بایگانی‌های سیاست و معیشت - خیبر

زمرہ: سیاست و معیشت

“صدی کی ڈیل” کا اصل قصہ

صدی کی ڈیل فریقین کے درمیان باہمی مشاورت سے طے پانے والا منصوبہ نہیں بلکہ متکبر امریکا اور اس کے پالتو اسرائیل کی سازشی اسکیم ہے جس میں فلسطینی قوم پر صہیونیوں کے ارادے اور مذموم عزائم مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

امریکی چودھراہٹ اور ہندوستانی خود مختاری

چونکہ ہندوستان میں امریکہ و اسرائل نواز لابیاں مسلسل دونوں ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنے کے درپے ہیں ممکن ہے ہندوستان کی جانب سے ایسا کچھ سرزد ہو جائے جو امریکہ و اسرائیل کو خوش کرنے کا سبب ہو

ایرانی بہت صابر، بردبار اور ذہین ہیں بیوقوفی نہیں کر سکتے: ایرن اٹزیون

میری رائے کے مطابق، ایرانی سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت ایرانی حکومت سے بہت پہلے بدل جائے گی۔ اور ٹرمپ کے جانے کے ساتھ ہی ایک نئے کھیل کا آغاز ہوگا۔ وہ بہت صابر اور بردبار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آخر کار ایک توازن برقرار ہوگا جس میں نہ تو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ ہوگا اور نہ ہی ایرانی ایٹم بم بنائیں گے، ایرانی بہت ذہین ہیں اور ایسی بےوقوفی نہیں کرسکتے۔

نیتن یاہو کا ورثہ

صہیونی ریاست کا سیاسی نظام معیوب اور ناقص ہے اور اس کے اندر باہمی تعاون کا جذبہ ناپید ہے۔ اس ریاست کا کوئی بھی وزیر اعظم دوسروں کے ساتھ تعاون کا قائل نہيں تھا۔

ایران لیبیا ہے نہ عراق / ایران کا تاریخی تشخص بیرونی جبر کو تسلیم نہیں کرتا

سی آئی اے کے سابق اہلکار نے ایران کے سلسلے میں موجودہ امریکی حکومت کی پالیسیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنی ایک یادداشت میں لکھا: ایران لیبیا یا عراق نہیں ہے اور اس ملک کے عوام کا تاریخی تشخص بیرونی جبر کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا۔

ایران کے ساتھ جنگ کا تصور اور بےخوابی

اٹزیون نے اس مکالمے میں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے اور ایران کی طرف سے ایٹم بم کے حصول کی کوششوں اور تل ابیب پر ایٹمی حملے جیسے موضوعات کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ یہ سب محض ایک سیاسی نعرہ ہے، اور حتی اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہو بھی، وہ اسے استعمال نہیں کرے گا۔

ایران اور اسرائیل کی براہ راست لڑائی کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتا: ایرن اٹزیون

"ایران کے ساتھ جنگ ایک ایسی چیز ہے جسے میں تصور ہی نہیں کرنا چاہتا"، یہ جملہ "ایرن اٹزیون" (Eran Etzion) کا ہے جو برسوں تک یہودی ریاست کی سلامتی کونسل اور وزارت خارجہ میں کام کرتے رہے ہیں۔

اسرائیل کے تحفظ کا بہانہ اور امام خامنہ ای کا تجزیہ

امریکہ کے حکمرانوں کے نزدیک اسرائیل کا تحفظ بنیادی مسئلہ نہیں ہے، ان کے نزدیک بنیادی مسئلہ کچھ اور ہے۔

جنرل پیٹراس کی جاسوسی کی ضرورت کیا تھی؟

ان حقائق اور اسناد و شواہد کی بنیاد پر، بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ جنرل پیٹراس کی جنسی رسوائی موساد کی سازش کا نتیجہ تھی جس کے زیر اثر امریکی انتظامیہ کے اندر اسرائیل کے نہایت اہم مخالف کو اپنے اعلی منصب سے ہاتھ دھونا پڑا۔

سی آئی اے کے افیسر بھی موساد کی ابابیلوں کے پنجے میں

بدنام زمانہ امریکی یہودی ادارے آیپیک کے ساتھ بھی اس کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور اس کے مقبوضہ فلسطین کے دوروں کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں بھی امریکی ذرائع ابلاغ نے اس کے موساد کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں قیاس آرائیاں کی ہیں۔
عنوان 1 سے 3123 »