بایگانی‌های منتخب - خیبر

زمرہ: منتخب

مکالمہ/واقعہ کربلا میں یہود و نصاریٰ کا کردار

یزید کی ماں عیسائی تھی ’میسون‘ اس کا نام تھا معاویہ نے یزید کی ماں کو اپنے دربار سے نکال کر اس کے قبیلے میں واپس بھیج دیا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے غلام سے ناجائز تعلقات رکھتی تھی اور یزید بھی انہیں ناجائز تعلقات کا نتیجہ تھا جو میسون اپنے غلام سے رکھتی تھی۔

‘دائرۃ المعارف صہیونیت و اسرائیل’ کا تعارف

عصر حاضر میں مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن جیسا کہ خداوند عالم نے بھی قرآن کریم (۱) میں یہودیوں کو مسلمانوں کا بدترین دشمن قرار دیا ہے یہ یہودی ریاست ہے۔ اور چونکہ اپنی جان و مال کا تحفظ انسان پر واجب ہے اور جو شخص انسان کے جان و مال پر حملہ آور ہو اس کا مقابلہ کرنا بھی واجب ہے اس عنوان سے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے بخوبی پہچاننا اور اس کی صحیح شناخت حاصل کرنا بھی ضروری اور واجب ہے۔

یہودیت سے نمٹنے کی قرآنی حکمت عملی

یہودیوں کے جرائم کی وسعت اور ان کے مظالم و جرائم سے کافی عرصہ گذر جانے کے پیش نظر بعید از قیاس نہیں ہے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ کچھ زیادہ دور نہ ہو؛ اور سخت لڑنے والے ثابت قدم جوانوں کا ظہور قریب ہو اور ہم سب شاہد ہوں عنقریب اس ریاست کی نابودی اور قبلہ اول اور قدس شریف کی آزادی کے۔

اے لشکر یزید! یہ آگ میرے اور تمہارے مشترکہ دشمن کی بھڑکائی ہوئی ہے: امام حسین(ع)

امام حسین علیہ السلام نے روز عاشورا یزیدی لشکر کو بھی یاددہانی کرائی کہ یہ جو تم کررہے ہو اس کے پیچھے مسلمانوں کا مشترکہ دشمن ہے۔ آپ نے لشکر یزید کے سامنے آ کر اپنا آخری خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: "وحششتم علینا نار الفتن التی خبأها عدوّکم وعدوّنا؛ فرمایا: اور اب تم ایسی آگ کو ہوا دے رہے ہو جو میرے اور تمہارے مشترکہ دشمن نے بھڑکائی ہے"۔

ذبح اسماعیل(ع) سے ذبح عظیم تک یہودی ریشہ دوانیاں

یقینا جب ہم عزاداری کے ایام میں واقعۂ عاشورا کے اسباب کو جان لیتے ہیں تو یہودی کردار پہلے سے بہت زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور ہم بہ آسانی جان لیتے ہیں کہ عاشورا کی تاریخ میں تحریف کا اصل مقصد یہ ہے کہ یزید کے آقاؤں کے کردار کو چھپایا جائے ورنہ تو شیعیان کوفہ کو شہادت حسین(ع) کا ملزم نہ ٹہرایا جاتا۔۔۔

عاشوراء کی تاریخ میں تحریف کا مقصد یہودی کردار کی پردہ داری

جب ہم اموی اور عباسی منشیوں اور مستوفیوں کی لکھی ہوئی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو بڑے بڑے لکھاری یہودی نفوذ کی پردہ پوشی کرتے نظر آتے ہیں اور چلتے چلتے یہ تاریخ جب کربلا اور عاشورا تک پہنچتی ہے تو سرکاری منشیوں اور درباری علماء کی لکھی تاریخ میں یہودیوں کا کردار چھپانے کے لئے بطور مثال شیعوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے

عزاداری کی نعمت اور عزاداروں کی ذمہ داریاں

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نعمت عزاداری کے سلسلہ سے فرماتے ہیں: ’’عزاداری اور مصائب اہل بیت اطہار علیھم السلام ایک ایسی خداداد نعمت ہے کہ جو بارگاہ خداوندی میں شکریے کے شایان شان ہے

کربلا کی انقلاب آفریں بنیادیں

ہمارے لئے کربلا کا وجود ایک بہت بڑا سرمایہ ہے جو حقیقی تصور حیات سے آشنا کر کے ہمیں کیڑے مکوڑوں کی زندگی سے علیحدہ کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ہر اس جگہ کھڑے نظر آتے ہیں جہاں کسی پر ظلم ہو رہا ہو کوئی ہو یا نہ ہو کربلائی تعلیمات ہم سے یہ کہتی ہیں کہ وہاں تم سب سے پہلے پہونچو جہاں انسانیت کو تمہاری ضرورت ہو اور رخسار ستم پر پڑنے والا سب سے پہلا طمانچہ بھی تمہارا ہی ہونا چاہیے ۔

جن کے لئے سینہ چاک کرتی تھیں بعض جماعتیں، وہ یہودیوں کے چیلے نکلے!

دہشت گرد ریاست کی دہشت گرد ٹولوں کی حمایت کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، اچنبھے کی بات تو یہ ہے کہ اس ریاست نے اپنے ہمزاد سعودیوں اور کچھ دیگر کٹھ پتلیوں کے ساتھ مل کر سات سال تک شام کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن نہ تو اس ریاست کی تزویری گہرائی میں اضافہ ہوا اور نہ ہی اس کو وہ مثالی امن ملا جس کی اسے تلاش تھی۔

ہم جنس پرستی کا نیا قانون، یا فطری اصولوں کی چتا؟

عدالت کا احترام اپنی جگہ ہے لیکن اس طرح کے خلاف فطرت فیصلے یقینا ہندوستان کے زوال پذیر معاشرے کے مزید انحطاط کا سبب بن سکتے ہیں اس لئے ان تمام لوگوں کو اس فیصلہ کے خلاف عدالت میں گنجائش کی صورت میں اپیل کرنا چاہیے جو ہندوستانی معاشرہ کا حصہ ہونے کے ساتھ فطر ت کے اصولوں سے ہم آہنگ زندگی گزارنے پر یقین رکھتے ہیں ۔
عنوان 1 سے 2112345 » 1020...آخری »