳] اسرائیلی محکمہ سراغرسانی کے سابق سربراہ رہے ہیں، قومی سلامتی کے اس مطالعاتی مرکز کا  اسرائیلی فوج کے ساتھ دائرہ کار عمومی مناظرات کے ذیل میں آتا ہے اور  اسی دائرہ کار کے تحت عمومی مناظروں کے حصے  میں یہاں سے فوج کو تجاویز پیش کی جاتی ہیں جن پر فوج اور اہل سیاست غور و خوض کرنے کے بعد فیصلہ لیتے ہیں ۔

اسرائیل میں یہودیوں کی رائے عامہ اور انکی سوچ میں اثر و رسوخ پیدا کرنے کا ایک اور محرک ان سلامتی و سیکورٹی وفوج سے متعلق خبروں کو کنٹرول کرنا اور ان کی نگرانی کرنا ہے  بطور مثال اسرائیل میں عمومی سطح پر لوگوں کو ۲۰۰۵ ء تک اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ ۹۰ کی دہائی میں اسرائیلی فوج در اندازی کرتے ہوئے کس حد تک جنوب لبنان میں گھسی اور کتنے اندر تک گھس کر جنگ میں مشغول رہی  یہ کام روزنامہ نگاروں اور رپورٹروں کی ممانعت کی بنیاد پر ہی ممکن ہو سکا کہ کسی کو کچھ بھی نہیں معلوم ہو سکا کہ ۲۰۰۵ء میں انکی فوج لبنان کے جنوب میں کہاں تک اندر گھسی تھی ۔

اسکے علاوہ ایک اور چیز جس کے ذریعہ فوج  لوگوں کی فکروں پر اثر انداز ہوتی ہے فوج میں روزنامہ نگاروں کی جبری خدمت ہے جسکی بنیاد پر ان روزنامہ نگاروں کی فکر فوج سے متاثر ہوتی ہے دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ و میڈیا سے متعلق بہت سے ممتاز  و مانے جانے والے افراد فوجی خدمت کو  فوج ہی سے ہی  متعلق کسی میڈیا سے وابستہ مرکز میں انجام دیتے ہیں مثال کے طور پر  خلیج فارس کی پہلی جنگ میں  معاریو[۴]  روزنامہ کے ایڈیٹر “ایڈو ڈیسنہیک [۵] ” نے ٹی وی پر کہا ” میں ہر چیز سے پہلے ایک اسرائیلی ہوں  اور ایک ایسا افسر ہوں جو اسرائیل کی رزو فوج میں  خدمت میں مشغول  ہے لہذا پہلے میں ایک فوج کا خادم اسکے بعد  کسی اخبار کا ایڈیٹر ہوں

۔ اسکے علاوہ  اسرائیلی فوج  عربوں، اور عرب پڑوسی ممالک  کے بارے میں اسرائیل کی معلومات و اطلاعات کا اصل سرچمشہ ہے۔ہارتز[۶]  اخبار سے متعلق ایک  قدیمی  نامہ نگار اور کالکالیسٹ[۷] نامی روزنامے میں کالم نگار ڈنے داني روبنشتاين [۸] کا اس بارے میں کہنا ہے :

ایک دور میں خود ذاتی طور پر خبروں کا سرچشمہ تھا اور جو کچھ رونما ہوتا اسکے بارے میں معلومات فراہم کرتا آج اسرائیل کی سراغرساں ایجنسیوں اور روزنامہ نگاروں کے درمیان طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے ، اطلاعات و خبروں کے حصول کا سسٹم مختلف علاقوں میں مشغول ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی خدمات لے رہا ہے ،ایسے الیکٹرانک  جدید وسائل موجود ہیں جو لوگوں کو یہ طاقت دیتے ہیں کہ وہ دیکھیں اور سنیں اور جہاں چاہیں بم گرائیں ایسے میں کیوں کر محض انٹرویو کے ذریعہ اور اخبار پڑھ کر ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے  [۹] اسکے لئے ہمیں بھی جدید ٹکنالوجی سے آراستہ ہونے کی ضرورت ہے۔

حواشی :

[۱]۔ shiloh

[۲] ۔ Institute for National Security studies

[۳]  ۔ Amos Yadlin۔۔ Air Intelligence Directorate, Chief of Staff of the Israeli Air Force  ۲۰ نومبر ۱۹۵۱ کو پیدا ہونے والے  اسرائیلی فضائیہ کے سابق اور اسرائیلی محکمہ سراغرسانی امن کے سربراہ ۔ تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو۔ http://www.mops.gov.il/NR/rdonlyres/96045CDF-7F49-4F6C-ADB3-232D6C5DA9C8/0/speakers.pdf

http://www.inss.org.il/experts.php?cat=0&incat=&staff_id=89

http://iaf.org.il/5674-36236-HE/IAF.aspx

[۴]     Maariv: מַעֲרִיב, ۱۵ فروری ۱۹۴۸ میں عزائیل کارلیبچ Ezriel Carlebach کے ذریعہ پہلی بار شائع ہونے کے بعد اب تک عبری زبان میں منتشر ہونے والا ایسا اخبار جو اسرائیل میں کافی مقبول ہے  ملاحظہ ہو : https://www.nytimes.com/2012/10/05/world/middleeast/concentration-and-politics-hobble-israels-newspapers.html?_r=0

[۵]  ۔ Ido Dissenehik

[۶]  ۔ ہاریتز: הארץ Haaretz  یعنی اسرائیل کیسرزمین“ایک اسرائیلی اخبار ہے۔ یہ ۱۹۱۸ء میں شائع ہونا شروع ہوا اور اس کا شمار اسرائیل کے قدیم اخبارات میں کیا جاتا ہے ۔ یہ عبرانی کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی برلنر فارمیٹ میں چھپتا ہے ، تفصیل کے لئے رجوع کریں ۔

http://www.haaretz.com/print-edition/news/aluf-benn-named-new-editor-in-chief-of-haaretz-1.376311

http://forward.com/articles/163161/israeli-media-woes-could-boost-bibi/

[۷]  ۔ اسرائیل کا اقتصادی اخبار  مزید تفصلیل کے لئے https://www.calcalistech.com/ctech/articles/0,7340,L-3724377,00.html

[۸]  دانی ربشٹائن  ۔ Danay Rabinstein  ۱۹۳۷  میں پیدا ہونے والے کالیکالسٹ اخبار کے نامہ نگار  اور عربی ممالک کے مسائل کے ماہر ، مزید

یہ اخبار  Yedioth Ahronoth Group. کی جانب سے نکلتا ہے   تفصلیلات کے لئے

https://www.calcalist.co.il/articles/0,7340,L-3716325,00.html

https://www.theguardian.com/commentisfree/2007/sep/06/dontmentiontheaword

[۹]  ۔ فصلنامه مطالعات راهبردی، نفوذ ارتش در نظام سیاسی و تصمیم گیری اسرائیل، موسوی، حامد، سال بیست و دوم، شماره اول، بهار ۱۳۹۸، ص۱۲۱-۹۹٫

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍۱۰۳