بایگانی‌های تجزیہ - خیبر

زمرہ: تجزیہ

امریکہ کا عالمی دہشت گردی کے مرکز کو جوہری تحفہ!

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی الیکشن مہم کے دوران کئی بار اس بات پر زور دیا تھا کہ سعودی عرب کو چاہئے کہ وہ امریکہ کو زیادہ پیسے فراہم کرے۔ اسی طرح انہوں نے سعودی عرب کو "دودھ دینے والی گائے" کا لقب بھی دیا تھا۔

قریب الموت امریکی ریاست کے تابوت میں آخری کیل کون ٹھونکے گا؟

ریاست ہائے متحدہ امریکہ زخمی جانور ہے جو سکرات موت (death throes) کی حالت میں دھاڑ رہا ہے اور ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ یہ ملک اپنے آپ کو بہت بڑے نقصانات پہنچا سکتا ہے لیکن وہ ان نقصانات اور اپنے اوپر لگے زخموں سے صحت یاب نہیں ہوسکتا۔ یہ امریکی سلطنت کے اذیت ناک آخری ایام ہیں۔

تکفیریت کے مذہبی جنون کے شکار معصوم بچے اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی بے حسی

اوراس ظالم کی دلوں کو دہلا دینے والی کرتوت سے ایک بار پھر جناب علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کا منظر نظروں کے سامنے گھوم گیا سچ ہے آج بھی یزیدیت کو حسینت سے ڈر لگتا ہے آج بھی اصغر کے سامنے حرملا کے پاس تین بھال کے تیر کے سوا کچھ نہیں اور یہ حسینیت کی جیت ہے ۔

وارسا کانفرنس، امریکہ و اسرائیل کو ناکامی کا سامنا ہوگا؟؟

ایران کے حوالے سے ایجنڈا ہونے کے باعث دیگر ممالک نے بھی کوئی واضح دلچسپی نہیں دکھائی، جس کے باعث امریکہ کو یہاں بھی "یوٹرن" لینا پڑا۔ اب امریکہ کی جانب سے وارسا کانفرنس کا ایجنڈا تبدیل کر دیا گیا ہے۔

تشدد اور عدم تشدد میں جیت کس کی؟

جب گاندھی جی مرنے کے بعد اس ملک میں محفوظ نہیں تو گاندھی کے آدرشوں پر چلنے والے زندہ لوگ کیوں کر محفوظ ہو سکتے ہیں ؟ اب یہ تو وقت ہی بتائے کہ تشدد اوور عدم تشدد کے نظریہ کے مابین چھڑے معرکہ میں کون کامیاب ہوگا جہاں یہ وقت کے اوپر منحصر ہے وہیں عوام کے فیصلہ پر بھی کافی حد تک اسکا انحصار ہے کہ وہ کن لوگوں کو اقتدار کی کرسی تک پہنچاتے ہیں ، گاندھی کے اصولوں پر چلتا چاہتے ہیں یا پھر ایک قاتل کو ہیروں کے طور پر متعارف ہوتے دیکھنا پسند کرتے ہیں…

تیسری عالمی جنگ ٹرمپ کی گمشدہ پہیلی

بالآخر آخرکار کہنا چاہئے کہ وائٹ ہاؤس میں رائج الوقت روش ہے جس کے دائرے میں رہ کر، ٹرمپ اور ان کے انتہاپسند ساتھیوں کی سرکردگی میں ریگن دور کی بالادست امریکی طاقت کے احیاء کی کوشش ہورہی ہے؛ اور "سب سے پہلے امریکہ" کا نظریہ اس روش کی تشکیل کے لئے منشور کا کام دے رہا ہے؛ اس سے دو رویوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے: رسمیاتی رویہ (Formalist Approach) اور محتویاتی رویہ (Content approach)۔

امریکی سامراجیت اور نظریاتی طبقہ

جعلی ریاست اسرائیل آج کل بیانات کے چوکے چھکے مار کر خوش ہو رہی ہے، وہ اپنی جھینپ مٹا رہی ہے۔ ایران کے خالص و مخلص نظریاتی طبقے نے اپنی چالیس سالہ جدوجہد میں کم از کم چار ملکوں یعنی لبنان، عراق، شام اور یمن کو مغربی بلاک کی سازشوں سے اس درجہ ضرور محفوظ کر دیا ہے کہ وہاں اب فرزندان زمین اپنی غیرت و حمیت کو امریکہ یا اس کی بچہ پارٹی کے قدموں میں رکھنے پر ہرگز تیار نہیں۔

کیا ٹرمپ پیوٹن کا گماشتہ ہے؟

ٹرمپ کی متلون المزاجی، حرص و لالچ اور ناگہانی / غیر متوقعہ فیصلے پیوٹن کے لئے عظيم ترین تزویری منافع ہیں؛ خواہ انھوں نے صدارتی انتخابات میں مداخلت کرکے ٹرمپ کی کامیابی میں کردار ادا کیا ہو خواہ انھوں نے کوئی کردار ادا نہ کیا ہو۔ گوکہ امریکہ میں بہت سوں کے لئے روس کی مداخلت مسلّمہ امر ہے اور ان کا کہنا ہے کہ "ٹرمپ پیوٹن کا گماشتہ ہے"۔

خواتین کے ذریعہ جاسوسی سے لیکر خواتین کے جنسی استحصال تک صہیونی حکومت اور اسکی کار گزاریاں

اسرائیل میں پولیس نے ایک بڑے وکیل کو جنسی روابط کے عوض عدالتی بھرتیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس وکیل کا نام نہیں ظاہر کیا گیا اور نہ ہی کیس کے بارے میں کوئی معلومات دی گئی ہیں۔ عدالت نے ان معلومات کو منظرِ عام پر آنے کی اجازت نہیں دی۔

مسلم ممالک اور صہیونی ریاست کی قربتیں

پاکستان کی سیاست اور آنیوالی حکومتوں کے حکمران عام طور پر امریکہ کے بعد سعودی عرب اور امارات کو اپنا سب سے بڑا پیشوا اور مسیحا مانتے ہیں، تاہم اس مریدی میں یقیناً پاکستان پر انہی عرب ممالک کیطرف سے یہ دباؤ بھی ضرور ہوگا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کو نرم کیا جائے۔
عنوان 1 سے 1512345 » 10...آخری »