بایگانی‌های سیاست و معیشت - خیبر

زمرہ: سیاست و معیشت

امریکی سلطنت کا قطعی زوال عنقریب

اگر ہم قبول کریں کہ گذشتہ چالیس برسوں کے اہم ترین عالمی تنازعہ کو انقلاب اسلامی اور امریکہ کے درمیان تھا تو دنیا کو بھی، مغربی ایشیا کو بھی، ملت ایران کو بھی اور ولائی مسلمانوں کو بھی ایک نہایت خوبصورت اور روشن افق نظر آئے گا۔ اس قابل مطالعہ موضوع کی بنیاد پر، دنیا میں امریکہ کا انحطاط و زوال قطعی اور حتمی اور الہی اقدار کی قیادت میں، انسانی فطرت کے عین مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح کی نو ظہور قوتوں کا معرض وجود میں آنا ایک زمینی حقیقت ہے۔

امریکی سلطنت کا انحطاط و زوال یقینی

اگر تاریخ ہمیں یہی بات بتا دے کہ "ہر سلطنت (Empire) کا اپنا ایک دور ہوتا ہے" تو منہ سے بڑے سامراجی نوالے اٹھانا ایک رو بہ زوال سلطنت کے زوال کی علامت ہیں۔ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ قومیت کی بنیاد پر عالمگیر شدہ دنیا کو امریکی سرمایہ داری (American Capitalism) کے واسطے سے اپنے ساتھ ملا دیں۔

غاصب یہودی ریاست کا بادشاہ “نیتن یاہو”، جسے عربوں نے تاج پہنایا

نیتن یاہو اس مرحلے میں داخل ہوچکا ہے کہ آج وہ صراحت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ اس نے جو کچھ یہودی ریاست کے لئے کیا ہے وہ تل ابیب کے سابق بادشاہ نہیں کرسکے تھے اور اب وہ فخر کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ اس نے فلسطینیوں کو ذرہ برابر رعایت دیئے بغیر، عرب ریاستوں کے دروازے یہودیوں کے لئے کھول دیئے ہیں اور خلیج فارس کے عرب شیوخ نے یہودی ریاست کے بجائے فلسطینیوں کا مقاطعہ (بائیکاٹ) کررکھا ہے۔

خانہ جنگی کی طرف بڑھتا ہوا ہندوستان

آزادی کے بعد سے لیکر اب تک یرقانی تنظیمیں مسلسل اس تگ و دو میں تھیں کہ کسی طرح ہندوستان کے اقتدار پر ان کا تسلط ہوجائے تاکہ وہ اپنے منصوبوں کو عملی شکل دے سکیں ۔اس کے لئے انہوں نے جی توڑ محنت کی ،کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔

کیا دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ غریبوں کے جھکے سر کو اٹھا سکے گا؟

کیا یہی ہے وہ ہندوستان جسکا خواب سردار پٹیل نے دیکھا تھا کہ ایک طرف تو لاکھوں کروڑوں لوگ بھوکے مریں انکے پاس اپنے پیٹ کی آگ کو بجھانے کا ذریعہ نہ ہو تو دوسری طرف کچھ لوگ انکے ہی مجسمہ بنانے پر کروڑوں لوگوں کا پیٹ کاٹ کر اپنا پیٹ بھریں کہ ہم ہندوستان کی آہنی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں؟

جمال خاشقجی کا قتل: اردوغان کا سعودیوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل

ان تمام عوامل کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کی شدید خواہش یہ ہے کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے سے جلد از جلد توجہ ہٹ جائے۔ اور ٹرمپ کی صدارت کے دوران سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر نظر ثانی نہیں کی جائے۔ لیکن اس کو اب بہت دیر تک التوا میں نہیں ڈالا جاسکتا۔

ہندوستان میں سی بی آئی کا حالیہ تنازعہ پنجرے میں قید طوطا یا گدھ؟

پنجرے کا طوطا جب تک اپنے مالک کی گاتا ہے تب ہی تک اسکی چلتی ہے جب تک اپنے مالک کی زبان بولتا ہے تبھی تک اسے دانا پانی بھی ملتا ہے لیکن جب وہ من مانی کرنے لگے تو مالک اسے جا کر بیچ آتا ہے ، فی الحال بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے موجودہ بحران میں حکومت نے نہ صرف براہ راست مداخلت کی ہے بلکہ موجودہ سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ایک نیا سربراہ بھی مقرر کر دیا۔

ہٹلر زمانہ کے جرائم پر اسرائیل کی خاموشی چہ معنی دارد؟

جمال خاشقجی کے قتل کیس کے حوالے سے تقریبا پوری دنیا نے بن سلمان اور سعودی عہدیداروں کی مذمت کی ہے لیکن صہیونی ریاست نے ایسے مقام پر خاموشی کو ترجیح دی، ایسا کیوں؟

برصغیر کا خاص جغرافیائی ـ سیاسی محل وقوع اور علاقے پر اس کے گہرے اثرات

برصغیر کے اندرونی عدم استحکام اور اس کے جیوپولیٹیکل ممالک کے آپسی روابط کو مخدوش کرنے کے لیے مسئلہ کشمیر ہی کافی ہے۔ اس لیے کہ برصغیر کی سلامتی دو پڑوسی ملک ہند و پاک کے باہمی روابط سے وابستہ ہے۔ بھارت اور پاکستان اس خطے کے دو اہم ممالک ہیں جو برصغیر کی تقدیر کو بدلنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

یہودی ریاست کے معاشی ذرائع پر ایک نظر

معاشی تعلقات سے اسرائیل کا بنیادی مقصد ـ مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ بڑھانے کے علاوہ ـ ان ممالک کی معیشت کی مکمل تباہی اور انہیں مختلف شعبوں میں بیرونی وسائل سے وابستہ کرکے تنہا کرنا اور خطے میں اپنے اصلی دشمن "ایران" کا اثر و رسوخ کم کرنا ہے۔
عنوان 1 سے 612345 » ...آخری »