سینئر حماس رہنما کے ساتھ خیبر کی خصوصی گفتگو؛

امریکہ نے یہودی آبادکاریوں کو قانونی حیثیت دے کر ملت فلسطین کے خلاف اعلان جنگ کر دیا




مغربی کنارے میں آبادکاریوں کو قانونی حیثیت دینے سمیت فلسطین کے مسئلے کے خلاف جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اس کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ امریکی اپنے ارادوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حقیقتوں کو تبدیل نہیں کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکیوں کی جانب سے ایسے فیصلے لئے جانے کے باوجود بھی فلسطینی سرزمین صہیونیوں کی نہیں بلکہ فلسطینیوں کی ملکیت ہے۔



خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ایسا لگتا ہے کہ امریکہ فلسطینیوں کے خلاف اپنی معاندانہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ امریکیوں نے حال ہی میں غاصب صہیونی ریاست کی حمایت میں مغربی کنارے میں واقع بستیوں کو قانونی حیثیت دی ہے۔
امریکی عہدیداروں کے اس معززانہ اقدام کے خلاف علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے ، خطے اور دنیا کے بہت سارے عہدیداروں اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاریوں کو قانونی حیثیت دینے کی حمایت میں واشنگٹن کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
بہر حال، امریکی عہدے دار ابھی بھی مغربی کنارے سے دستبردار ہونے سے گریزاں ہیں اور صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو خصوصی مراعات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جس پر متعدد ماہرین اور فلسطینی سیاسی منظر نامے کے مبصرین اتفاق نظر رکھتے ہیں۔
اس مسئلے کو مزید جانچنے کے لئے، خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے رپورٹر نے اسلامی مزاحمتی تحریک “حماس” کے سینئر رہنما “اسماعیل رضوان” کے ساتھ ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جس کا ترجمہ ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
خیبر: امریکہ نے حال ہی میں ایک فیصلے کا اعلان کیا تھا کہ مغربی کنارے میں صہیونی بستیاں قانونی ہیں اور تل ابیب کے اس اقدام کی امریکہ حمایت کرتا ہے۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو قانونی حیثیت دے کر فلسطینیوں کے خلاف اپنے اس تازہ اقدام کے ذریعے ایک بار پھر اعلان جنگ کر دیا ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام در حقیقت واشنگٹن کے فلسطین مخالف اقدامات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے مزید یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ پہلے سے زیادہ فلسطینیوں کے مقابلے کے لیے جری ہو چکا ہے۔
مغربی کنارے میں آبادکاریوں کو قانونی حیثیت دے کر ، امریکہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کر دیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ماضی کی طرح صہیونی ریاست اور بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی میں اس کے غیر قانونی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ .

خیبر: امریکی سفارتخانہ کی تل ابیب سے مقبوضہ قدس منتقلی کے بعد ، مغربی کنارے کے کچھ حصے کو مقبوضہ علاقوں میں شامل کرنے اور بالآخر مغربی کنارے میں آبادکاریوں کو قانونی حیثیت دینے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکیوں نے اپنی تمام تر توانائیوں کو صرف کر دیا ہے تاکہ فلسطینیوں کا انہیں کی سرزمین میں خاتمہ کر دیں۔ اس بارے میں آپ کا کیا جائزہ ہے؟

۔ مغربی کنارے میں آبادکاریوں کو قانونی حیثیت دینے سمیت فلسطین کے مسئلے کے خلاف جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اس کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ امریکی اپنے ارادوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حقیقتوں کو تبدیل نہیں کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکیوں کی جانب سے ایسے فیصلے لئے جانے کے باوجود بھی فلسطینی سرزمین صہیونیوں کی نہیں بلکہ فلسطینیوں کی ملکیت ہے۔
لہذا امریکی صدر کے فلسطین مخالف اقدامات سے موجودہ صورتحال کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ متعدد ممالک نے مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کو قانونی قرار دینے کے حوالے سے امریکی اقدام کی مذمت کی ہے ، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں کی حقیقت نہیں بدلی۔
ہم فلسطینی قوم کی حیثیت سے ، واضح طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کو تسلیم اور قانونی حیثیت دینا ہرگز قابل قبول نہیں اور ہم اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی اور صہیونی فلسطینی عوام پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کرسکتے۔

خیبر: اس دوران ، ہم نے دیکھا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے بھی مغربی کنارے میں یہودی آبادکاریوں کو تسلیم کرنے کے امریکی اقدام کی مذمت کی ہے۔ آپ کے خیال میں صہیونیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو کیا اقدامات اٹھانا چاہئے؟

۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو امریکیوں اور صہیونیوں کے ظالمانہ اقدامات کا جواب دینا ہوگا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں صہیونی قبضے کے سینئر کمانڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

فلسطینی اتھارٹی کو چاہیے کہ امریکیوں اور صہیونیوں کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کی راہ ہموار کرے۔ فلسطینی اتھارٹی سے ہمارا یہی مطالبہ ہے۔

خیبر:امریکی مقبوضہ علاقوں میں صہیونی ریاست کی وسیع حمایت کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ واشنگٹن کے اس معاندانہ اقدام کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

بدقسمتی سے ، بین الاقوامی میدان میں ، ہم یہ مسئلہ دیکھ رہے ہیں ، اور مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ فلسطین کے مسئلے کے خلاف سازش کرنے سے کوئی لمحہ فروگذاشت نہیں کرتا ہے۔ جس کی ایک مثال فلسطینی مہاجرین کی امداد رساں ایجنسی اونروا ہے جس کے خلاف امریکہ نے بین الاقوامی سطح پر کتنی پابندیاں عائد کیں اور اس کی امداد کو روک دیا۔
در حقیقت ، امریکیوں کا بنیادی مقصد فلسطینی مہاجروں کی مالی امداد رسانی کو روکنا ہے۔ امریکہ بے گھر افراد کی وطن واپسی کے حق کے مسئلے کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے ، اور یہ غیر سنجیدہ کوشش بھی اسی تعریف کے تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔
لیکن ان سب کے باوجود ، فلسطینی عوام اپنے اسٹریٹجک آپشنز پر زور دیتے رہتے ہیں ، جن میں “واپسی مظاہروں کا تسلسل” ، “بے گھر افراد کی وطن واپسی کے حق کو حاصل کرنے کی خواہش” اور “غزہ پر محاصرہ اٹھانے کی ضرورت” بھی شامل ہے۔

…………..

ختم شد/۱۰۳