بایگانی‌های کتب کا تعارف - خیبر

زمرہ: کتب کا تعارف

تعارف کتاب’’ ۲۲روزہ جنگ‘‘

کتاب کا مقدمہ جنگ کے کلی پہلووں جیسے صہیونی حکومت کی جنایت و تعدی، صہیونی ظلم و جنایت کا بین الاقوامی انعکاس ،غزہ کی پائداری و مزاحمت اور مظلومیت وغیرہ کو بیان کر رہا ہے ۔

تعارف کتاب “اسرائیل کی سو ق الجیشی اہمیت اور اسکے اطراف و اکناف کا جائزہ”

یہ قیمتی کتاب، ایک مقدمہ، ایک پیش لفظ اور کلی عناوین کے تحت سات فصلوں پر مشتمل ہے، مصنف نے اسی طرح کتاب کے اختتام میں ضمیمہ کے عنوان سے ایک حصہ مخصوص کیا ہے جس میں اسرائیل کی موساد اور ایرانی شہنشاہیت کی خفیہ ایجنسی ساواک کے درمیان خفیہ اطلاعات، سیاسی اور اقتصادی مشترکہ تعاون کو بیان کیا گیا ہے ۔

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز نریندر مودی کا مکروہ چہرہ بے نقاب

لبنان کے صدر مقام بیروت میں قائم زیتونہ اسٹڈی سینٹرکی طرف سے ایک کتاب جاری کی گئی ہے جس میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے تعلقات بالخصوص موجودہ انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مکروہ کردار کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

کتاب ’’جمہوریت کا اختتام‘‘ پر تنقیدی جائزہ

شاید یہی وجہ ہے کہ جان میری گیانو یہ مانتے ہیں کہ: مغربی لوگ یا بہ الفاظ دیگر مارڈرنیسم کی طرف کوچ کرنے والے بغیر کسی وقفہ کے اس راستہ پر چلتے چلتے اب تھک چکے ہیں جس نے چند صدیوں قبل ترقی و پیشرفت کی فکر کو ان کے متھے جڑ دیا تھا، چنانچہ اب ان کی یہ آرزو ہے کہ کچھ دیر وہ ٹہر کر آرام کر لیں اور پیشرفت کے لدے ہوئے اس بوجھ کو زمین پر دھر کر خود چھٹکارا پا جائیں۔

کتاب’’جمہوریت کا اختتام‘‘ پر تفصیلی تبصرہ

جمہوریت و ڈیمو کریسی میں جو طاقت ہے وہ صرف ایک مجازی طاقت نہیں ہے بلکہ ایسی طاقت ہے جو پیسہ کے بل پر اپنا اظہار کرتی ہے جہاں معاملہ پیسہ کا ہو تو جمہوریت کا حال یہ ہوتا ہے کہ عمومی مال کو خصوصی اور انفرادی سے تمیز نہیں دی جاتی شاید یہی وجہ ہے کہ رشوت کا لین دین اور مالی فساد و کرپشن مغربی انسان کے لئے پریشانی کا باعث نہیں ہے۔۔۔

کتاب”جمہوریت کا اختتام ” تعارف و تبصرہ اور ایک مختصر تنقیدی جائزہ

اس بات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ امریکہ اور نہ یورپ کوئی بھی عالمی طاقت میں تبدیل نہیں ہو سکیں گے ، لہذا بہتر یہی ہوگا کہ عالمی سطح پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے چینلوں یا چند قطبی دنیا کی بات کی جائے اس لئے کہ جس طرح موجودہ دور کی صورت حال سامنے آ رہی ہے اس کے مطابق جمہوریت عالمی سیاست کے ایک پیکر کو وجود بخشنے کے لئے ناکار آمد ہے۔

“مجھ سے جھوٹ مت بولو”

مصنف نے اپنی اس کاوش کے نتیجے میں تاہم بیس مرتبہ سے زیادہ عالمی ایوارڈ حاصل کئے ہیں جن میں برطانیہ کا سب سے بڑا ایوارڈ " برطانیہ کا اعلی ترین برطانوی صحافی ایوارڈ" اور اقوام متحدہ کا "میڈیا امن ایوارڈ" بھی شامل ہیں۔ نیز انہوں نے اپنی ٹی وی رپورٹس کی وجہ سے آسکر ایوارڈ (Oscars)، Emmy Award اور فرانس سے Reporters Without Borders Awards بھی حاصل کئے ہیں۔

اسرائیل: جمہوریت یا اپارتھائیڈ ریاست؟

روبنر کوشش کرتے ہیں اس کتاب میں تاریخی دستاویزات اور حقوقی و سیاسی تجزیوں کے ذریعے اس سوال کا جواب دیں کہ کیا مقبوضہ فلسطین میں قائم صہیونی ریاست جمہوری ریاست ہے یا اپارتھائیڈ ریاست؟

کتاب ’یہودی و پارسی ثروت مند حکمران طبقہ، برطانیہ و ایران کا استعمار‘ کا تعارف

جناب شہبازی نے یہودی اولیگارکی طبقہ کو ایک دوسرے سے جڑا ایک ایسا مجموعہ قرار دیا ہے جو یہودیوں کی قیادت کو سنبھالے ہوئے ہے اور یہ وہ اولیگارچی ہیں جو عالمی سامراج و پورپین استعمار سے گہرے روابط کی بنا پر دنیا کی چند آخری دہائیوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور پیش آنے والے واقعات میں اہم کردار ادا کرنے کا سبب رہے ہیں۔

صہیونیت کی وجہ سے: امریکی ثقافت میں یہودی -عیسائی میراث

یہ عیسائی جماعت جو یہود و نصاریٰ کی یکجہتی کو شدت پسندانہ طریقے سے ترویج کرتی ہے اس بات کی تلاش میں ہے کہ اسلام کو دونوں ادیان کے ماننے والوں کے درمیان مشترکہ دشمن کے عنوان سے متعارف کروائے۔ انہوں نے اپنے ذرائع ابلاغ اور میڈیا کی طاقت کا بھرپور استعمال کر کے اسلام، عربوں اور مسئلہ فلسطین کی نسبت امریکہ کے لوگوں کی نگاہ کو تبدیل کر دیا۔
عنوان 1 سے 41234 »